Why Mind Is So Restless ? मन में इतना शोर क्यों है? Hindi Pravachan By Osho
41m 20s
یہ گفتگو ذہن کی بے چینی کے اصل اسباب پر روشنی ڈالتی ہے۔ مقرر کے مطابق ذہن فطری طور پر بے چین ہے کیونکہ اس کا کام سوچنا، تصور کرنا اور یاد رکھنا ہے۔ اسے شانت کرنے کی کوشش کرنا آگ سے ٹھنڈک مانگنے جیسا ہے۔ لوگ ذہن کو اپنا دشمن سمجھ کر اس سے لڑتے ہیں، جبکہ حقیقت میں ذہن ایک قیمتی آلہ ہے جسے ہم نے غلط استعمال کیا ہے۔ ذہن کی بے چینی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ کبھی حال میں نہیں رہتا، بلکہ ماضی کے زخموں اور مستقبل کے خوف میں بھٹکتا رہتا ہے۔ اس کا حل ذہن کو دبانا نہیں، بلکہ اسے بغیر کسی فیصلے کے دیکھنا ہے۔ جب ہم ذہن کے گواہ بن جاتے ہیں، تو اس کی توانائی ختم ہو جاتی ہے۔ مقرر تین گہری سانسوں کا ایک سادہ طریقہ بتاتے ہیں: پہلی سانس میں دیکھیں کہ اندر کیا ہو رہا ہے، دوسری میں سوچیں کہ یہ خیال کہاں سے آیا، اور تیسری میں پوچھیں کہ کیا میں یہ خیال ہوں؟ اس طرح ذہن ایک لمحے کے لیے رک جاتا ہے۔ حقیقی سکون ذہن سے باہر نکلنے میں نہیں، بلکہ اسے پریم سے قبول کرنے میں ہے۔ ذہن کوئی دشمن نہیں، بلکہ ایک بے چین دوست ہے جسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔
تم کہتے ہو منشانت کیوں نہیں ہوتا اور میں تم سے کہوں گا منشانت اسلی نہیں ہوتا کیوں کی من کا سوابھا ہی اشانتے ہیں تم آگ سے ٹھندک مانگر ہے ہو تم سمدر سے یہ مانگر ہے ہو کی وہ لہریں اٹھانا بند کر دے تم ہوا سے کہ رہے ہو کی اب بہنا مطر اور جب ہوا بہتی ہے تو تم پر اشان ہو جاتے ہو پہلی بات تو یہ سمزلو من تمہارہ سترو نہیں ہے من تو ایک ینتر ہے بہت سمدر بہت اپیوگی لیکن تم نے اسے مالک بنادیا ہے اور جیسے ہی ینتر مالک بن جائے جیوان گلامی ہو جاتا ہے من کا کام ہے سوچنا اور تم چاہتے ہو ہنا سوچے من کا کام ہے کلپنا کرنا اور تم چاہتے ہو وہ کلپنا نہ کرے من کا کام ہے اسمرتی لنا اور تم چاہتے ہو وہ اسمرتی نہ لائے یہ ایسا ہی ہے جیسے تم آخوں سے کہو دیکھنا بند کر دو بس شانت رہو آخوں کی شانتی دیکھنے میں ہی ہے من کی شانتی سوچھنے میں نہیں دیکھنے میں ہے ہاں میں چیک وہی کہی رہا ہوں جو تمہ چاہوں کہے گا من کو شانت کرنے کی کوشیش من کو ارشانت کر دی ہے تم پوسٹے ہو من شانت کیوں نہیں ہوتا اصل میں تم پوسٹ رہے ہو میری بھیتر اتنا شور کیوں ہیں اور میں تمہیں بتاوں یہ شور تمہرے بھیتر نہیں ہے یہ تمہرہ تاداد میں ہے تم نے من کی آواج کو اپنی آواج مان لیا ہے من میں ایک ویچار اٹھا اور تم کہہ دیتے ہو میں سوچ رہا ہوں من میں ایک چنتہ اٹھی اور تم کہہ دیتے ہو میں پرشان ہوں من میں ایک اچھا اٹھی اور تم کہہ دیتے ہو مزہی چاہیے یہی مل گرانتے ہے من میں بیچار اٹھتے ہیں جسے سڑک پر گاریہ چلتے ہیں لیکن تم سڑک نہیں ہو تم رہگیر نہیں ہو تم تو آکاش ہو آکاش میں بادل آتے ہیں پر آکاش ہوں سے گندہ نہیں ہوتا آکاش میں بیجلی چمکتے ہیں پر آکاش گھائل نہیں ہوتا آکاش میں تفان بھی ہو پر آکاش کی گھرائی میں ایک مون بنارتا ہے تم نے اپنے بھیتر کے آکاش کو بھلادیا ہے نیچ اور کیوں بھلادیا ہے کیوں کی بچپن سے تمہیں ایا سکھایا گیا کی سوچھوں کیوں کی سوچھنے سے سفل ہو جا گے تمہیں یہ نہیں سکھایا گیا کی دیکھوں کیوں کی دیکھنے سے تم جاغ جاغے من کی اشانتے کا پہلہ کارن ہے بھبسی من شانت کبھی نہیں ہوتا کیوں کی وہ ہمے شا آگے بھاکتا ہے ابھیتو یہاں بیٹھ ہو پر مان کہا ہے کہیں کل میں کہیں اگلے مہینے میں کہیں اگلے سال میں کبھی تم سوچھتے ہو میرے ساتھ کیا ہوگا کبھی تم سوچھتے ہو لوگ کیا کریں گے کبھی تم سوچھتے ہو میرے سفل کیسے بنوں کبھی تم سوچھتے ہو میں ہار گیا تو اور میں تم سے کہتا ہوں بھبسی ایک بھرم ہے وہ کبھی آتا ہی نہیں جب وہ آتا ہے تو ابھی بن جاتا ہے تم جسکشان کو ابھی کہتے ہو وہی ستے ہے واقی سب من کی کہانی آہے کبھی طائے ہے اپنی آسے کلپناے ہے من میں ایک فیلن چل رہی ہے اور تم اسی میں کھو گئے ہو اور تم کہتے ہو من شانت کیوں نہیں ہوتا تم نے کبھی دیکھا ہے جب تم کسی سندر درشک کو دیکھتے ہو کچھ کشان کے لیے من رکھ جاتا ہے جب تم کسی پھول کو سچ میں دیکھتے ہو تو بیچار دھی میں ہو جاتے جب تم سورج دوبتے دیکھتے ہو تو اچانک بھی تر ایک مون اتراتا ہے جب تم بچے کی ہنسی سنتے ہو تو کچھ پل کے لیے منٹ ہے یا تمہرے لیے سنگ کیت ہے من کی شانتی منز نہیں آتی بسطیتے سے آتی ہے پر تم اپسطیت سے درتے ہو حاتھ تم درتے ہو کیوں کی اپسطیت کا ارت ہے اب تم اپنی جھوٹی پہشان میں نہیں رہاپا ہو گئے اب تم اپنی نکلی نام پڑھ ایمیز پرٹشتا ان میں نہیں چھے پاؤ گئے اب تم سیدھے جیوان کے سامنے کھڑے ہو جاغے ننگے سرل سود من اشانت اسلی ہے کیوں کی وقت تمہے سچھای سے بچاتا ہے من تمہری سرکچہ βیوستہ ہے من تمہرے گھاںوں پر پٹی ہے من تمہرے در کا کوچھ ہے تم جیتنے اندر سے درے ہو من اتنا ہی جادہ کام کرے گا میں ایک چھوٹی سے کہانی کا ایک آدمی جنگر میں جارہا تھا رات ہو گئی اچانک اسے لگا کی کوئی اس کے پیچھے ہے وہ تیج چلنے لگا در بڑھا اس نے پیچھے دیکھا کچھ نہیں پر من نے کہا کوئی ہے اب مان قلپنا کرنے لگا سر ہو گا داکو ہو گا بھوت ہو گا وہ دورنے لگا وہ ہاپنے لگا اور جب وہ گھر پہنچا تو بھی کام پر ہا تھا تم پوچ سکتے ہو اس کے پیچھے سچھ میں کوئی تھا میں کہتا ہوں نہیں پر اس کے بھیتر جو منتھا وہ ہی پریاpt تھا مان اپنے ہی بھوت بنادتا ہے اور فیر تو مان سے کہتے ہو شانت ہو جا لیکن مان کا تا ہے کئی سے شانت ہو جا میری تو آدتھی بھاگنے کی ہے مان اشانت اسلیہ نہیں کہ تمہری جندگی میں سمسے آئے ہیں مان اشانت اسلیہ ہے کیوں کی مان سمسےہ پیدا کرنے والی مشین ہے تمہری پاس جو ہے اس سے مان کبھی سنتوش چنے ہی ہوتا اگر تمہری پاس ایک ہے مان دو چاہتا ہے اگر دو ہے مان دس چاہتا ہے اگر دس ہے مان ایک سو چاہتا ہے مان کی ترشنہ انتہین ہے اور تم اسے مہتو اکانکشہ کا کر سمان دے دیتے ہو تم اسے پریرنا کہہ کر سجاتے ہو اصل میں یہ ایک روگ ہے نام بدل دینے سے روگ بویتر نہیں ہو جاتا مان کی اشانت کا دوسرا کارن ہے ایتت من پیچھے بھی بھگتا ہے اور آگے بھی وہ ورطمان میں کبھی نہیں رہتا ایتت من کا قبرستان ہے جہاں وہ بار بار جا کر اپنے گھاووں کو قرے دتا ہے کسی نے اپمان کیا تھا مان اسے دو رہتا ہے کسی نے دھوکھا دیا تھا مان اسے فر سے جیتا ہے کسی نے پیار نہیں دیا تھا مان اسے کی شکائت کرتا ہے اور تم سمجھ دے ہو کی تم سوچ رہے ہو نہیں تم گھاو چاٹ رہے ہو گھاو کا سوگھا ہو ہے وہ دھان مانگتا ہے اور مان کو پتا ہے اگر تم جاگ گے تو گھاو ٹھیک ہو جائے گا تمان تمہیں گھاو دکھاتا رہتا ہے میں تمہیں ایک سوٹ ردوں بہت سرل پر کران دکھا رہے جب بھی کوئی بچا رہے اس سے لڑنا مطھ صرف اسے دیکھ ہو تم کہ ہوگے بس اتنا میں کہت آہ ہو بس اتنا دیکھنے میں قرانتے ہے کیوں کہ دیکھنے سے دوری بنٹی ہے دیکھنے سے تم گواہ بنٹے ہو اور گواہ بنٹے کا ارد ہے تم مان نہیں ہو جب تم کسی بیشار کو دیکھتے ہو تو دو چیجیں ہو جاتی ہے پہلی بیشار دھی میں ہونے لگتا ہے کیوں کہ اسے اورجا تمہارے تادات میں سے ملٹی تھے تو دوسری تم پہلی بار اپنے بھیتر ایک الق ستتا کا سوات لیتے ہو جو بیشاروں سے پر ہے اور وہی ستتا دھیان ہے دھیان کوئی قریع نہیں ہے دھیان کوئی سادھنا نہیں ہے دھیان کوئی تپ نہیں ہے دھیان تمہاری پر کرتی ہے تم بچے تھے تم دھیان میں تھے تم ندی کے کنارے گھنٹوں کھلتے مان نہیں تھا تم پتھر ایک اٹھے کرتے مان نہیں تھا تم اکاس دیکھتے مان نہیں تھا پھر سماج نے تمہیں مان بننے کی دور دے دی اور مان پیدا ہو گیا مان ساماجک ہے مان ادھار ہے مان دوسروں کی آوازوں کا سنگر ہے اس لیے تم اگر سچ میں مان کی شانتی چاہتے ہو تو ایک بات ساف کرلو تم مان کو بضل کر شانت نہیں کر سکتے مان کو بضلنا بھی مان کی چال ہے تم صرف مان کے پارجہ سکتے ہو لیکن تم کہتے ہو مان شانت نہیں ہوتا تم اے دھیان کی ایسے کروں یہی تو چال ہے تم کہتے ہو پہلے مان شانت ہو پھر دھیان کروں گا اور میں کہتا ہو پہلے دھیان کروں پھر مان شانت ہو گا اور پھر میں یہ بھی کہتا ہو مان شانت ہو گا یہ جروری نہیں پر تم شانت ہو جا ہو گے میں تمیں فرق سمجھاتا ہو مان شانت ہو جا یا بھی کہتی ہے لیکن تم شانت ہو جا ہو یہ تم ہرہ سبھاو ہے مان تو لہر ہے تم سمجھ رو سمجھ رو کو روک نہیں سکتے سمجھ رو کو ہونے دیتا ہے اور سمجھ رو پھر بھی سمجھ رو تا ہے تم اپنے بھیتر یہ ہے ہونے دینہ سیکھ لو مان میں ویچار اٹھے ٹھیک ہے مان میں چنتہ اٹھے ٹھیک ہے مان میں گساؤ ٹھیک ہے مان میں کامواصنا اٹھے ٹھیک ہے دیکھو بس دیکھو اور دیکھو دیکھتے
तो देखे तो पावे विशार आते है, तिकते है, जाते है, वे अस्थाी नहीं है, वे मेहमान है, तो नहीं है। तो लेकि तो लेकि तो ले नहीं है। गे कि तो ले नहीं है। तो ले नहीं है। तो ले नहीं है। तो ले नहीं है। तो ले नहीं है। तो दास हो अविकार करो तो तो ले नहीं है। तो ले नहीं है। तो ले नहीं है। तो ले नहीं है। तो ले नहीं है। तो ले नहीं है। तो ले नहीं है। आपने दो ले नहीं है। तो ले नहीं है। तो ले नहीं है। तो ले नहीं है। नहीं है। नहीं है। नहीं है। नहीं है। नहीं है। नहीं है। नहीं है। नहीं है। आपन्ट तो नहीं है। आपन्ट तो नहीं है। नहीं है। नहीं है। नहीं है। नहीं है। नहीं है। नहीं है। नहीं है। तूं वों तूं वों तूं नहीं है। तूं वों नहीं है। नहीं है। नहीं है। नहीं है। नहीं है। ஷaar mhe bhi moun. اہمون جنگل میں بhaagkkar nahi-milita. اہمون گفاommhe nahi-milita. اہمون بھیتر جاجنے سے milita hai. میں تم hê. انت میں اتنا hê gaunga. Moun ko shant karne ki issha bhi. Moun hi hai. Moun se paraja ane ki pyaas hhi dh can hai. tou moun ko shant mutkaru jago. جاگتہی toum paoge. Moun aapni jaga hai. اور تم اپنی جگa ho. اور جہا تم ho. وہاں سانتی ہے. وہاں سکون ہے. وہاں. پرمات ما ہے. چونکی پرماتنا کوئی وقتی نہیں پرمون ہیں. اور تم اسی مون کا ایک کل ho. تم نے کبھی دیکھا جب کوئی وقتی کہتا ہے. مجھے شانتی چاہی. اس کے بھیتر ہی شانتی چھپی ہے. کیوں ki شانتی کی مانک کا ارد ہے. تم شانتی کو بھی وستو کی طرح چاہتے ہو. تم شانتی کو بھی پکڑنا چاہتے ہو. اور جو چیز پکڑی جاتی ہے. وہاں مرتو ہو جاتی ہے. شانتی کوئی وستو نہیں ہے. شانتی کوئی پرنام نہیں ہے. شانتی کوئی پرستکار نہیں ہے. شانتی تمہری اتما کی ہوا ہے. لیکن تم لگاتار بھیتر کچھنا کو جوڑ رہے ہو. اور جوڑ نے سے شانتی نہیں آتی گھتانے سے آتی ہے. شانتی کا راستہ جما کرنے کا راستہ نہیں. چھڑ نے کا راستہ ہے. چھڑ نے کیا ہے. کیوں کہ تم بھیتر بہت کچھ لے کر چل رہے ہو. جی سے کوئی وقتی اپنے کندھے پر بوج اتھایا چلے اور کہے مجھے حلکہ پنچھا ہی ہے. حلکہ پنچھا ہی ہے تو بوج اتارنا پڑے گا. لیکن تم بوج کو اور سجاتے ہو. اسے جمیداری کرتا بھیا پرٹشتھا سکسیس کہتے ہو. نام بضلنے سے بوج حلکہ نہیں ہوتا. میں تم سے ایک بات بلکل صاف کو من شانت نہیں ہوتا. کیوں کہ تم سویم شانت نہیں ہو. اور تم سویم شانت نہیں ہو. کیوں کہ تم نے اپنے بھیتر دو بھا کر دیے ہیں. ایک ہیسا ہے. جو جیسا ہے. ویسا ہے سچا. پرکرٹک. سہج. اور دوسرا ہیسا ہے. جو جیسا ہونہ چاہی اس کی قلب نہ کرتا ہے. تم اپنے واسٹویک ہونے کے کلاف ید کر رہے ہو. تمہرے بھیتر ایک بچہ ہے جو رونہ چاہتا ہے اور تمہرہ سماج کہتا ہے پروش روتی نہیں. تمہرے بھیتر پریم ہے جو بھنا چاہتا ہے. اور تمہرہ آنکار کہتا ہے جو کومت. تمہرے بھیتر سچ ہے جو بھولنا چاہتا ہے اور تمہرے راجنی تکہتی ہے. چب رہو. فائدہ دیکھو. یہ لگتا ریود ہے. اور یود میں کوئی شانت نہیں ہوسکتی. میں یا نہیں کہ رہا کی سب کچھ کر دالو جو من کہے. میں یا کہ رہاں دیکھو. کی تمہرے بھیتر کہا کہا جوٹ کی دیوارے خڑی ہے. جہا جوٹ ہے وہاں تناو ہے. جہا تناو ہے. ہے وہاں شور ہے. اور وہی شور تمہے چاہت نہیں لین دیتا. من سامت نہیں ہوتا. کیوں کی من میں ایک نرنتر کمینٹیٹر بیٹھا ہے ایک ٹیکا کار. وہ ہر چیز پر ٹیپنی کرتا رہتا ہے. تم چل رہے ہو. وہ کہتا ہے لوگ دیکھ رہے. تم بیٹھ رہے ہو. وہ کہتا ہے سمہے برواد ہو رہا ہے. تم ہنس رہے ہو. وہ کہتا ہے جادہ مطنس حلکے لگوگے. تم رو رہے ہو. وہ کہتا ہے کمجور مدک. تم پریم کر رہے ہو. وہ کہتا ہے کہی دھوکھا نہ ہو جائے. تم ایک لے ہو. وہ کہتا ہے. کچھ کر. نہیں تو پیچھے رہ جائے گا. یہ کمینٹیٹر ہی من کی اشانتے ہے. اور ایک اور بات. یہ کمینٹیٹر تمہرہ نہیں ہے. یہ ادھار ہے. یہ پیدا کی آواز ہو سکتے ہیں. ماء کی سکشک کی. سماج کی. پڑو سیوں کی. سب کا جور. تم نے سب کی باتیں بھیتر رکوٹ کر لی ہے. اور اب وہ تمہے چلاتے ہیں. تم دھان میں بیٹھتے ہو. اور سوسٹے ہو. اب تو شانت ہنا چاہی ہے. کس نے دالہ. سماج نے. دھان بھی اب سماج بن گیا. دھان بھی پرٹی ہو گیتا بن گیا. لو کہتے ہیں میں ایک گھنٹے دھان کرتا ہوں. کوئی کہتا ہے میں دو گھنٹے کرتا ہوں. کسی نے بھی پشینہ کر لی. کسی نے کندلینی. کسی نے قریع. اور تم بھیتر تلنا کرنے لگتے ہو. جہا تلنا ہے. وہاں شانتی نہیں. شانتی کا دوار تلنا کے باہر ہے. تم جب کسی ندی کے کنارے بیٹھے ہو. ندی سے تلنا نہیں کرتے. تم جب شانتیکتے ہو. چانت سے پرٹیوگیتا نہیں کرتے. تم جب فل سوں ہتے ہو. فل سے ایر سے نہیں کرتے. بس. ویسے ہی اپنے بھیتر بیٹنا سیک ہو. بنا تلنا. من شانت نہیں ہوتا. کیوں کہ تم اپنے بھیتر ہی. جج بن کر بیٹھے ہو. نیایادھیش. تم ہرکشان. کھود کو دوستیتہ راتے ہو. مجھ میں یا قمی ہے. مویسا نہیں ہوں. میں گلت ہوں. مجھ سدھارنا ہے. ایر لگتار. آتم ہنسا ہے. اور آتم ہنسا سے مون نہیں اترتا گھا اترتے. میتر. میں تم سے کہتا ہوں. اگر تم حسچ. میں شانتی چاہی تو اپنے پرٹی کرنا سیک ہو. اپنے پرٹی پریم سیک ہو. کرنا کا ارد ہے. جو بھی ہے. اسی دیکھنا بھی نہ دند دیئے. میں تمہ ایک بہت سکش مرحس سے باتاہتا ہوں. دھیان کی پوری کلا اسی پرٹی کی ہے. من کو شانت نہیں کرنا ہے. من کو سمجھنا ہے. اور جیسے ہی من سمجھا جاتا ہے. وہ شانت ہو جاتا ہے اپنے آپ. من کو دوانے سے وہ شانت نہیں ہوتا. من کو رکنے سے وہ شانت نہیں ہوتا. من کو لڑ کر حرانے سے
وہ شانت نہیں ہوتا, من کو دیکھنے سے وہ شانت ہوتا ہے اور اس دیکھنے کی لیے میں تمہیں ایک دوسرا پریوگ دیتا ہوں بہت سرل لیکن یہتے ہیں کہ آپ نے جیوان کا نکشا بضل سکتا ہے دین میں کبھی بھی جب آپ بہت بیچین ہو بس تین گہری سانسے لو پہلی سانس کے ساتھ دیکھو ابھی میری بھیتر کیا چل رہا ہے دوسرای سانس کے ساتھ دیکھو یہ بیچار کہاں سے آیا تیسری سانس کے ساتھ دیکھو کیا میں اس بیچار ہوں اور پھر بس رک جاو تم چاوں کو گے کیوں کی تیسرے پر اچھنے پر من اٹکتا ہے من کے پاس اطر نہیں ہوتا اور جب من اٹکتا ہے ایک شان کے لیے مون پر قتھ ہوتا ہے اس مون کو پکڑنا نہیں ہے بس پہچان لنا ہے کہ یہ میرا گھر ہے من شانت نہیں ہوتا کیوں کی تم ہے مون کی آدت نہیں ہے تمہرہ جیوان شور میں پلہ ہے باہر بھی شور اور بھیتر بھی شور اگر اچانک مون ہو جائے تو تم گھرہ جاتے ہو لوگ مون سے درتے ہیں کیوں کی مون میں وی کھت سے ملتے ہیں اور کھت سے ملنا سب سے خطرناک ہے اہنکار کے لیے اہنکار دوسراوں میں ویسٹ رہ کر جندہ رہتا ہے اہنکار چاہتا ہے بھیڑ چرچا گپشپ سوصل میڈیا tullna razniti مون میں اہنکار پکھلتا ہے اسی لی مون مون سے بھاکتا ہے اب میں تمہے بتاتا ہوں مون کی سب سے بڑی چال اور یادی تم اسے سمج گئے تو آدھا کام ہو گیا مون تمہیں سا کل میں رکتا ہے کل دھیان کروں گا کل جلدی اٹھوں گا کل بدلوں گا کل سے νیا جیوان کل سے ابرمچرر کل سے سادھنا یہ کل کبھی آتا نہیں اور اسی کل کے کارن تمہرہ جیوان τلتا رہتا ہے سانتی کبھی کل نہیں ہوتی سانتی ہمے سا ابھی ہوتی ہے اسلے میں کہتا ہوں یہ دی تمہ دھیان کرنا ہے تو ابھی یہ دی تمہے جاگنا ہے تو ابھی یہ دی تمہے بضلنا ہے تو ابھی اور ابھی کا ارث ہے بھانے گر جائیں مان بھانے بناتا ہے کیونکی بھانے اس کے لیے بھو جن ہے وہ کہتا ہے آج سمینہ نہیں ہے آج مود نہیں ہے آج پرستیتیس سہی نہیں ہے آج گھر میں شور ہے آج لوگ پرستان کر رہے یہ سب مان ہے اور میں تم سے کہتا ہوں دیان کے لیے پرستیتی نہیں چاہی ہے دیان کے لیے تمہرہ نرنے چاہی ہے تم کہتے ہو مان شانت نہیں ہوتا تو میں کیا کروں میں کہتا ہوں مان کو ہونے دو تم ساکشی بنوں کبھی کبھی مان بہت شور کرے گا کبھی کبھی مان بہت اشلیل بھی ہو جائے گا کبھی کبھی مان بہت حنسک بھی ہو جائے گا تم درنامت یہ سب دبائے ہوئے ہی سے ہیں جب تم پہلی بار جاگتے ہو تو اندھرہ جاگتا ہے کیا آپ تم نے آنکے کھولی ہے پہلے بھی اندھرہ تھا لیکن تم سوے تھے یہ دیان کی شروعات ہے شروعات میں مان جاگتا افنے گا کیا آپ تم سے اندھن نہیں دی رہے وہ آخری کوشیس کرے گا وہ آپ نے درائے گا وہ آپ نے بھٹکائے گا وہ آپ نے کہے گا یہ سب بکار ہے چھور بس دیکھو اور مصکوراتوں میٹر میں تم سے یہاں بھی کہوں گا تمہرے مان کی عشانتی کا ایک گہرہ کرن عدھورہ پن ہے تم بہت سے چیجیں شروع کرتے ہو پر پورا نہیں کرتے تم بہت سے ریستے بناتے ہو پر پریم نہیں کرتے تم بہت سے باتے سوستے ہو پر جیتے نہیں اور ہر عدھورہ پن بھیتر ایک گاٹ بن جاتا ہے وہی گاٹ رات میں تمہرے سپنے بن جاتی ہے وہی گاٹ دین میں تمہرے چندہ بن جاتی ہے اسی لے میں کہتا ہوں جو کرو پورا کرو جو بولو سچ بولو جس سے پریم کرو پوری طرح پریم کرو ریم کرو عدھورہ جیوان مان کو عشانت کرتا ہے اور ایک اور بات تمہرے اور جا گلد دیسا میں بہرے ہے تمہرے اور جا پوری طرح پر جانت کرتا ہے لیکن تم اُسے چندہ میں بہرے ہو تمہرے اور جا پریم کریے بنی ہے لیکن تم اُسے ایرشہ میں بہرے ہو تمہرے اور جان رتی کے لیے بنی ہے لیکن تم اُسے دویس میں بہرے ہو اور جا جب گلد دیسا میں جائے تو وہ ہوش بن جاتی ہے اور جب صحید دیسا میں جائے تو وہی اور جا آنند بن جاتی ہے کہ ہوں اپنے جیوان میں کچھ رجن لاؤ گاو, ناچو, لکھو چتر بناؤ بانصوری بجاو باگوانی کرو کچھ بھی لیکن سریزن کرو من کا شور تو بہت کم ہو جاتا ہے جب اور جا بہنے لکتی ہے کیوں کہ من کا شور اکسر رکی ہوئی اور جا کا دھوانا ہوتا ہے اب ایک اتین تمہت تو پون بات جو میں تم سے کہنا چاہتا ہوں تم شانتی کو گمبھیرتا سمستے ہو اور یہ ایک بھاری بھول ہے شانتمن کا ارث گمبھیر جہرہ نہیں شانتمن کا ارث پتھر بن جانہ نہیں شانتمن کا ارث حسی کا مر جانہ نہیں وستویک شانتی میں تو ایک بالک کی مصقان ہوتی ہے وستویک شانتی میں تو ایک نرد تھی ہوتا ہے وستویک شانتی میں تو ایک کلکلہ ہات ہوتی ہے لیکن تمہر اتتاقتت سادھ گمبھیر ہیں اداز ہے بھاری ہے اور تم سوستے ہو یہی شانتی ہے نہیں میٹر یہ دمان ہے دعان تمہ حلکہ بناتا ہے دعان تمہی طرل بناتا ہے دعان تمہی سنگیت بناتا ہے اور یہی سنگیت بھیتر کی شانتی ہے اب میں اس ہیسے کی انت میں تمہے ایک اور پریوک دینا چاہتا ہے جو سیدھیں سیدھیں مان کی جڑ پر چھٹ کرتا ہے دین میں جبے تم کوئی کام کرو پوری طرح ہوئی کرو کانا کھو تو صرف کھانا کھو ناو تو صرف ناو چلو تو صرف چلو چائپیو تو صرف چائپیو بیچ میں فول نہیں بیچار نہیں کل نہیں صرف یہی کشان اسے میں کہتا ہوں ایک چتتتا مان اشانت اسلی ہے کیوں کہ تم ہزار دشاؤ میں بٹے ہو تم ایک سادھ بہت کچھ ہو اور کچھ بھی نہیں جب تم ایک ہو جاتے ہو شانت اپنے آپ اتارتی ہے اور یاد رکھنا شانتی تمہرے پریاز سے نہیں ہیتی شانتی تمہرے اپریاز سے آتی ہے مان جتنا دباؤ گے اتنا اچھ لے گا مان جتنا پکرو گے اتنا فیس لے گا مان جتنا روکھ گے اتنا تیج بھا گے گا بس دیکھو بس جاغو بس اپس تھیت ہو جاؤ اور دھرے دھرے تم پاؤ گے مان ابھی بھی آئے گا لیکن وہ تمہیں ہی لائے گا نہیں مان بعدل ہو گا اور تم آکاس اور جب آکاس کو یاد کر لیا فیر چاہے کتنی بھی آندھی آئے بھیتر ایک مان بنارتا ہے ایک شاشوط آنانت پرم مان وہ ہی تمہرہ ستی ہے متر اب میں تمہیں اس بندو تک لی جانا چاہتا ہوں جہاں پرشن صرف سمجھ نہیں رہ جاتا انوبہ بن جاتا ہے کیوں کی ستی کو سن لینہ سرل ہے مان لینہ بھی سرل ہے پر جینا جینا تو کرانتی ہے اور مان شانتی سے نہیں درتا مان کرانتی سے درتا ہے شانتی تو مان بھی کبھی ادھار لے لے تھا ہے تھوڑی در کے لئے لیکن جب تم سچمج جاغنے لگتے ہو تو مان کی ستیت اٹھتنے لگتے ہیں اور ستیت اٹھتنے سمجھ مان انتیم بار اپنی پوری تاقتلگاتا ہے اسی لیے ایک بات میں تمہیں پہلے ہی اسبشت کردو جب تم بھی تر اتروں گے سرواتی دینوں میں مان کا شور کم ہونے کے بجائے بڑ بھی ستت ہے اور یہ اچھا سنکی تھے کیوں کی اب تم بھاگ نہیں رہے اب تم شپ نہیں رہے اب تم دیکھ رہے ہو اور جو بھی دواتھا وہ بہا رائے گا جسے تم کسی کمرے کو سالو بات کھولو تو دھول اڑتی ہے دھول پہلے بھی تھے پر ہل نہیں رہی تھے تم نے درواجا کھولا ہوا چلی تو دھول دکھائی دینے لگی دھیان ہوا ہے اور مان کے بھیتر جما دھول بیچار واسنای در اڑھوری اچھای پورانے اپنان پورانی چیوتے سب اڑنے لگیں گے تم در نہ مطھ اڑنے دو یہ اڑنا ہی سپھائی ہے لیکن یہاں مان ایک بہت سوکش مچال چلتا ہے وہ کہتا ہے دیکھو دھان کرنے سے تو پرسانی بار گئی پہلے تو اتنا سور نہیں تھا پہلے بھی تھا میڈ ربس تم بھی ہوش تھے اب تم ہوش میں آ رہے ہو اور میں تم سے کہتاہوں ہوش کا پہلہ انبھو اکسر تکلیف دیتا ہے کیوں کی اب تمہیں اپنا جھوٹ دکھنے لگتا ہے اب تمہیں اب تمہیں اپنی نکلی جندگی دکھنے لگتے ہے اب تمہیں اپنے مقاطے دکھنے لگتے ہیں یہی کارن ہے کی لوگ دھان سے بھاگ جاتے ہیں وہ تھوڑیف
کہ یہ دیر بیٹھے ہیں, پھر کہتے ہیں یہ میری بس کا نہیں. اور میں جانتا ہوں یہ بس کا نہیں. کیوں کہ انہوں نے پوری زندگی اپنے بھیتر سے بھاگتے ہوئے بھیتای ہے. بھیتر رکنا انھیں دراتا ہے. میٹر بھیتر رکنا سیکھو اور یا سیکھ نے کہ اسیروات ایک چھوٹے سے ستھ سے ہوتی ہے. منکو شاند کرنے کی جرورت نہیں ہے. منکو سمجھے کی جرورت ہے اور سمجھ کے لئے سب سے بہلا قدم ہے. منکو سننا. لیکن اس میں پھنسنا نہیں. ایک بھی دیادرکھو. منکو سننا جاگ ربتا. من میں پھنسنا. نین دے. من میں ویچار اٹتا ہے. تم سن لیتے ہو. ویچار اٹھا. بس اتنا. لیکن تم کیا کرتے ہو. تم بیچار کو پکڑ لیتے ہو. پھر دوسرا بیچار. پھر تیسرا. اور پھر تم ایک کھانی میں بہتے ہو. یہی تو منکی ندی ہے. اور تم ہر بار اس میں گر جاتے ہو. دھان کا ارد ہے. ندی کی نارے بیٹ جانا. ندی بہتی رہے. تم کی نارے بانے رہوں. اور ایک دینے سا ہوگا کہ ندی کا بہا دھی مہ پڑ جائے گا. کیوں کہ اس میں گرنے والا کوئی نہیں بچا. ندی کا بہا دتوہری گرنے کی آدت سے تیج ہوتا ہے. تم گرتے ہو. پانی اور افنتا ہے. تم نہیں گرتے. پانی شانتھونے لکتا ہے. اب میں تمہیں من کی اشانتی کا سب سے گہرہ سو دکھانگا. جہاں تک لوگ بہت کم جاتے ہیں. من اشانت نہیں ہے. من بھے بھیت ہے. اور بھے کے پیچھے مول کارن ہے. مرتیو. من اس لیکن کیوں کہ من جانتا ہے کہ وقتشان بھنگور ہے. من ایک پرکریا ہے. من کو ٹکنا نہیں آتا. من بضلتا رہتا ہے. اس لیکن ہمیں سا انشت ہے. تمہارے بھیتر جو نہیں بضلتا وہ ساکش ہے. لیکن تم ساکشی کو بھل کر بضلتی چیجوں سے چپک گئے ہو. اور بضلتی چیجوں سے چپک نہ ہی بھے ہے. تم جوان ہو من کہتا ہے. بڑھا پہ آئے گا. تم سوست ہو من کہتا ہے. بیماری آسکتی ہے. تم پریم میں ہو. من کہتا ہے. βیوک ہوگا. تم سفل ہو من کہتا ہے. گیراوٹ ہوگی. یہ من کہا گنیت ہے. پر یہ گنیت تمہیں نرک میں لے جاتا ہے. اور من اس در سے بچنے کے لیے ایک ایک اور چال چلتا ہے. وہت تمہیں ویس رکھتا ہے. بیستتا من کی سب سے بڑی دوہ ہے. لیکن یہ دوہ بیماری نہیں ہٹتی. صرف درد کو دواتی ہے. تم دن بھر بیست ہو کام. فون. شور. باتچیت. اور رات کو جیسے ہی ایک لے ہوتے ہو. من دور نے لتا ہے. کیوں کی اب کوئی بیستتا نہیں. اور پھر تم پوسٹے ہو. من شانت کیوں نہیں ہوتا. من شانت اسلی نہیں ہوتا. کیوں کی تم نے. اسے کبھی پریم سے دیکھا ہی نہیں. ہاں. پریم سے تم ہمیں سا مان کو شترு مانتے ہو. دوست دیتے ہو. من بہت خراب ہے. من برا گندہ ہے. من بہت بٹکاتا ہے. اور میں تمیں ایک گھری باتکاتا. جس سے تم لڑتے ہو. وہی مجبود ہو جاتا ہے. جس سے تم بھاکتے ہو. وہی پیچھا کرتا ہے. جس کو تم دواتے ہو. وہی بھیتر او بلتا ہے. من کا اپچار یوتھ نہیں. وہی پر میتری ہے. جب بیچار آئے. تو ایسا مطق ہو. بھاک ایسا کہو. آو دیکھ لتے ہیں. یہ چھوٹہ سفرک تمہیں بطل دے گا. کیوں کی یوتھ میں تم تناؤ بنتے ہو. میتری میں تم ساکچی بنتے ہو. اب میں تمہیں دھیان کی انتم کنجی دوں گا. اور یہ کنجی بہت سادہران ہے. پر اس میں سب کچھ سمائے ہے. تمہیں من کے پار نہیں جانا. تمہیں من کے پہلے جانا ہے. من کے پار جانا ایک بھاشا ہے. سچی ہے. من کے پہلے ایک سرل نشکلوس چیتنا ہے. بچپن میں تم تھے. ابھی بھی وہی ہے. بس من کی پرٹوں سے دھاکی ہے. تمہیں کچھ بن نہ نہیں ہے. تمہیں کچھ ہٹا نہ ہے. تمہیں کوئی نہیں اوستان نہیں پیدا کرنی. تمہیں پورانی نید چھوڑ نہیں ہے. اور یہ چھوڑ نہ کی سے ہوتا ہے. تم شائد سوشتے ہو. میں چھوڑ دوں گا. لیکن میں چھوڑ دوں گا. یہ بھی آہنکار ہے. چھوڑ نہ گھٹ نہ ہے. کر نہ نہیں. تم صرف جاک سکتے ہو. جاگنا ہی چھوڑ نہ ہے. اب میں تمہیں ایک بہت سرل درش دے تھا. اب نے بھی طرح اسے روز دیکھنا. تم راستے پر چل رہے ہو. کوئی کتھا پیچھے بھاںکتا ہے. اگر تم پیچھے مڑکر بھاگنے لگو وہ اور بھاںکتا ہے. اگر تم نہ مڑو وہ دھیر دھیرے تھاک جاتا ہے. من وہی کتھا ہے. من بھاںکتا ہے بیچار. بیچار بیچار. اور تم مڑتے ہو. تادات میں. اور من. اور بھاںکتا ہے. تم نہ. مڑو بس چلتے رہو اپنے ساکشپن میں. من تھاک جائے گا. من. تمہرے بینا چل نہیں سکتا. من. ان. تم دیتے ہو. یہی انتم سمجھے. اور اب. میں تمہے ایک ایسی بات کہوں. جو تمہرے پورے جیوان کو سیدھا کر دے گی. من. کبھی پوری طرح سانت نہیں ہو گا. اور اس کی ضرورت بھی نہیں ہے. یہ حسن کرتے ہو. آشچر یہ ہو گا. تم سوستے ہو. تو پھر سادھنا کسلے. سادھنا اسلے نہیں. کی من. شانت ہو جائے. سادھنا اسلے. کی تم من. تم من. لہرے رہے. لیکن تم دوبو نہیں. من. لیکن تم خو نہیں. من. کامناہے اٹھے. لیکن تم گلام نہ بنو. یہی سوطندرتا ہے. یہی مکتی ہے. لوگ سنستے ہیں. مکتی کا ارت ہے. کی کچھ بھی بھیتر نہیں اٹھے گا. یہ گلت ہے. لہرے اٹھیں گے. بھا اٹھیں گے. لیکن اب ان میں تمہاری پہچان نہیں ہوگی. یہ فرق میں تمہے بہت صاف شبضوں میں بتاتا. بہلے. من میں крوض ہوتا. تم крوضیت ہو گے. ابو. من میں крوض ہوتا. تم نے دیکھا. крوض گزر گیا. پہلے. من میں چنتائی. تم چنتا بن گے. رات خراب ہو گی. ابو. من میں چنتائی. تم نے دیکھا. چنتا بعدل بن گجر گجر گیا. پہلے. من میں واسنا اٹھے. تم مجبور ہو گیا. ابو. من میں واسنا اٹھے. تم جاگرک رہے. قور جا سود ہوئی. اب تم جانوں گے. کی من کے بھیتر بھی اٹھنے والی چیجے. تمہے گیراتی نہیں. بلکی تمہے اور جاگرت کرتے ہیں. کیوں کی ویتھنہرے لیے اب بھیاس بن جاتی ہیں. گواہی کا ہوش کا. اور اب میں اس بندو پر آتا ہوں. جہا میں تمہے سب سے جروری بات کہنا چاہتا ہوں. من کی اشانتی کی جڑ ہے تمہرہ گلت کےندر. تم صر میں جی رہے ہو. تم گڑنا میں جی رہے ہو. تم ترک میں جی رہے ہو. اور جیوان ترک سے نہیں چلتا. جیوان بہاو سے چلتا ہے. جیوان سنگید ہے. گنیت نہیں. تم نے اپنے بھیتر کا حردے چھوڑ دیا. حردے کا ارد, پریم نہیں. حردے کا ارد, جیوان, کے پرتی بھروصہ, من کا ارد, سندے ہے. حردے کا ارد, شدھا. اور, شدھا کا ارد, کسی بھگوان پر بھی سواز نہیں. شدھا کا ارد ہے, کی جیوان تمہارا شدھر نہیں. جس دنیہ بھروصہ, اُٹرتا ہے. من کی آتی اشانتی قر جاتی ہے. کیوں کی من کا سور کیا ہے. صرف صرف چھا کی کوسیس. من کہتا ہے. ساوضحان, بچ کر, نکسان, جو کبھی کبھی ہے. اپیوگی ہے. جب سدھاک پار کرنے ہو. ریکن تم نے سے جیوان کی استھای اوستھا بنا لیا ہے. اور استھای ساوضحانی استھای چندہ. اب انتم سوٹر سنو بہت سٹیک بہت وگیانک. من کا سور جتنا کم ہوگا اتنا تمہیں سنی کا سواج بھی لے گا اور سنی سے تم در ہوگے. کیوں کی تم نے کبھی سنی کو جانا نہیں. تم بھی تر خالی پندیک ہوگے. اور تم اسے طرنط بھرنا چا ہوگے. پھونٹھال ہوگے. گانے چلا د ہوگے. کسی سے بات کرنے لگے. کسی چیز میں اولچ جاؤ ہوگے. یہی تم روچ کرتے ہو. پر دھیان کہتا ہے. سنی سے مطبھا گو. سنی میں بیٹھو. سنی میں پکھلو. اور پھر ایک دن تم پاؤگے سنی کالی پند نہیں ہے. سنی پورتا ہے. وہ. نتین نے سنی. نوتین نے. کچھ بھی نہیں. لیکن سب کچھ اسی سے نکلتا ہے. وہی گرب ہے. وہی صروت ہے. اور اسی صروت سے سانتی آتی ہے. جو کسی کارن پر نربر نہیں. یہ شانتی اسیلے محان ہے. کیوں کی یہ پرستی رہیت ہے. تم گرب ہو. تب بھی شانتی. تم امیر ہو. تب بھی شانتی. تم پرشنزیں.
تبھی شانتی, تم نندہ میں ہو, تبھی شانتی, تم سفلتہ میں ہو, تبھی شانتی, تم اصفلتہ میں ہو, تبھی شانتی, اور یہی اسلی دھیان ہے, اب میں تمہیں آخری بعد کہ کر چھوڑتا ہوں اور اسے تم اپنے بھی ترپتھر پر لکلنا, من شانت نہیں ہوتا, کیوں کی من کو شانت کرنا ہی لکش ہے, جب لکش گر جاتا ہے, شانتی پر قتھ ہوتی ہے, تم شانتی کو خوشتے ہو اسی لیکھ ہوتے ہو, تم شانتی کو پکڑتے ہو اسی لیکھ چھوڑتی ہے, تم صرف جاغو, بس دیکھو, بس اپس تھیت ہو جاغو, اور تبھی مشانک پاغے, من تو دور کہیں چل رہے, جیسے باجار کی آواجے اور تم اپنے گھر میں ہو, بھی تر ایک دیپک کی لاؤ کی طرح اس تھیر, مون, شانت, آنندت اور اس آنند میں, میں تمہیں آسی روا دے تھا ہوں, اپنے من سے لڑنا بند کروں, اپنے من کو سمجھوں اور اپنے بھی تر کے ساکشی کو پہچانوں, کیوں کی وہی ساکشی تمہری, اصلی آتما ہے اور وہی آتما شانتی ہے,
Podcast Summary
Key Points:
ذہن ایک آلہ ہے، دشمن نہیں۔ اسے مالک بنا لینے سے زندگی غلامی بن جاتی ہے۔
ذہن کی فطرت سوچنا ہے، اسے روکنا ممکن نہیں۔ اسے شانت کرنے کی کوشش ہی اسے بے چین کرتی ہے۔
حقیقی سکون ذہن کو دبانے سے نہیں، بلکہ اسے بغیر فیصلہ کیے دیکھنے سے آتا ہے۔
ذہن ماضی اور مستقبل میں بھٹکتا ہے، موجودہ لمحے میں نہیں رہتا۔ یہی اس کی بے چینی کی وجہ ہے۔
ذہن کی بے چینی کا اصل علاج ذہن سے لڑنا نہیں، بلکہ اس کا گواہ بننا اور اسے پریم سے دیکھنا ہے۔
Summary:
یہ گفتگو ذہن کی بے چینی کے اصل اسباب پر روشنی ڈالتی ہے۔ مقرر کے مطابق ذہن فطری طور پر بے چین ہے کیونکہ اس کا کام سوچنا، تصور کرنا اور یاد رکھنا ہے۔ اسے شانت کرنے کی کوشش کرنا آگ سے ٹھنڈک مانگنے جیسا ہے۔ لوگ ذہن کو اپنا دشمن سمجھ کر اس سے لڑتے ہیں، جبکہ حقیقت میں ذہن ایک قیمتی آلہ ہے جسے ہم نے غلط استعمال کیا ہے۔ ذہن کی بے چینی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ کبھی حال میں نہیں رہتا، بلکہ ماضی کے زخموں اور مستقبل کے خوف میں بھٹکتا رہتا ہے۔ اس کا حل ذہن کو دبانا نہیں، بلکہ اسے بغیر کسی فیصلے کے دیکھنا ہے۔ جب ہم ذہن کے گواہ بن جاتے ہیں، تو اس کی توانائی ختم ہو جاتی ہے۔ مقرر تین گہری سانسوں کا ایک سادہ طریقہ بتاتے ہیں: پہلی سانس میں دیکھیں کہ اندر کیا ہو رہا ہے، دوسری میں سوچیں کہ یہ خیال کہاں سے آیا، اور تیسری میں پوچھیں کہ کیا میں یہ خیال ہوں؟ اس طرح ذہن ایک لمحے کے لیے رک جاتا ہے۔ حقیقی سکون ذہن سے باہر نکلنے میں نہیں، بلکہ اسے پریم سے قبول کرنے میں ہے۔ ذہن کوئی دشمن نہیں، بلکہ ایک بے چین دوست ہے جسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔
FAQs
کیونکہ من کا فطرت ہی سوچنا اور بھاگنا ہے، اور تم اسے شانت کرنے کی کوشش کر کے اسے مزید بے چین کر دیتے ہو۔
من کو شانت کرنے کی کوشش مت کرو، بلکہ اسے دیکھو اور اس کا مشاہدہ کرو۔ دیکھنے سے من خود بخود شانت ہو جاتا ہے۔
دھیان تمہیں من کا گواہ بناتا ہے، جس سے من کی لہروں سے دوری بنتی ہے اور شانت ملتی ہے۔
بھوک (مستقبل کی فکر)، ماضی کے زخموں کو چاٹنا، اور موجودہ لمحے میں نہ رہنا۔
نہیں، من کو دبانے سے وہ اور بھی زیادہ بے چین ہو جاتا ہے۔ اسے دیکھنا اور قبول کرنا ہی راستہ ہے۔
تم آسمان کی طرح ہو، اور من بادل کی طرح۔ بادل آتے جاتے ہیں، لیکن آسمان ہمیشہ شانت رہتا ہے۔ تم من نہیں ہو، تم اس کے گواہ ہو۔
Chat with AI
Loading...
Pro features
Go deeper with this episode
Unlock creator-grade tools that turn any transcript into show notes and subtitle files.