Go back

Vannirahi - 5 | Horror Tape | V. K. Rawat | Hindi Horror Story

26m 0s

Vannirahi - 5 | Horror Tape | V. K. Rawat | Hindi Horror Story

یہ متن ایک پراسرار اور خوفناک کونے کے گرد گھومتی کہانی کا خلاصہ پیش کرتا ہے۔ سمیتی نامی لڑکی اور اس کی گونگی ماں کو تفتیش کے لیے لایا جاتا ہے، جہاں افسران ایک مخصوص کونے کے بارے میں پوچھتے ہیں جو ان کے گاؤں میں واقع ہے۔ سمیتی بتاتی ہے کہ اس کونے کو لوگ دیوتا سمجھ کر پوجتے تھے، لیکن درحقیقت یہ ایک خطرناک مخلوق کا مسکن ہے۔ یہ مخلوق انسانوں کی بری یادوں اور صدمات پر پرورش پاتی ہے، انہیں ہلاک کرتی ہے اور پھر ان کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ سمیتی کی ماں نے اس کی پوری کہانی ایک کتاب میں لکھی ہے، جس کے مطابق یہ کونا انتہائی گہرا ہے اور اس میں گرنے والا کوئی شخص زندہ واپس نہیں آتا۔ تفتیش کار اس کونے کی اصل حقیقت، اس کی تخلیق کی کہانی اور اسے تباہ کرنے کا طریقہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آخر میں، فوجی دستے اس جگہ کو بند کرنے کے لیے کارروائی کرتے دکھائی دیتے ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ خطرہ محض مقامی نہیں بلکہ وسیع تر ہے۔

Transcription

2711 Words, 11418 Characters

Urdu
کمراہ بڑا نہیں تھا نہ کوئی کھڑ کی نہ کوئی تصوی ہے بس ایک ٹیبل ملکل سینٹر میں اور ٹیبل کے سامنے ایک قرسی اُس قرسی پر بیٹھی تھے کہ فورتر پمر ٹی سے بطیس کے بیچھے چہرا شانت پر آکھوں میں حلکی حلکی نیدھے تھاگان جیسے وارت بہتہ تھاکی ہوت کافی راتوں سے سوی نہ ہو وہاں پر بیٹھیوی تھی پر کہیں کوئی دکھنے را تھا کبن کے باہر اس ٹیبل کے اچوڑی کرے تھے اُن کے ساتھ دو آفیسرس اور ٹھوڑے پیچھے ابھی اور ٹوڑ ٹوڑ اس ٹیبل کے حد کچھ فیلس کو دیکھ رہے تھے جو اس لیڈی کے رلیڈیڈ تھے تو یہ کافیسر راتا اور کہتا ہے سر جس آپ نے کہا تھا ہم نے نے دھون لیا ان کا نام ہے سمیتی نے کی پر ایڈرس ان کا دلیڈیڈ تھا اسون کر ہے دیکھ دم سے سرپریز وی اور بھولے دلی پر یہ تو بہا رہتی تھے نہ کیا انہوں نے اپنے ایڈرس چین کروا ہے یہ اس پر آفیسر ہاں بھولتا اور کہتا سر انہوں نے جیسی وجہ کا چھوڑی یہ دلیمیں شفٹ ہوگے یہ اپنی معا کے ساتھ وہاں پر آہتی ہیں یہ اسون کر بھی ایک دم سے چاہوں کیا اور بھولہ معا کے ساتھ تو ان کی معا کہاں پر ہے جس پر آفیسر کہتا ہے اہ ان کی معا تو بھی رسٹروم میں آرام کر رہے ہیں یہ اسون کر بھی کے چہرے پر حلکی سے مزکا نہیں وہ بھولہ اپنی کیا کریں گے کہ ان کی مہا کو کافی کچھ پتا ہوگا کیا وہ مہا پر پہلے سے رہیے ہیں تو ہمیں ان سے بات کرنے چی ہے میں تو کہتا میں دولوں سے بات کرنے چی ہے جس پر آفیسر کہتا سوری بٹے پاسے بل نہیں کیوں کی مہتر گونگی ہے وہ کچھ بول نہیں سکتی یہ اسون کر کوٹویل نے کہاں کوئی بات نہیں سومیتی سے بات کرتے ہو سکتا میں جو جانکاری چاہی وہ نی سے مل جانے ان کی مہا کو آرام کرنے بے سبن کی کافی ایج ہو چکی ہوگی تو سر چلے کوٹویل نے ہیڈ کی طرف دیکھا جنوں نے ہاں میں سرلا ہے دروازا کھلہ ایک چورٹی کوٹویل اور بیشیک اندراتے اور ان کے ساتھ وہ دونوں آفیسرس بھی انہیں دیکھ کر سومیتی کوئی اکسپریشن نہیں دیتی جیسا وہ جانتی ہوگی آجنا کل یہ ہونے والا تھا وہپنی نظریں سیدی اٹھا تیے اور ہیڈ کی طرف دیکھ دیکھ دیکھ دیکھ ہیڈ ایک فائل سامنے رکھتے اور بہتی فارمل میں بھولتے سومیتی تم اس کاؤں میں رہتی تھی تم نے وہ کاؤں چھوڑ دیا پر بیچے چھوڑی اپنے ایک دہری اس کاؤں میں کافی کچھ پڑھل چکے اس کاؤں میں کافی کچھ پڑھل چھوڑے اور مجھلے اکتا کہی تم یا تمہاری مادہ کے لابہ اور کوئی اس کاؤں کا زنتہ پچھا ہے ہم اس کاؤں کے بارے میں جھانا چاہتے کیوں کہ مہاپر جو بھی جا رہے مہرہ جا رہے اور باکی تو تم جانتے وہاں کی کہانی ہے یہ ابھی شے گئے اب یہ اپنے دوسٹوں کے ساتھ وہاں پر گیا تھا اس کے تووں دوسٹوںہ رہے گئے اور تب یہ نے تمہاری دائری میں لیتے اور تب یہ نے تمہارے بارے میں پتا چاہتا تھا دیکھو میں سیڈی پاکے تھا تمہاری جان کو کوئی بھی خطرہ نہیں ہے یہ جو تم جان کری ہمیں دو کی یہ تیسی غلط ہاتھوں میں نہیں جا رہی ہے ہم سرگار کے لے کام کرتے اور ہم اسے بند کرنا جاتے اس پور کو سیل کرنا جاتے کیوں کہ ہم نے جاتے یہ جو بنڈ رہی ہے یہ آگے اور پڑھیں یہ دوسٹھ پر خطرہ بن جائے تم سمجھ رہے ہو کہ تم نے بھی اپنے قوائے ہیں تمہیں یہ آشا کرتا ہوں کہ تم ہمیں سب کچھ ستھ ستھ پتا ہو جو بھی تم جانتی ہو یہ سب سن کر سمیتی نے گہری ساہسلی τیبال پر خبپانی پیا اور پولنا شروع کیا آپ تو سب کچھ جانتے ہیں دائری تو آپ نے پڑی ہوگی میں جو بھی جانتے تھے میں نے سب دائری میں لکتے ہیں اس کے لابہ مجھے سادہ کچھ نہیں پتا میرا بھائی سب سے پہلے پتلا تھا اس سے پہلے ہم پسی کہانیہ مانتے تھے پر امپر امانتے تھے کہ جب بھی امارے گاومے کوئی مر جاتا دین میں ہم اسے طرحن چلاہ دے اور گرات میں مرتے تو گاوم کے سبھی لوگ اپنے گھروں میں چھپے رہتے کوئی بہار نے نکھتا کیوں کہ وہ مرہ انسان باپی ساتا ہے ہم اس میریت شریع کو بھی چھپا کر رکھتے کہیں وہ سے لینا جائیں اب یہ پر امپرہ چلتی رہی سارا کچھ ہوتا رہا پر جب سے میرا بھائی پتلا پھر پاوان پھر تھی رہے گاوم کے سارے لوگ پتلنے لکے باکی تو سب دائری میں لکھایا ہے کیسا وہ نے سب کو مار نہ سیکھا اور کسی طرح میں اور میری ماب بچ کرمہ سے بھا گی میری ماب بھول سکتی دیں پر ہم نے پنے ایتنے گواتی ہے وہ مون ہو گئیں تب سے وہ کچھ بھولتی نہیں ہے بس کھوی رہتی کسی طرح ہم پر ایہ گزارہ کریں دلی میں ہم کسی مزیبت میں نہیں فاصنا چاہتا میں بہت کچھ دیکھا جس پر ابھی آگیا تھا پر بھولتا ہے دیکھ سومتی میں نے تمہری دری پڑی اور سب کو بتا اس میں کیا لکھا تھا جو تم بھول رہی ہو ساری باتے اسمتی ہمیں ہوں سب کچھ پتا ہے اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ تم بہت سے چھیزوں سے گزری ہو کیا میں نے پپنے دو دو اسٹوں کو ہا پر گھویا ہے سب کوش اپنی آکھو سے دیکھا میں تو اچھیں ان کے ساتھ بہت پر جا چھا ہوں ہا پر ان بہن نے رائیوں سے ہم نے لڑائی کی ہے پر نتی جا کچھ پنی آگیا تھا ہم بسے جانتا چاہتے ہیں کہ بھنٹے کی وہن کی کہانی کی ہے یہ شروک اپسے ہوا اور کوئی نہ کوئی تو فاکلور ہوگی لوگ اتا ہوگی جو پر امپرا کریں آگے بڑھی رہتی ہے ہر جو چیز ہوتی اُس کا کوئی نہ کوئی اسٹروٹر ہوتا ہے اور ہم اس کا اسٹروٹر تو ملاک جنگل میں کوئی اُس کوئی کی کیا کہانی ہے اُس سے بنایا کیس نے کیوں کہ وہ بنایا ہوا ہے کوئی اور اُس کوئی کے اندر سے اِتاکت بہا رہتے ہیں وہی ہے وانڈ رائی بناتے ہیں تو ہمیں جانا ہے کہ وہ کوئی کیس نے بنایا اور اُس کوئی کی کیا کہانی ہے کافی دے ہیں سمیتی سوشتے رہی کوئی وہ تو کبھی گئی نہیں تھے کافی دے سوچنے کے بعد وہ بھولتی ہے اب اس کوئی کے بارے میں مجھے تو نہیں پتا کچھ کی میں کبھی جنگل میں گئی نہیں نہ ہمارے گاہوالے جنگل میں اندر تک کسی کو چھانے دیتے ہیں تو مجھے نہیں پتا پر میری ممی کو ضرور پتا ہوگا جس پر کورٹوال نے کہا پر آپ کی ممی گھون کی ہے وہ میں کیسے پتایں گی کی وہاں پر کیا ہے اور اس کوئی کی کہانی کی ہے ہمیں جو اکشن لینہ ہے اس کے لئے اس کوئی کے بارے میں میں پتا ہونہ چی ہے ہمیں درونہ دایا تھا پر اس کے پر جا کر وہ ٹھوٹ کیا اب اس کے انتر کیا ہم نہیں جاتے پر ہمارہ جاننا بہتی ضروری ہے جس پر سمیتی کہتی ہے میری ما پھلے بھول نہیں سکتی پر پر لک سکتی ہے آپ نے لیکھر آئے بہن سے باہت کرتی پر ہاں وہ لیکھیں کی پاہڑی بہشہ میں اور کوئی بات نہیں میں آپ کو ترسلٹ کر کے باتاتوں گئے جس سمیتی نے کہا ویسای کیا جہا سمیتی کی ماتا کو ہم پر لائے گیا جن کے امر کافی تھی وہ لکڑی کے سحارے چل رہی تھی ایک کورسی اور لگائے گئے جس پر سمیتی کی ماتا بہتی سمیتی ان کی لوکل انگوچ میں اپنی ماتا سے بات کرتی ہے جس پر اس کی ماتا ہامی بھرتی اور پورفیسر وہ نے کافی اور پیل لگر دیتے ہیں جس کے بعد وہ لکھنا شروع کر دی ہیں کافی دیر تک وہ لکھتی رہی ہیں حید کوٹویل اور ابھی کے چہرے پر چنٹا ساف ساک دکھای دی رہی تھی کیا سچ پتا چل پائے گا کیا کہانی ہے کیا ہے وہ دماؤ گھوم رہتا بسوں گا وہ اس کی چڑ تک جانا چاہتے اور جل سے جلد کچھ کرنا چاہتے کیا جو کنس پر اسی تیوریز اب بن رہی تھیں وہ کہینہ کہیں لوگوں کو اس کوئی کی اور اس کاوں کیوں رہ کرشت کر رہی تھیں لوگ پہڑوں میں کھوم نے لگے تھیں ایلگ لگ لوگ ایلگ لگ نوز والے اس جگہ کو کھوچ رہی تھیں اگر گلتی سے مہاپر کوئی بہت کیا ایلگ اپتوں نے سے کیوتی لگایا یہ پرتب بھی ایک نوز پن سکتی ہے کہ آپر سے کیوتی کیوں ہیں شاہت یہی وہ چکا ہے اس لے جل سے جلد کچھنا کچھنا کرنا ہی ہوگا سمیتی کی ماتا نے سہری چیزلی کی کافی تیر تک اس کابن میں ایک شانتی پسری رہی ہر کسی کے چہرے پر چلتا تھیں ہر کوئی جاننا چاہتا تھا اس کوئی کراس کیا ہوس میں سب چیزے کشتر بعد کلم رکی وہ کافی سمیتی کو پکراتی اور سمیتی نے پرنا شروع کیا وہ ایک کوئا نہیں ہے وہ ایک شراپ ہے جسے ہم سب بگوان کے قربہ مانتے تھے اس کی پوجہ کرتے تھے پر جب ہمارے سام نے اصلے تایو اس کی تو ہم تنگ رہے ہمارے کاؤ میں باہر سے کوئی نہیں آپا اور ہم بھی کاؤں سے باہر نہیں جاتے ہرے کاؤں کی ہرے جنجاتی کی ہرے کی سمیتا ہے کہ آلگل کچھ نیم ہوتے ہیں پنم پر آئے ہوتے ہیں اون پر آم پر آوں کے انوصار ہم ایکی گاؤں میں رہے ہیں ایدھر ہمارے شادی آہو جاتی ہیں اور ہم رہے رہے کر اسی گاؤں میں رہے جاؤں میں رہے ہیں ہمارے لے گاؤں کو چھوڑ نہ مطلب اپنی مٹی سے دوگہ کرنا ہے ایسی میں بو اس گاؤں میں پلی پڑی ہیں اسی گاؤں میں رہی ہیں اور میرے سارے پوروچ اسی گاؤں میں رہے ہیں یہ بس میں کہانیہ لگتے ہیں میں ہس کہانیہ کھو کلی پر آم پر آئے آج کی ایواؤں کو لگتے ہیں جیسے کی میری بچوں کو لگتے ہیں جیسے کی میری بچوں کو لگتے ہیں جیسے کی میری بچوں کو لگتے ہیں وہ مجھے پتاتی تھیں کہ جیسے کی میری بچوں کو لگتے ہیں جیسے کی میری بچوں کو لگتے ہیں جیسے کی میری بچوں کو لگتے ہیں جو باکی لوگ تھے اس گریوے شکس کے پاس آئے تو پتہ چلا کہ گڑڑڑھا ہے وہاں پر اور شدیسی وجہ سے وہ گریب گیتے تھا وہ گڑڑھا کیس چیز کہ ہے اور اس کی کیا کہانی کسی کو نہیں پتہ تھا وہ چاروں شکسوں سے دیکھنے لکے ایک نے دندہ اٹھایا اور اندر تک دھاہلے دندہ ختم ہوگئے پر وہ گڑھا نہیں وہ کافی گہرہ تھا اور اس کی گہرائی وہ نام نہ چاہتے دیکھنا چاہتے کہ اس کی نیچے ہے کہ جو اجیب تریکے سے ہوا باہر آ رہی اور اجیب سے تاکت کو پیدا کر رہی ہے جیسے جیسے سومتی پڑتی جا رہی تھے سب دہان سے سنتے جا رہی تھے آگے سومتی پڑتی ہے اس گہرائے کو ناپنے کے لئے ان ان ایک پتھر پر دوری کو باتھا اور نیچے فیکھا دوری ختم ہوگئے پر وہ گہرائے ختم نہیں ہوگئے جب دوری واپس خیچی گئی تو جلی واپس آئی پتلا بہتھر نہیں تھا اس میں اب ان چارو شکس کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ امیں کرنا کیا چاہی ہے اور ان اے وہاں پر گٹھا خود نہ شروع کیا اسے اور چاہڈا کرتے اونے لکتا ہے کہ شاہی دیجو گٹھا یہ دنیا کے دوسری طرف چاہ کر کھلتے یا تو اس گٹھے کے اندر کو ای دیوے تاکت ہے دیوے تاکت ہے جس کے اگر ان پر کرپا ہو جائے گی تو جسے پہلے کتیم میں ہوتا تھا انہیں گٹھا خود نہ شروع کیا کافی گہرے تک گئے پر اس کے گہرائی کافی زاادہ دی یہ بات کہوں میں پہلے کہوں کے لوگوں سے آ کر دیکھنے لکے پھر وہاں پر کوئے کا کارو سے دیتیا کیا جس کے ہم پوجہ کرنے لکے جو کہ اس کے اندر سے کچھ اجیب سے چیز بہا رہا تھے جو ہوا میں چھل میں لاتے رہا تھے سب کچھ سمان نے چل رہا تھا پر تب تک جب تک کوئی وہاں پر جا کر مرا نہیں وہ مرا بس کے بعدو زندہ ہو کر وابی سایا وہ اس کوئی کی تاکہ تہسی تھے کہ وہ مراے کو کھا لیتی اور اس کا پرٹی بیم بناتی تھے اس کا پرٹی روپ جو گھاں میں وابی سا تھا اور فسا کر وابیس اس جگھا لیکر جا تھا اور کسی پہانے سے مارتا تھا وہ جو بھی تاکتی وہ انسانوں سے ونچتی انسانوں کی یادوں پر وہ پر وہپنا آہر پورا کرتی اور وہ نہیں یادوں کو اپنا لے دی اس لے جب وہ مارے گاں میں وکھو نہیں خوزہ تو اس نے مارنا سی کا وہ انسانوں سے سیکتی پر انسانوں کی وہ بری یادوں پر وہ زادہ فیڈ کرتی ان کی بری یادوں کو ان کے ٹراما کو ایسانی چیزوں کو وہ اپناتی ہے اور ایک نیکٹی بروب پہر لیکر آتی ہے یہ سومتیوں نے سرل بہشہ میں سمجھا ریتی وہ جو کوئا تھا وہ انساب چیزوں کی جاد تھا پر کھر آگے سومتی پڑھتی ہے اور اس کوئے کی بھی ایک سیمہ نردھارتی اس نردھارت سیمہ کے اندریوش کی تاکت رہتی اس لے میری بیٹی مجھے مہاں سے یہاں لیاں پر آج میں میری زہین میں وہ کوئا ہے وہ گاں ہو ہے گاں کے لوگ میں نے وہ کوئا دیکھا ہوا ہے میں گای تھی دین کے بگتے اس کے اندریسے کچھ پاہر نتلتے ایجیبسا اور وہاں کیا ہوا بہتی پتلی ہوتی اس کے اندری کیا ہے بگوان جانے پر گاہوں کا ہر ایک سک چاننا چاہتے اس کے اندری ہے کیا اس لے میں ایک بار ایک شکس کو برسی سے بانت کا رندری بھیجا بھی تھا یہ سون کر سف کے کان کھڑھیں گے کہ ایک انسان اس کوئے کے اندری کیا تھا آگے کیا ہوا سومتی پڑھتی ہے وہ انسان رسی سے بندہ ہوا تھا اندر چاہتا کیا وہ گہرائے ختم نہیں ہو ری دی رسی ختم ہو گے پر جب وہ سے واپسو کھیچ رہی تھے تو سب کو حلکہ لگنا اینسان کا بار محسو سے نہیں ہو رہتا اور جب رسی بہر آئی تو انسان نہیں تھا رسی جلی ہوئی جیسے اپنے آپ جلکر ٹوڑ گئی ہو اس ایک بات تو تعہو چکی تھے کہ انسان اس کوئے کے اندر نہیں جا سکتے اس کوئے کے اندر کو ایک کرم چیز ہے کہ شاید ہر چیز کو پکھلا دے دییا کھا جاتی ہے کسی کو بھی نہیں پتا پر یہی پتا کرنا تھا اس دیپاٹمنٹ کو کر سمیتی نے کتاب بند کریں اور آب اس کوئے کے کہانیوں نے پتا چل چل چل چل چل چل چل روم کے اندر کوئی بھی کچھ بول نہیں را تھا سب چبھ ہو گئے تو بھی واپسے سمیتی کی مانے وہ کتاب لیور پینلیا اور واپسے لکھنا شروع کیا تو دیکھنا شروع کیا تو دیکھنا شروع کیا تو دیکھنا شروع کیا میشانہ بھی ہی تھا میشانہ بھی ہی تھا میشانہ بھی ہی تھا میشانہ بھی ہی تھا میشانہ بھی ہی تھا راہت کا سمیہ ہی انجنس کی کرت ایک کے بعد ایک بڑی ملٹری ٹرس اس پیس سے نکل پہیں اونکہ انڈر پولٹ پروفیکل ٹریٹس میں پیم ٹرو وگنس ایم اس اب کچھ تھا ریڈیو چیٹر پیکرون میں اس رفے کپریشن نہیں تھا یابی کا وادہ تھا اپری دوسٹوں کلیوشید اپنے آپ سے ابھی کھڑکی سے بہار دیکھتے اس کی آکھوں میں اٹٹر نہیں تھکا نہیں بس گسطہ اپنے دوسٹوں کپھ دلہ لینے تھا وہ پورا کرنے چارا تھا وہ سب جنگل مینٹر ہوتے ٹیرس میٹری کرنے تھے ٹرک سیدہ کاؤں کے اندر کھوش چاہتے کمانڈ بلٹہ ٹیڈ چلا کر کہتے کہ سیدہ کوئے کے پاس چلو پورمیشن آلپہ سرکل بناتے چاہتے اور ایسے بہتے ٹرک سیس فریق کے ساتھ ہوتے ایک پرفیکٹ کول گھرا بنچتے سول جس چم کرتے ہیں کن راڈی فیمتروز اننوک ہوتے میڈر کلکس سیپٹی آف ٹیڈ چلا کرنے تھا ٹیڈ چلا کرنے تھا ٹیڈ چلا کرنے تھا ایک اجیپ سی حلکے ہوتے جسے کو نمیزی بل پاور جو سا سلے گئے ٹیڈ چلا کرنے تھا ٹیڈ چلا کرنے ٹیڈ چلا کرنے ٹیڈ چلا کرنے ٹیڈ چلا کرنے ٹیڈ چلا کرنے تھا ٹیڈ چلا کرنے تھا ٹیڈ چلا کرنے تھا ٹیڈ چلا کرنے تھا ٹیڈ چلا کرنے تھا You broken well in.

Podcast Summary

Key Points:

  1. سمیتی اور اس کی گونگی ماں سے ایک پراسرار کونے کے بارے میں پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
  2. یہ کونا ایک خطرناک مخلوق کا مسکن ہے جو انسانوں کی بری یادوں پر پرورش پاتی ہے اور انہیں ہلاک کر کے اپنا روپ دیتی ہے۔
  3. تفتیش کار اس کونے کی اصل نوعیت، اس کی تخلیق کی کہانی اور اسے بند کرنے کا طریقہ جاننا چاہتے ہیں۔
  4. سمیتی کی ماں نے ایک کتاب میں اس کونے کی مکمل کہانی لکھی ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ کوئی عام گڑھا نہیں بلکہ ایک شیطانی طاقت کا مرکز ہے۔
  5. کہانی کے آخر میں فوجی عملہ اس پراسرار جگہ کو بند کرنے کے لیے کارروائی پر آمادہ دکھائی دیتا ہے۔

Summary:

یہ متن ایک پراسرار اور خوفناک کونے کے گرد گھومتی کہانی کا خلاصہ پیش کرتا ہے۔ سمیتی نامی لڑکی اور اس کی گونگی ماں کو تفتیش کے لیے لایا جاتا ہے، جہاں افسران ایک مخصوص کونے کے بارے میں پوچھتے ہیں جو ان کے گاؤں میں واقع ہے۔ سمیتی بتاتی ہے کہ اس کونے کو لوگ دیوتا سمجھ کر پوجتے تھے، لیکن درحقیقت یہ ایک خطرناک مخلوق کا مسکن ہے۔ یہ مخلوق انسانوں کی بری یادوں اور صدمات پر پرورش پاتی ہے، انہیں ہلاک کرتی ہے اور پھر ان کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ سمیتی کی ماں نے اس کی پوری کہانی ایک کتاب میں لکھی ہے، جس کے مطابق یہ کونا انتہائی گہرا ہے اور اس میں گرنے والا کوئی شخص زندہ واپس نہیں آتا۔ تفتیش کار اس کونے کی اصل حقیقت، اس کی تخلیق کی کہانی اور اسے تباہ کرنے کا طریقہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آخر میں، فوجی دستے اس جگہ کو بند کرنے کے لیے کارروائی کرتے دکھائی دیتے ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ خطرہ محض مقامی نہیں بلکہ وسیع تر ہے۔

FAQs

پولیس ان سے ایک پراسرار کنویں اور گاؤں میں ہونے والی غیر معمولی واقعات کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چاہتی تھی، کیونکہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کر رہے تھے۔

وہ کنواں دراصل ایک شیطانی طاقت کا مرکز تھا جو انسانوں کی بری یادوں اور صدمات سے تغذیہ حاصل کرتا تھا اور انہیں اپنے قابو میں لے لیتا تھا۔

کنویں میں گرنے والے افراد غائب ہو جاتے تھے یا پھر ان کی لاشیں جل کر راکھ ہو جاتی تھیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ اندر کوئی تباہ کن طاقت موجود ہے۔

سمیتی کی ماں گاؤں کے صدمے کی وجہ سے گونگی ہو گئی تھیں، لیکن وہ لکھ کر اپنی معلومات پولیس کے ساتھ شیئر کر سکتی تھیں۔

پولیس اور فوج اس کنویں کی تحقیقات کر رہے تھے اور ممکنہ خطرات کو بند کرنے کے لیے فوجی کارروائی کی تیاری کر رہے تھے۔

گاؤں والے کنویں کو ایک دیوی کا روپ سمجھتے تھے اور اس کی پوجا کرتے تھے، لیکن جب اس کی حقیقت سامنے آئی تو وہ خوفزدہ ہو گئے۔

Chat with AI

Loading...

Pro features

Go deeper with this episode

Unlock creator-grade tools that turn any transcript into show notes and subtitle files.