यह प्रवचन श्रीमद्भगवद्गीता के सार को स्पष्ट करता है, जिसमें श्रीकृष्ण ने अर्जुन को निष्काम कर्म योग, ज्ञान योग और भक्ति योग का उपदेश दिया। वे बताते हैं कि महापुरुष समाज में सत्य की स्थापना करते हैं, लेकिन कालांतर में लोग उनकी मूर्तियों और परंपराओं में फंसकर भ्रमित हो जाते हैं। गीता के अनुसार, वर्ण व्यवस्था जन्म पर नहीं, बल्कि गुण और कर्म पर आधारित है। यज्ञ का वास्तविक अर्थ इंद्रियों पर नियंत्रण और आत्म-साक्षात्कार है, न कि बाहरी अनुष्ठान। श्रीकृष्ण ने अर्जुन को कर्तव्य का पालन करने और फल की चिंता किए बिना कर्म करने की शिक्षा दी। वे कहते हैं कि सभी धर्मों का सार एक परमात्मा की शरण में जाना है, और महापुरुषों के मार्ग का अनुसरण करना ही सच्चा धर्म है। गीता सभी के लिए है, चाहे वे गृहस्थ हों या संन्यासी, क्योंकि निष्काम कर्म योग में थोड़ा सा भी अभ्यास जन्म-मृत्यु के भय से मुक्ति दिलाता है। अंत में, श्रीकृष्ण ने सभी धर्मों को त्यागकर केवल उनकी शरण में जाने का आदेश दिया, जो मोक्ष का एकमात्र मार्ग है।
집़। Ooh R �셜 gardு shri bar maat ma nih namam Yatharth gita Shri mat bakaut gita Aur paagham اس ப regard,iskty thathara dhyayetak shi gitaka nksy prisashrant purdhova. यखh rath dhyayetak shigitha ke kh Planita, भert 🐧 Phorum signer Pillai भर म à � чаर गनी ठऻूजिकू Panel यखh rath dhyayetak shi gitaka nksy prashrant यखh rath dhyayetak shi gitaka nksy prashrant नहीभात कोसते हैं यहने नया होता है आरने पूराना पूरता है यखh shathya parivartan shi lhe hai, तो कोग यड़। सरा के है किया यह दिग केता है तो अदने पाया नहीं पूरते कमाँ परुच यह दिज जल कर भूर भ़ाच ज़िग के हैं तो गी बात के हैं वे समाश के लरार नहीं दाल सकता है यह दिद दालता है तो सिद है वूरने पाया है सरीग वूर्च यह दिग केते हैं जो पूरु मनिश्योने बहता हैं पाया हैं भूर भूर्च नहोने वोने वाले नहीं पूरूच यहीं के हैं مہا پروس اور ان کی کاری حرنا لیگ. مہا پروس دنیا میں ستے کے نام پر فیلی اور ستے சپرٹی تھ ہونے والی قوریٹیوں کارشمن کر کے قلیان کا پت پرشست کر دے. یہ پتھ بھی دنیا میں پہلے سے رہتا ہے. کنت اسی کے سمانتر اسی کی طریبہشنے والے آنے ایک پتھ پرچلت ہو جاتے ہیں. ان میں ستے کو چھاٹنا کتھین ہو جاتا ہے. کی وستو تی اشتے ہے کیا؟ مہا پروس ستے اس تھ ہونے سے ان میں ستے کی پہتہ جان کرتے ہیں. اسے نشت کرتے ہیں اور اس ستے کی اور ابھی مکھونے کے لئے سماج کو پرے دیت کرتے ہیں. یہی رام نے کیا، محاویر نے کیا، یہی محاہت مابود نے کیا، یہی اشا نے کیا، اور یہی پریاس مومن نے کیا، قبير گرونانا کی تیادی، سب نے یہی کیا، مہا پروس جب دنیا سے اٹھ جاتا ہے تو پیچھے کے لوقھ اس کے بطائی مارک پر نچل کر, پوس کے جنم ایسطل, مرتی ایسطل اور اون ایسطلوں کو پوجنے لگتے ہیں جہا وی گایت، کرمشہ ویوں کی مورتی بنا کر پوجنے لگتے ہیں. یاددی پی عرم میں ویوں کی اس مرتی ہی سنجوتے ہیں، but کالانتر میں بھرم میں پڑ جاتے ہیں اور وہی بھرم روڑی کا روپ لے لیتا ہے. یو گی سوسری کرشنے بھی تتسامیک سماج میں ستی کے نام پر پن پیویری تیریواجوں کا خندن کر کے سماج کو پرشاشت پت پر کھڑا کر دیا. ادھیا ہے دو شوالہ میں انہوں نے کہا ارجون، اشت بس توکہ تو استی تنہی ہے اور شت کا تینوں کالوں میں ابھاو نہیں ہے. بگوان ہونے کے کارن یہ میں اپنی اور سے نہیں کہ رہا ہوں, but these are the ones that are in the past, but they are in the past. اور وہی میں کہنے جارہا ہوں. تیرہوںے ادھائے میں انہوں نے کشترشترگے کا βرنان اسی پر کر کیا. جو ریشی بھیر بہودا گیتا ہے. ریشیوں دوارہ پر آئے گیا جا چوکتا ہے. اطار میں ادھائے میں تیاؤگ اور سنیاس کا تط்بتاتے ہوئے انہوں نے چار مطنے سے ایک کا چین کیا اور اوشے اپنا سنو اتھندینا. سنیاس. کشن کال میں اگنی کو نچ ہونے والے تطحچنطن کا بیتیا کر کے اپنے کو یوجی. سنیاسی کہنے والوں کا سمپر دائے بھی پنپ رہت. اُس کا خرنن کرتے ہوئے انہوں نے اسفست کیا کی جان مارگ تتھا بھتی مارگ. دوانوں میں سے کسی بھی مارگ کے امسار کرم کو تیاغنے کا ویدھانے میں. کرم تو کرنا ہی ہوگا. کرم کرتے کرتے سا دنائیت میں شکشم ہو جاتی ہے کی. شر وشنکل پہنکا ابھا ہو جاتا ہے وہ ہے پورنس سنیاس ہے. بیچ راستے میں سنیاس نام کی کوئی وسط میں ہی. کیول قریام کو تیاغنے سے تطح اگنی نچ ہونے سے نے تو کوئی سنیاسی ہوتا ہے اور نیو کی. جسے ادھہ دو تین پاچ چھے اور ویشیس کر اٹھار میں ادھہی میں دیکھا جاستکتے. کر ایشی ہی بھانتی کرم کے سمند میں بھی ملتی ہے. ادھہ ادھہ دو امتالیس میں انہے باتا ہے کی. ارجون ابتاک ویہبود دیتے رہی ہے شان کے یوک کے ویشے میں کہی گئی اور اب اسی کو تنیش کام کرم کے ویشے میں. سون اسے یوکت ہو کرتوں کرموں کے بندن کا اچھی طرح ناش کرشکے گئی. اس کا تھوڑا بھی آچن محان جنمان کے بھے سے ادھہر کرانے والا ہوتا ہے. اس نشکام کرم یوگ میں نشچی اتم قریع ایکی ہے. بھتی ایکی ہے. دیشابی ایکی ہے. لیکن اب بیوی کیوں کی بھتی آنان تشاکھا ہاو والی ہے. اس لیے ویک کرم کے نام پر آنے قریعوں کا بستار کر لیتے ہیں. ارجون تنیت کرم کر. ارتات قریعے بہوسی ہیں. ویک کرم نہیں ہیں. کرم کوئی نید حریت دیشہ ہے. کرم کوئی ایسی بس تو ہے جو جنم جنمانتروں سے چلے آ رہی شریروں کی یاترا کا انت کر بے کہ ہے. یا دی ایک بھی جنلینہ پڑا تو یاترا پوری کہا ہوں گی. یات دی. وی ہے نید کرم ہے کنسا. صریق رسن نے اس پسٹ کیا کی یا گیار تھات کرمانو اینیترا لوکوں یم کرم بندھنہ ہے. ارجون یاتگی کی پر قریعی کرم ہے. اس کے اتریک تدنیا میں جو کچھ کیا جاتا ہے. وی ہے اسی لوک کا بندھنگی کر. کرم تو اسنسار بندھن سے مکش دلہتا ہے. اب وہ ہے یا گی کیا ہے جسے قریعان ویت کریں تو کرم سمپادی تھو. ادھہ اچار میں صریقرش میں تیر ہے چو دے طریقے سے یا گی قبرنا کیا. جو سب ملا کر پر ماتمہ میں پر بیس دلہنے والی ویڈی بیسے اس کا چترن ہے. یو کی قریع ہے جو سواز سے دھان سے چنتن اور انڈری ایسنیم ایتیادی سے دھھنے والا ہے. صریقریش نے یہ بھی اسپسٹ کر دیا کی بوتک دربیوں سے اس یقگے کا کوئی سمبند نہیں. بوتک دربیوں سے شدھنے والے یقگے اتیال. آپ کروڑ کا ہی حبن کیوں نے کریں. شمپون یقگے مان اور انڈریوں کی انتہ حقریہ سے دھنے والے ہیں. پورن ہونے پر یقگے جس کی صریشتی کرتا ہے اُس امریک تطئی کی جانکاری کا نام گیان ہے. اس گیانہ امریک کا پان کرنے والے یو گی سناتن برم میں پر بیس پا جاتے. جس میں پر بیس پانتہ پاہی لیا تو پھر اسپر اس کا کرم کی یا جانے سے کوئی پریوڈ نہیں ہے. اس لیے یاون ماتر کرموں اُس شاک شاک کا ارشت جانمیر سے سو جاتے ہیں. کرم کرنے کے بندن سے ویمکت ہو جاتا ہے. اس پر کرنے دھرت یقگے کو کاری رک دینہ کرم ہے. کرم کا شودار تھے آرادھا. اس نیت کرم یقگیارت کرم اتھوات تدارت کرم کے اتیریکت گیتہ میں انگے کوئی کرم نہیں ہے. اسی پر سریکشن نے استان استھان پر بلدیا. ادھیا اچھے میں اسی کوئیوں نے کاریم کرم کہا. ادھیا ایسو لے میں بتایا کی کام کروڑ اور لوگ کے تیاج دینے پری ویکرم آرم بو ہوتا ہے جو پرم سری کو دلانے والا ہے. سنساری کرموں میں تو جیتنا بیس تھے اس کے پاس کام کروڑ اور لوگ اتنے ہی ادھیک سجیس سجائی دیکھتے. اسی نیت کرم کو انہوں نے ساستر بیدھان اقت کرم کی سنگیادی. گیتہ آپ نے میں پورنہ ساستر ہے. شروع پری ساستر ویدھے. ویدھوں کا شار اپنی ستھے اور ان سب کا شارنس یوگی سری کرشن کی یہی بانی گیتہ ہے.
श़ंमो से़्दरम केには श़ारम कि एतविरे से म्रद्ताम के लि kannst के Euros சریشن کے اتنا بل دینے پر بھی آپ اشمیت کرم کو نکر کی சریشن کا کہنا نمان کر اسریشن کے کلپ نہ کرتے ہیں کہ جو کچھ بھی سنسر میں کیا جاتا ہے کچھ بھی پیگنے کی جیرودة نہیں ہے کہ والبفل کی کامنا نے کر ہو گیا نشکام کر میو کرتب بھی بھاவنا سے کر ہو گیا کرتب بھی چھوچھ بھی کر ہو ناران کو شمار پن کر دو ہو گیا شمار پنیو اسی پرکار یگگگے کا نام آتے ہی ہم بھوت یگگگے پیچھری یگگے پنچھی یگگے ویسنوں کے نمیت کیا جانے والا یگگگڑھ لیتے اور اس کی قریع میں سوحا بول کر خڑے ہو جاتے یادیس ریکریشن نے اس پسٹ نے کہا ہو تو ہم کچھ بھی کریں یادی باتایا ہے تو جیتنا کہا ہے اتنا ہی معن لے but we are not ویراست میں یا نی کے ریتی رواج پو جا پدتییاں our mastic کو جکڑی ہوئے ہیں بای یہ وستوں کو قداشی ثم بیچ کر بھاگ بھی سکتے but we are but we are sitting in the mastic with our feet and we are sitting in the mastic with چلتے صریق کریشن کے سب دوں کو بھی ہم اونہی کے ان روف دھال کر گران کرتے یادی یگگی اور کرم دو پرشنی یتھا اتھ سملیں تو یب دھے ورن بیوستھا ورنسن کر یا نیو کرمیو اتھ وار سنگشے پ میں سنگ پورنگیتا ہی آپ کی سمجھ میں آجائے ارجن لڑنا نہیں چاہتا تھا وہ دھنو اس فہیک کر رت کے پیچھلے بھاگوں بیٹ گیا but we are sitting in the mastic with our feet but we are sitting in the mastic with our feet and we are sitting in the mastic with our feet کرم کو کیول درڑایا ہی نہیں بلکی ارجن کو اس پرم پر چلا بیڈیا یدھا ہوا اس میں سندے نہیں گیتا کے پندرے ویس لوگ ایسیں ہیں چین میں بار بار کہا گیا ارجن تو یدھ کر maar یه گیسلوگ ایسا نہیں ہے جو بہری مارکات کا سمرتھند کر تا درستب یہ ہے ادھہ اضو, تین, اگراء, پندھرا اور اٹھر vì کی جیس کرم پر بل دیا گیا ویθانی اتھ کر جو ایکان دیس کے سیவن سے چٹ کو شب اور سمیٹ کر دھان کرنے سے ہوتا ہے یادی گیتوکت کلیان یود کرنے والوں کے لیے ہی ہے تو آپ گیتا کا پندھے چھوڑ دیں آپ کے سمکھ ارجون جسی یود کی کوئی پرستیتی تو ہے نہیں وستوتے ہیں تو بھی وہ پرستیتی ویدھی دیمان تھی اور آج بھی جیوں کی تیو ہے جب چت کو شب اور سمیٹ کر آپ حیدے دیش میں دھان کرنے لگیں تو کام کروض راج دویشا دی بکار آپ کے چٹ کو چکنے نہیں دیں گی اون بکاروں سے سنگر سے کرنا اون کا انت کرنا ہی یود ہے دیش میں یود ہوتے ہی رہتے کنتوں اس سے کلیان نہیں ابھی تو بھی ناش ہوتا ہے اسے سنتی کہلے اتھوہ پرستیتی اینے کوئی سنتی اس دنیا میں نہیں ملتی شانتی تبھی ملتی ہے جب یہ آتما آپ نے شاشفت کو پالے یہی ایک ماتا شانتی ہے جس کے پیچھے آشانتی نہیں ہے but یہ شانتی سادھنگگم میں ہے اسی کے لیے نیت کرم کا بیدھانے ورم اس کرم کوئی چار ورنوں میں باتا گیا چنتن میں لگتے تو سبی ہیں کنتوں کوئی سواز پر سواز کی گتی روکنے میں سکسم ہوگا تو کوئی آرم میں دو گھنٹے چنتن میں بیٹ کر دن سمینٹ بھی اپنے پکس میں نہیں پتے ایسی ایسی تیوالہ آلپتگی سادھک شودر سرینی کا ہے وہ اپنی شواب حبک شمتا کے امسر پر چریہ سے ہی کرم آرم کریں کرم سے ویشے چتریے اور بیپر سرینی کی شمتا اس کے سو بھاو میں دھلتی جائے گی وہ اوننات ہوتا جائے گا کنتوںے برمان سرینی بھی دوشی ایکتے ہیں کیوں کی اب بی بیپرم الگ ہے برم میں پر بیس پا جانے پر بیپرامن بھی نہیں رہ جاتا ورن کا آر تھے آقرتی یہ سری رہاپ کی آقرتی نہیں ہے آپ کی آقرتی ویسی ہے جیسی آپ کی ورتی ہے سری کرشن کہتے ہیں ارجن پروس سردھا میں ہے اس لیے کنہ کئی اس کی سردھا اوش شہ ہو گی جیسی سردھا والا پروس ہیں سویں بھی وہی ہے جیسی برتی ویسا پروس ورن کارم کی شمتا کا آنترک مابدند ہے کنتوں لوگوں نے نیت کارم کو چھول کر بہر سماج میں جانم کی آدھار پر جاتیوں کو ورن مان کر ان کی جیبی کا نشجت کر دی جو ایک ساماج کی بیوستھا ماتر تھی ویک کرم کی یتھارت روب کو ٹورتے مروٹے جسے ان کی خوکلی ساماج کی مریعدہ اور جیبی کا کو تھیس میں لگی کال آنتر میں ورن کارنیر دھارن کے ول جانم سے ہونے لگا ایسا کچھ نہیں ہے سری کرشن کہتا چار ورنوں کی سردھی میں نے کی کی آبھارت سے بار سردھی نہیں ہے آنتر تو ان جاتیوں کا استیتوی نہیں ہے بھارت میں ہی ان کے انترگت لاکھا جاتی ہیں اپ جاتیوں ہیں سری کرشن کیا منوشوں کو باتت تھا نہیں گنا کرم بی بھاغ شہر گنا کی آدھار پر کرم باٹی گے کرمانی پر بھتتان کرم باٹا گیا کرم سمج میں آ گیا تو ورن سمج میں آ جائے گا اور ورن سمج میں آ گیا تو ورن سمج میں آ گیا تھا رو آپ سمج میں ورن سمج میں آ گیا اپ سمج میں آ گیا ورن سمج میں آ گیا اپ سمج میں آ گیا ورن سمج میں آ گیا ورن سمج میں آ گیا ورن سمج میں آ گیا اپ سمج میں آ گیا اپ سمج میں آ گیا اپ سمج میں آ گیا اپ سمج میں آ گیا اپ سمج میں آ گیا Gyan Yog Tathakar Miyog Karna Ekihi Niyatkar Miyatkar Aradna Kintu Use Karna ke Dhristi Kondu Hai Aap Ne Shakti Kushamajkar Haneelab Ka Nnelekar Ise Karna Kukarna Gyan Yog Hai Ise Marga Ka Sadhak Jantah Hai ki Aaj Mere Ye Ise Thiti Hai Aage Ise Bhumi Ka Me Palinit Huzhaaam Pheir Aap Nehi Saurp Ko Praptkar Unga Ise Bhavna Ko Lekar Karna Me Parvirt Ho Ta Hai Aap Ne Ise Thiti Ka Gyan Rakh Kar Chal Ta Hai Ise Lekar Karna Mahar Ki Ka Ha Jata Hai Samar Phan Ke Sad Use Karna Me Parvirt Ho Na Haneelab Ka Nrenai Ise Parv Feh Kar Chal Na Nishar Ka Amkar Miyog Hai Bakti Mahar Ki Ise Mar Ki Ise Shik Shalekar Ise Mar Ki Ise Mar Ki Ise Shik Shalekar Unga Ise Mar Ki Ise Thiti Ka Amkar Me Parvirt Ho Ta Hai
نیت کرم مانوری انڈریوں کی ایک نیردھاریت انتھیکرییا ہے جب کرم کا یہی سروف ہے تو بہار پر تیک پوجنا کہاں تکشنگت ہے بھارت میں ہندو کیلہ نیوالہ سماز جن کے پوروجوں نے پرم ستی کی شوض کر کے دیش بیدیس میں اس کا پرچار کیا اس پت پر چلنے والا بسے میں کہہیں بھی ہو سناتن درمی ہی ہے اتنا گورو شالی ہندو سماز کامناو سے بیبے شو کر ویوی دورانتیوں میں پڑیا صریق رشن کہتے ہیں ارجم دیوطاؤں کے ستھان پر دیوطاؤں کی کوئی شکتی نہیں ہے جہاں کہہیں بھی منوش سے کی سردھا جکتی ہے اس کی اوٹ میں کھڑا ہو کر میں ہی فل دیتا ہے اس کی سردھا کو پشت کرتا ہے کیوں کی میں ہی سربتر ہوں کیوں کیوں کا ویپوجن اور ویدی پوروکھے اس کیوں کا فل ناشوان ہے کامناو سے جن کے گیان کا اپھران ہو گیا ہے وہ موڑ بھڑ دی ہی ان نے دیوطاؤں کو پوسٹے ساتھ پیک لوگ دیوطاؤں کو پوسٹے ہیں راتسی یقص راکششوں کو تتاتامسی بھوت پریتوں کو پوسٹے ہیں گروٹتف کرتے ہیں but Arjun, ویش شریر میں اس تبھوت شمدائے اور انتاہ کر میں اس تبھوت میں مجھ پرمات مکھوں کرش کرتے ہیں نکی پوسٹے ہیں انہیں نشچے ہیتوں آسوری سو بھاوشے سنیوب تجان آسورجان اس سے ادھیک سری کرشن کیا کرتے انہیں اس پسٹ کہا Arjun اس ور سبی پرانیوں کے پر دے میں رہتے ہیں کہ وہ لئے پوسی کی سرنجاؤں پوسٹے کی ستھلی ہر دے میں ہے بہر نہیں پھر بھی لوگ پتھر پانی دیوی دیوطاؤں کا پیچھا کرتے ہیں اونی کے ساتھ سری کرشن کی بیت پرتینا بڑھا لیتے ہیں سری کرشن کی ہی ہے سادنہ پر بل دے نے والے تتاتہ جیوان بھر مورتی پوسٹے کا خندن کرنے والے بھڑھ کی بھی مورتیوں کے انگیایا نے بنالی اور لگی پوجا کرنے دیوی دیو کھانے جب کی بھڑھ نے کہا تھا آنند تتھاگت کی سریر پوجا میں سمینست نکرن مندر مشجد چار چتیرت مورتیہ تتھا اسمار کن سے پورو وورتی محاپوروشوں کی اسمورتیوں سنجوی جاتی جس سے اون کی پپلگ دیوں کا اسمان ہوتا رہے محاپوروشوں میں اسٹریر پوروش سبی ہوتے آئے جانا کی کنیاشی تھا پیچھلے جانا میں ایک برہمان کنیاشی اپنے پیچھا کی پریرنا سے پور پر مکوپانے کے لیے اس نے تفشتیہ کی کینت اس فل نے ہوسکی دوسری جانا میں اس نے رام کو پر آپ کییا اور چین میں ابھی ناشی آدی شکتی کے روپ میں پر تیسٹھی تھای تیق اسی پر کا راجکل میں اتپن میرا میں پر ماتما کی بھگتی کا پرش پوتن ہوئا سب کچھ چھوڑ کروے بھگوان کے چینتن میں لگ گئی گیوضحنوں کو جھلا اور سفھل رہی اون کی اسمرتی سنجوینے کے لیے مندر بنے اسمارک بنے تاکی سماج اون کے اپدےسوں سے ان اپراانی تھو سکے میرا سیتا اتوہ اس پکش کا شود کرتا پر تیق مہا پرش ہمارا آدرش ہے ہمیں اون کے پادچنوں کا انسرن کرنا چایئے کن تو اسے بڑی بھل کیا ہوگی یا دی ہم کےے والوں کے چرنوں میں پھل چڑا کر چندن لگا کر اپنے کرتبیوں کی ایتیسری مان بیٹی پر آئے جو جس کا آدرش ہوتا ہے پر اس کی مورتی چترڑ خڑاو اس کا اس تھان اتفا اس سے سندر بیٹ پر مان میں سرد تھا امراتی ہے یہ اچی تھی ہے ہم بھی اپنے گردے بھگوان کے چتر کو قورے میں نہیں فھیکسکتے کیوں کی بے ہمارے آدرش ہیں اونی کی پرےنا تتا قتنا نوسارہ میں چلنا ہے جو شروب اون کا ہے کرامسہ چل کر اس کی پرابتی ہمارا بھی ابھیس تھے اور یہی اون کی اتھارت پو جائیں یہاں تک تو ٹھیک ہے کی جو وستو تہ ہے آدرش ہے اون کا نرادر نے کریں but اون پر پر پر پر پر پر پر پچھرانے کوئی بھگتی مان بیٹنے سے اتنے کوئی کلیان سادن مان لینے سے ہم لکشے سے بہت دور بھٹک جائیں گے اپنے آدرشوں کے اپدیشوں کو ہڑے آنگم کرنے تتا اوش پر چلنے کی پرےنا گرن کرنے کے لیے ہی اس مارکوں کا اوبیوج ہے چاہی اسے آسرم مندر مشجد چرچ مٹ ویہر گرودوارہ یا کچھ بھی نام دیں وسترتے اون کے اندروں کا سممند دھرم سے ہے تو جس کی پرتیمہ ہے پوچھ نے کیا کیا اور کیا پایا کیسے تفرسیا کی کیسے پر اپٹ کیا کہ وہ لئے اتنہی سیکھنے کے لیے ہم وہاں پاہنس دے ہم اور پاہنچنا بھی چاہیے but if these stones محاپوروشوں کے پاہنچنے نہیں باتاے گے کر کے نہیں دکھائے گے کلیان کی بیوستھا نہیں ملی تو اوی استھان گلتے وہاں آپ کو کےول روڈ ہی ملے گی وہاں جانے میں آپ کا نکسان ہے ویقتی گتروب سے گھر گھر گلی گلی جا کر اوبیدے سپاہنچانے کی اپیکسا سامحی کوبیدے سکینڈروں کے روپ میں ان دھارمی کی ستھانوں کی ستھاپنا کی گئیتی but in the history of these stones کنتو کالانتر میں ان پرینہ ایستھلیوں سے ہی مورتی پوجہ تتھا روڈ ہیوں نے دھرم کا ایستھان گرھن کریا یہاں یہاں سے بھرم پنپ گیا گرنت اسی پرکار پوسٹاکوں کا دھن آوشک ہے جسے آپ اوش نردست قریع کو سمس سکیں جسے یوجے سور صریقریشن نے نیت کرم کہا ہے اور جب سمجھ میں آجا ہے تو طورنت کرنے میں لگ جائیں ویس مرد ہونے لگیں تو پونے ادھین کرلیں یہ نہیں کی پوسٹاک کوہا جوڑ کر کئیو لکشک چندن چھڑ کر ہی رکھ دے پوسٹاک مارگ نردستک چندن ہے جو پورتی پرینت سات دیتی ہے دیکھتی بھی آگے بڑھتے چلیں اپنے گنتبی کی آور جب ایسٹ کو ہیڈے سے پکر لیں گے تو وہ ایسٹ ہی پوسٹاک بن جائے گا آتا ہے اسمرٹی سنجونا حانی کرک نہیں ہے but in اسمرٹی چندن کی پوجہ سے ہی سنتوست ہو جنا حانی کرکے تھر ادھیا دو سولہ اور امتیس یو گے سوسریکشن کی امسار آسات بسٹو کا اصدیت تو نہیں ہے اور شت کا قبھی ابھاو نہیں ہے پرمات مہیشت تھی شاشت تھی آجرامر اور پریورتن سیل اور سنتو نہیں but وہ ہے پرمات مہ اچنتے اور آگوچر ہے جت کی طرنگوں سے پر ہے اب جت کا نرد کیسے ہو جت کا نرد کر کے اُش پرمات مہ کو پانے کی شاشت کا نام کرم ہے اس کرم کو کاری روب دینہی دھرم ہے دائت ہے دیتا دیا ہے دو چالیس میں ہیکی اور جون اس کرم یוג میں عرم کا ناش نہیں ہے اس کرم روب دھرم کا کنچت ماتر شادھم جنم میرٹی کے مہان بھئے اُدھار کرنے والا ہوتا ہے اور تھات اس کرم کو کاری روب دینہی دھرم ہے اس نیت کرم سادھن پت کو سادھ کے سو بھاو میں اُپلپ دھچھمتا کے امسار چار بھاگوں میں باتا گیا ہے کرم کوشھمج کر منوش سے جب عرم بھ کرتا ہے اُش عرم بھئے اوستھا میں بھئے شودھ رہے کرم سے ہہ ویدی پکر میں آئی تو وہی ویشھے ہے پر کرتی کے سنگھرس کو جھیلنے کی چھمتا اور شورے آنے پر وہی ویقتیش شتریے اور عورم کے تدرو فھنے کی چھمتا گیان dreiациی یோ گیا نہیں dazu ganze دیا نہ Ellie
اء Eghan Vaastig Jaan Ond me Aster
ricular Bi Sa不 Saabhaa Sae upalab daswadharam sreetarhe aur shamta arjit kiye bi'nahi Dhu saunke unnatkaram ka paipalan bi Hanekarke Swadharam e Marna bi sreetarhe Kyo ki Wastar baadalne me baadalne wala to baadalnei jata Use ke sadan ka karamu vahi se Pune haaram bhojayega Jaan se chutat Shopan se hechal karwe param siddhi Abhinasi pad ko paannega Gisi parpune balde te hi ki Gis parmaatma se sabit rano ki utpati hi hai Jos Sharvatra biap te hai Sabhao se utpan vi chamta ke nsar Use bhalibhati pujkar Manav param siddhi ko praapto Po jata hai Arthat nischit vi di se ek parmaatma ka chintan hi Dharm hai
میں پر 20 کس کو ہے. اسے کرنے کا ادکار کی سے ہے. اسے اس پسٹ کرتے ہو گئے سر نے بتایا کی آجن. اتیان تو دورا چاری بھی. یا دی آنان نے بھال سے مجھے بھستا ہے. آنان نے. ارتات آن نے. مجھے چھٹ کر. آن نے کسی کو بھی نے بھست کر. کیے والا مجھے بھستا ہے. تو کسی پرم بھوتی دھرمات. وہ اشیگ رہی دھرمات مہ ہو جاتا ہے. اس کی آتما دھرم سے سنیوکت ہو جاتی ہے. اتا ہے صریقرسن کے انسار. دھرمات مہوے ہے. جو ایک پرمات مہوے. آنان نے نستھا سے لگ گیا ہے. دھرمات مہوے ہے. جو ایک پرمات مہ کی پرابتی کی لئے. نیت کرم کا آچرن کرتا ہے. دھرمات مہوے ہے. جو شبھاو سے نیت چھمتا کے انسار. پرمات مہگی شود میں سنلگ میں. انت میں کہتے ہیں کہ سرو دھرمان پریتجے. مامیکم سرنم برجے. اور جو اشارے دھرموں کی چنتا چھور کر. ایک میری سرنمے ہو جاتا ہے. اتا ہے ایک پرمات مہ کے پر تیش شمر پیتی ویقتی ہی دھرمے. ایک پرمات مہ میں سردہ ایستھر کرنا ہی دھرمے. اس ایک پرمات مہ کی پرابتی کی نشچت کریا کو کرنا دھرمے. اس ایستیتی کو پرابت مہا پروس. اات مترپت مہا پروس کا سدھان تھیں. سرشتی میں ایک ماتر دھرمے. ان کی سرن میں جانا چاہی ہے. کہ ان مہا پروس کیوں نے کیوں نے اس پرمات مقوبایا. کی سمارک سے چلے. وہ مارک صدہ ایکی ہے. اس مارک سے چلنا دھرمے. دھرمانوسی کے آچرن کی بس دو ہے. وہ آچرن کی بل ایک ہے. بیوش شایات میکہ بودی حیرے کے حکرنندنہ دو ایک تالیس. اس کرم یوب میں نشچی آتم کیا ایکی ہے. اندیوں کی چیستہ اور مان کے ویاپار کوششنیمت کر. آتمہ میں پرات پربرم میں پر باہیت کرنا. دھرمانترم. سناتن دھرم کے آدی دیس بھارت میں. قوریتی آئیہا تک پنپی کی موصلمانوں کے آخرمانوں کے سمیں ان کا دھرم آخرمکوں کے ہاتھ کا ایک گراز چاول کھانے سے دو گھوٹ پانی پینے سے نست ہونے لگے. دھرم برست گوشت ہجاروں ہندوانے آتمہتیا کر لی. دھرم کے لیے میں مرنا جانتے تھے. لیکن دھرم سمجھیں تبتو. دھرم تو ہو گیا چھوی موی. چھوی موی کا پوضح چھونا پر مور جا چاہتا ہے. کن تو چھوڑتے ہی پنپ جا چاہتا ہے. اس کا سناتن دھرم تو ایسا مور جایا کی کبھی نہیں پنپا. جس سناتن آتما کو بھوٹک وستوے اس پرس بھی نہیں کر پاہتی. وہ ایک کھیں چھونا کھانے سے نست ہوتی ہے. آپ تلوار سے مرے. دھرم چھونا سے مر گیا. کیا سچ مچھ دھرم نست ہوتا ہے. قدапی میں. دھرم کے نام پر کوئی کوری تیپل رئی. وہ نست ہی. گرستھوں کا ادھیکا. پر آہی لوگ پوسٹے ہیں کہ جب کرم کا یہی صروف ہے. جس میں ایکان دیس کا سیبان, انڈری اشسیم, نرنتل چنتن اور دھیان کرنا ہے. تب تو گیتا گرستھوں کے لئے, انو پیوگی ہے. تب تو گیتا کے وال سادوں کے لئے, but you are not such a person. گیتا مولت ہے. ان کے لئے ہے, جو اسپت کا پتک ہے. اور انشت ہے, اس کے لئے بھی ہے. جو اسپت کا پتک بنا چاہتا ہے. گیتا مانا ماتر کے لئے, سمانا عشی رکتی ہے. ست گرستھوں کے لئے تو اس کا ویشے شوپیوگے. کیوں کی وہاں سے کرم آرم ہوتا ہے. سری کریش نے کہا تھا آرجوم, اس نسکام کرم یוג میں آرم بکا بھی ناس نہیں ہوتا. اس کا تھوڑا بھی سادم, جانم مارن کے محان بھئے سے ادھار کرنے والا ہوتا ہے. آپ ہی بتایں, تھوڑا سادن کون کرے گا. گرستھ اتوہ ورکتھ. گرستھیں اس کے لئے تھوڑا سمیدے گا. یہ اس کے لئے ہی ہے. ادھار چار چھتیس میں کہا. آرجوم, یادی تو شمپون پاپیوں سے بھی ادھیک پاپ کرنے والا ہے. تب بھی, جان روپی نوکہ سے نیش سندے پار ہو جائے گا. ادھیک پاپی کون ہے. جو آنو ورطل لگا ہے. وہ ہے. اتوہ جو ابھی لگنا چاہتا ہے. اتو اشتد گرستھ اسرم سے ہی کرم کا آرم بھی ہے. ادھا اچھے, سندھیس, پینتالیس. آرجوم نے پوچھا, بھگوان, شیتل پریتنوالہ سردھا وان پروس, پرم گتی کو نیپا کر کس دور گتی کو پر آب تھا ہے. سیڈی کریش نے کہا آرجوم, یاک سے چلائمان ہوئے, شیتل پریتنوالے پروس کا کبھی ویناس نہیں ہوتا. وہ ہے یاک ورستھ سیمانہ سوچی نام سری مطام گے ہے. سو دستھی آچنوالوں, کہ یہاں, جانم لے کر, یاکی کل میں پروس پا جاتا ہے. سادھن کی اور آخر سیت ہوتا ہے. اور انیک جانمہ میں چل کر, وہی پہن جاتا ہے, جس کا نام پرم گتی, اردھا دھا دھا مدھا ہے. یہ ہے سیتل پریتنو کون کرتا ہے. یاک ورستھ ہو کر, وہ ہے کہاں جانم لے تھا ہے. وہ گرستھی تو بنا, وہی سے وہ سادنوں انمو کو ہوتا ہے. ادھا ہے ناو تیش میں انہوں نے کہا, کہ اتینت دورا چاری بھی, یا دی انا نبھاو سے مجھے بھزنے لگے, تو وہ ہے, سادوی ہے, کیوں کی وہ ہے, نشچے کے ساتھ, سیراؤس کے پر لگ گیا ہے. اتینت دورا چاری کون ہوگا, جو بھجن میں پر بھر تو ہو گیا ہے, اتوى وہ ہے, جس نے ابھی آرام بھی نہیں کیا, ادھا ہے ناو بھتیس میں کہا, اسٹری, ویششے, شودر, تتاپاپیونی والے ہی کیوں نے ہو, میری آسری تھو کر, سادن کرنے سے پر مگتی پاتے ہیں. اندو ہو, اشائی ہو, مسلمان ہو, صریق رشنے ایسا کچھ نہیں کہتے, اتینت دورا چاری, پات کی ہی کیوں نے ہو, میری صرن ہو کر پر مگتی پاتے ہیں, اتیگیتا, منو مات کی لیے ہے, سادگرستہ آسرم سے ہی اس کرم کا آرام ہے, کرم سے وہی سادگرستی یوگی بنتا ہے, پول اتیاجی ہو جاتا ہے, اور تتے کا دیکھ درشن کر, پر میں پر بیش پا جاتا ہے, جس نے صریق رشنے کہا کی, گیانی, میرا سنف ہے. اسٹری, گیتا کہ نوشار شریق ایک وستر ہے, جس نے پورانے وستر کو تیاج کر مانوشے, نیا وستر دھارن کر لے تھے, تیگ اسی پرکار, بھرتا دیکھوں کا سوانی آتما, اسے شریق اپی وستر کو تیاج کر, دوشار شریر وستر دھارن کر لے تھے, آپ پینڈوپ میں اسٹری ہونیا پروس, یہ وستر کی آکاریں, سنسار میں پروس دوپرکار کہ ہے, چھر اور اکشر, سمست پرانیوں کا سریر چھر پروش, اتوپری ورطن سیل پروش ہے اور مان سیٹ انڈریان جب کتس تھو جاتی ہے, تو وہ ہی اکشر پروش ہے, اس کا کبھی بناس نہیں ہوتا, یہ وستر ہے, اس طریعوں کے پرٹی کبھی سمان تو کبھی اپمان کی بھاونا سماج میں بنی ہی رہی ہے, کنتو گیتا کی آپروس شرییوانی میں یہ ہے کہ شودر علپت گی ہے, ویس سے ویدی پرابت, اس طریع پروش کوئی کیونے ہون, میری سلنا کر پرمگتی کو پرابت بوتتا ہے, اتا ہے اس کلیان پت میں اس طریعوں کا وہی اس تھان ہے, جو یہ پروش کا ہے, بوتیک شمرد, گیتا پرمکلیان تو دیتی ہے, ساتھ ہی منوششوں کے لیے آوششک بوتیک وستوں کا بھی ویدھان کرتی ہے, اتا ہے نو بیس بائیس میں یو گیس اس رکشن کہتے ہیں کہ بہو سے لوگ نرد حاریت ویدی سے مجھے پوچ کر, بدلے میں سورا کی کامنا کرتے ہیں, اونے ویشال سورگ لوگ ملتا ہے, میں دیتا, جو مانگوگی وہ مصی ملے گا, کنت اپوبھوبھوبھوبھگ کے پشچات سمتھ ہو جائے گا, کیوں کی سورا کی بھوب بھی نشور ہے, اونے پنے جنم لینا پڑے گا, ہاں, مرش سمبندت ہونے کے کارن, وہ نشت نہیں ہوتے, کیوں کی میں کلیان سروت ہوگ, میں اونے بھوب دیتا ہوں, آورسانے سانے نیڑریت کرا کر, پنے اونے کلیان میں لگا دیتا, کشتر, تیقا کار کہتے ہیں, ایک رکشتر باہر ہے اور دوسرا مان کے بھیتر ہے, گیتا کا ایک ارث باہری ہے, دوسرا بھیتر ہے, لیکن, ایسا کچھ نہیں, بگتا ایک بات کہتا ہے, کنت اصروت کا, اپنے,
کی بھڑھی کے انروپی اسے پکر پاتی. اسی لیے این ایک ارد پر تیت ہوتی. سادن پتھ پر کرمشہ چل کر جو بھی پروس صریق کرشن کے اس تپر کھڑا ہو جائے گا تو جو درشن صریق کرشن کے سامنے تھا وہی اس کے سامنے بھی ہوگا وہی مارپ روس ان کے منوجت بھاوں کو گیتا کے سنکے تو کو سمس سکتا ہے سمجھا سکتا ہے گیتا کا ایک بھی سلوک بہر کا چترن نہیں کرتا کھانا پہنا رہنا آپ جانتی ہے رہن سہن مانتا لوگ ریتی اور نیتی میں دیس کال اور پر ستیتیوں کے انکول پریورتن پر کرتی کی دینے اس میں صریق کرشن آپ کو کونسی بھی اوستھتا دیں کہیں لڑکیوں کا بہلے ہیں بہو بھی واہ ہوتے ہیں تو کھیں ان کی سنکہ کام ہے کہ ای بھائیوں کے بیچ ایک پتنی رہلے تی ہے اس میں صریق کرشن کونسی بھی اوستھتا دیں دیتی ہے ویشوید کے پرچات جاپان میں جن سنکیا کی کمی سمسیہ بن گی تو تیس بچوں کو جنم دے نیوالی ایک مہلا کو مدر لیند دیس کی ماتا کی کو پادی سے سمنیت کیا گیا ویدک کالین بھارت میں پہلے دستنطان اوپن کرنے کا بیدھانتا اب ایک یادو بچے ہوتے ہیں گھر میں اچچے نارا لگر ہے قداشد وی نی رہیں تو دیس کی لی چنتا کا بیسے نہیں سمسیہ کا حالی ہوتا ہے صریق کرشن اس میں کونسی بھی اوستھتا دیں صریق کام کروڑ لوگ مو کے کھیں اسکول نہیں کھلے ہیں پھر بھی ان بکاروں میں لڑ کے بڑے تتا سیانوں سے کهیں پا دیکھ پر بھیڑن نکل پہیں اس میں صریق کرشن کیا شکشا دیں یہ سب تو پر کرتی دورا سوچالیتے کبھی وید پڑھای جاتیتے دھنور وید گدا یود دسیقھایا جاتا تھا آج نے کون سیقتا ہے آج تو پیستل چل آ رہیں سوچ چالیت ینتروں کا یکھے کبھی رت سنچالن سیقھنا پڑھا تھا ہوڑوں کی صفائی کرنی پڑھی تھا آج مورٹروں کا تیل ساب کیا جاتا ہے اس میں صریق کرشن کیا باتا ہے کہ دیں کی گھڑوں کو ایسے نهلا بہا رہا آپ کو کئیسی بیستا دیں پہلے سوہا بولنے سے ورشا ہوتی تھا اب کونوں سے ورشا کر لے تھا پہلے فصل ورشا پر آسری تھا آج من چای فصل لے نے لگے یو گے سو صریق کرشن کہتے ہیں پر کرتی سے اُدھ پنگ گنوں دورا پر وہ سو کر منشے پر استھیتی کنسات دھلتا ہی رہتا ہے بونسوتے انہیں دھالنے میں سکشن کیا بہتک ساتر سماس ساتر شکشا ساتر ارت ساتر ترک ساتر میں گڑتا ہی رہتا ہے ایک یہ بس تو ایسی ہے جو منش سے نہیں جنٹا نہیں پیچنٹا جو ہے تو اسی کے پاس کنت اسے بسمرٹ ہے گیتا سنکر آجن کی کوہی اسمرٹی لوٹ آئی تھے ویہ اسمرٹی ہے پر ماتما کی جو حیدے دیس میں ہو کر بھی اسے بہت دور ہے اسی کو منش سے پانا چاہتا ہے کنت راستا نہیں پاتا کیوال کلیان پت سے ہی منش سے انوگ گے ہیں مو کا عبران اتنا گھنا ہے کہ اُدھ رشوچنے کا سمیں ہی نہیں ملتا اُن محاپ اُس نے آپ کے لیے سمیں دیا ہے اس کرم کو اس پسٹ کیا ہے جسے کرنے کا نردے اس گیتا میں ہے گیتا مکتا یہی دیتی ہے بہتگ وستوے بھی اس سے ملتی ہے کنتوں سری کی طلنا میں پرے نگنے ہے یو پردا تا یو گے سور سری کریشن کے انسار کلیان پت کی جان کریں اس کا سادھن اور اس کی پرابتی سادھ گروشی ہوتی ہے اِدھ رو در تیرتھ ہوں میں بہتگ نے یا بہت پریسرم سے یہ ہے تو ابتک نہیں ملتا جب تکشش سندھ دورا نے پرابت کیا جائیں ادھیای تین چوٹھیس میں سری کریشنے کہا ارجون تو کشی تتتدرسی محاپ روش کے پاس جاکف بھلی پرکار دند پرنام کر نسکپڑ بھاو سے سیوہ کر کے پر ایدھا کر کے اس جان کو پرابت کر پرابتی کا ایک مات روپا ہے کسی محاپ روش کا ساند دے اور ان کی شیوہ ان کے انسار چل کر یو کی سنسد دکال میں پائگ ادھیای اتھارہ اتھارہ میں انہوں نے بتایا کی پری گیتا ارتھتتتدرسی محاپ روش جان ارتھا جانگی ویدھ گییا پرماتم تینوں کرم کے پرے رکھ اتھے صری کرشن کے انسار محاپ روشی کرم کے مات دھم نیکی کےول پوسطق کتاب تو ایک نسکھا ہے نسکھا رٹنے سے کوئی نروگ نہیں ہوتا بلکی اسے عمل میں لانا ہے نرک ادھیای سولہ سولہ میں آسوری سمپت کا ورنن کرتے ہوئے یو گیسری پری گریشنے بتایا کی آنے ایک پرکار سے بھرمی تچتوالے مو میں فسے آسوری سو بھا والے منشے اب ابھی تر نرک میں گیرتے ہیں پرسن سو بھا بھی گھے کی نرک ہے کہ سا اور کسے کہتے ہیں اسی کرم میں اسپسٹ کرتے ہیں کہ مُسے دویس رکھنے والے نرادھ مکوں میں بارم بار آسوری یونیوں میں گیرتا اور جسلے آسوری یونیوں میں گیرتا یہی نرک ہے اس نرک کا دور کیا ہے انہوں نے بتاے کی کام, крوض اور لوگ نرک کے تین دور ہے جن میں آسوری سمپت گتیت ہوتی ہے اتے بارم بارکیت پتنگ پسوی تیادی یونیوں میں آناہی نرک ہے پندداً پرثمت دھائے میں ویششاد گرست آرجن کو آشنکا تھی کہ یودت جانیت نرس سندھار سے پیتر لوگ پندداً اور اربن سے ونچیت ہو جائیں گے پیتر گیر جائیں گے اس پر بھگوانسری کرشنے کہا کی آرجن تو جییا اگیان کہاں سے ہو گیا پندو دکھ کریا کو یوگیسر نے اگیان کہاں اور باتایا کی جیس پرکار جیلنشیرن وشتو کوтиاک کر منوش سے نیا وشتر دھرن کر لے تھے کی کہ اسی پرکاری آتما جیلنشریر کو چھڑ کر تتکال شریر پیننوی نوی نوشتر کو گرہن کر لے تھے یہاں شریر ماترے کویوستر ہے اور جب آتما نے کئول وستر بطلا وہ امران نہیں نصوہ شریر کوئی بطلا ہے اس کی ویوستھ ہے پروبوتھ ہے تو اس بھوجن پندداً آسن سییا سواری آواز یا جل اتیادی سے کیسے تربت کیا جاتا ہے یہی کارن ہے کی یوگی شوانی سے اگگن کہا ادھائے پندراش شات میں اسی پر بل دیتے ہوئے کہ یہ آتما میرا شناتن انشے سروف ہے اور منصد پانچو انڈریوں کے کارے کلاپ جنگے سنسکار کو لے کر دوسے شریر کو دھرن کر لیتے ہے اور منصد خطی انڈریوں کے دورہ اگلے شریر میں بیشے بھوگوں کو دھوگتی ہے آتما نے جس سریر کو دھرن کیا وہاں بھی بھوگ شامگری اپلاب دھے پھر پنددان کیونڈی ہے جاتا ہے پنددان کیسا ایدر ایک سریر کو چھوڑا ادھر دوسے شریر کو دھرن کیا ویسی دھا اس سریر میں جاتا ہے بیچ میں کوئی ویرا نہیں کوئی اس تھا نہیں تو ہزاروں پیڈیوں کے پیٹروں کا آنادی کال سے پڑا رہنا اور اُن کی جیبی کا ونس پرم پرہ کے ہاتھ نردھاریت کرنا تو تھا پنجڈے کے پنچی کی طرح اُن کا رودن پتن ایک اگگیان مات رہے اسلی اسریری کرشنے سے اگگیان کا پاپ اور پنگی اس پرشن پر سماج میں انے گھرانتیا ہی کن تو یوجیسے اسری کرشن کے انسار رجو گوم سے اُتپنوں یہ کام اور کروض بھوگوں سے کبھی تربطنے ہونے والے محن پاپی ہے ارتات کام ہی ایک مات رہا پاپ کا اُضگم کام ہے کامنائے یہ کامنائے رہی کہاں ہے اسری کرشنے بتایا کی انڈریہ من اور بود دھی اس کے واس استھان کہے جاتے ہیں جب بکارتن میں نہیں من میں ہی ہوتے ہیں تو سریر دھونے سے کیا ہوگ? اسری کرشن کے انسار اسمان کی شدی ہوتی ہے நام جب سے دھان سے, سمکالیں کشی تتتو در سے مہاپروس کی سیوہ سے, ان کے پرتیس مور پنسی جس کے لئے ویچار چھوٹس میں پر واتھ سہیت کرتے ہیں کی, تدویدژی پانی پاتی میں, شےوہ اور پرشن کر کے اس گان کو پرات کروں, جس سے سبی پاپ نست ہو جاتی. ادھا اتین تیرا میں انہوں نے کہا کہ یک جس سے سبچے ان کو کھانے والے سنتجن, سمپورن پاپنسی چھوٹ جاتی اور جو سریر کے ساتھ سیوہ سے,
لیے کامنا کرتے ہیں وہ پاپی پاپ ہی کھتے یا آئگ گے چندھن کی ایک نشچتے قریع ہے جسے من میں نہیں تچراچر جگت کے سنسکار جل جاتے سیش کےول برمہی بسٹا ہے اتے سریر کے جنم کا جو کارن ہے وہی پاپی اور جو امریک تکھتے کو دلانے والا ہے جس کے پرشات کبھی سریر دھارن نے کرنا پڑے وہی پن نے کر میں ادھائے ساتھ پنتیس میں بے کہتے ہیں کہ میری سرن ہو کر جرا مرن اور دوشوں سے چھوٹھنے کے لئے یک نہ کرنے والے پن نے کر میں جن پوروشوں کا پاپ نست ہو گیا ہے وہ شمپون برمکو شمپون کرم شمپون ادھیاتن تتھا بھلی پرکار مجھے جانتے ہیں اور مجھے جان کر مجھ میں ہی استطرے تھی اتے ہیں پن نے کر موے ہے جو جرا مرن اور دوشوں سے اوپر اٹھا کر شاشت کی جان کریں اور اوشی میں سادہ کے لئے استطید لاتا ہے جو جانم مرتو جرا مرن دوشوں کی پر دیمگوما کر رکتا ہے وہی پاپ کر دے ادھائے دستین میں کہتے ہیں جو مجھے جانم مرتو سے رہتا ادی انت سے رہتا تتا سر لوکوں کے محانی سرکوں شاکشا کر شاہتا گیدت کر لے تا ہے وہ پر اش مرن درمامنشوں میں جانوان ہے اور ایسا جاننے والا سمپون پاپن سے مختلف ہو جاتا ہے اتے ساکشات کر کے ساتھ ہی سمپون پاپن سے نیورتی ملتی ہے شارانست ہے بار بار جانم مرتو کا کارن ہی پاپ ہے اور جو اوش سے بچا کر شاشت پرماتما کی اور بھمادے پرمشانتی کی پرابتی کر دے وہی پن نے کریں شچ بولنا کہ وہ لہپنے پریصرم کا کھنا اسریوں میں ماتری بھاہ ایمان داری اتیادی بھی اس پن نے کرم کے شہیگ انگیں but اس روط کرشت پن نے ہے پرماتما کی پرابتی جو ماترے ایک پرماتما کی سردھا کو طورتا ہے بے پاپ ہے اور جوڑنا پنے سنت سب ایک گیتا دہ چار ایک میں بگوان سری کرش نے بٹایا کی اس آویناسی یوں کو کلپ کے آدی میں میں نے شوریے کے پر تیکہ ہتے کیونто سری کرشن کے پوروکالی نہیں تیحاس اتھوہ ان نے کسی بھی ساستر میں کرشن نام کا اولےک نہیں ملتا واسٹوں میں سری کرشن ایک پنے یوں گیشور ہیں ویک اب وقت اور آویناسی بھاو کی اس تیکے ہیں جب کبھی پرماتما سے ملانے والی کریا ارتا دیو کا سوٹر پات کیا گیا تو اسی اس تیکہ والے کسی مہا پروس نے کیا چہے بے رام ہوں یا ریسی جرتھوس تھیک کیونہ رہے ہیں چہے ریشب ہوں پر برٹی کال میں یہی اپڑیس ایشہ محمد گرونانک ایتیادی کیسے کے دورہ نکلہ کہا سریل کرشن نہیں آتا ہے سبی مہا پروس ایک ہیں ساب کے سب ایک ہی وندو کا ایس پرس کر ایک ہی صروف کو پاتے ہیں یہ پت ایک ایک ایک آئی ہے انا ایک پروس اس پت پر چلیں گے لیکن جب پائیں گے ایک ہی پت کو پائیں گے ایسی اوستھا کو پر اپت سند کا شریر ایک مقان مات رہے جاتا ہے وہ شداد نہ سروف ہیں ایسی اسکی تیوالوں نے کبھی کچھ کہا تو ایک یو گیسور نہیں کہا سند کہیں نے کہی تو جنم لے تھا ہے پورو بطوہ پاشج میں شیامتوہ شویت پریور میں پورو پرچلی تکینی دھرمہ و لنبیوں کے بیچ اتوہ ابو دکبھیلوں میں سامان نے جیون جینے والے گری اتوہ امیروں میں جنم لے کر بھی سندھ کے پرم پرہ والہ نہیں ہوتا ہے وہی تو اپنے لکشے پرمات مہ کو پھکر کر شروف کی اور اگر سر ہو جاتا ہے وہی ہو جاتا ہے ان کے اپڑے سو میں جاتی پاہتی وورگ وید اور امیر گریب کی دیوارے نہیں رہتی ہے یہاں تک کی ان کی درستی میں نرمادہ کا بھید بھی نہیں رہی جاتا دیکھیں گیتا پندراش شولہ دوابی مو پروشو لوگے مہا پروشو کے پاشجات ان کے انویائی اپنا سمپردائے بنا کر سنکوچت ہو جاتے ہی کسی مہا پروش کے پیچھے چلنے والے یہ ہودی ہو جاتے ہیں تو کسی کے انویائی اششائی مشلمان سناتنی اتیادی ہو جاتے ہیں کنتوں ان ادیواروں سے سنت کا سمبند قدامی نہیں ہوتا سنت نیتوں کوئی شامپردائیک ہے اور ان ایک ایجاتی ہے سنت سنت ہیں ان ایک
یسی ساماجیک سنگٹن میں نیسمیٹے آدہ ہے سنسار ورکے سنتوں کی چاہے کسی کبھی لے مانکہ جن مہو ہو چاہے کسی مجھہب سمپردائے والے ان کا پوجن ادیک کرتے ہیں کسی شامپردائک پروھا میں آ کرے ایسے سنتوں کی آلوچنا نہیں کرنی چاہیے کیوں کی وی نرپیکش ہے سنسار کے کسی بھی ستھان نے اتفن سنت نندہ کی یوبگی نہیں ہوتا یا دی کوئی ایسا کرتا ہے تو وہ ہے اپنے اندریستت انتریامی پرماتما کو دروبال کرتا ہے اپنے پرماتما سے دوری پیدا کر لے تا ہے شامپنی کشتی کرتا ہے سنسار میں جن ملے نی والوں میں یا دی اپ کا کوئی سچا ہی تیسی ہے تو سنتی ہی ہے اتے ان کے پر تیس سہر دی رہنا چنسار بھر کے لودوں کا مول کرتا گئے اسے وانچی تھونا اپنے پڑھ دھوکھ دے نہیں وید گیتا میں وید کا برنا نبہوتایا ہے کنتوں کل ملا کر وید مارگ نردے شکچنے ہیں مائلستوں مات رہے منجل تک پہنج جانے پر اس بیقتی کی لیوں کا اپیوگ سمابت ہو جاتا ہے ادھیا ہے دو پہتالیس میں سری کرشنے کہا اور جمد وید تینوں گنو تکی پرکاش پاتے ہی تو ویدوں کے کاری شیتر سے اپر اٹھ ادھیا ہے دو چھیالیس میں کہا سب اور سے پری پورن سوچھ جلا سے پر آپت ہو نے پر چھوٹھ جلا سے ہوں سے مانوشے کا جیتنا پریوجن رہ جاتا ہے اچھی پرکار برم کے گیتا ماء پرش ارتھ دھا مناوں کا ویدوں سے اتنا ہی پریوجن رہ جاتا ہے کنتو دوسنوں کے لیے تو اپیوگ ہے ادھیا ہے اٹھ اٹھائیس میں کہا ارجن مجھے تت سے بھلی بھاتی جان لینے پر یوگی وید یگ گی تو دان ایتیادی کے پنے پھلوں کو پار کر سناتن پت کو پر آپ ہو جاتا ہے ارتات جب تگ وید جیوی تھے یگ گی کرناش سے تب تک سناتن پت کی پر آپتی نہیں ہے ادھیا ہے پندھرا ایک میں بتایا اوپر پرمات مہی جس کا مول ہے نیچے کیٹ پتنگ پرینٹ پر کرتی جس کی شاکھا پر شاکھا ہے شنسار ایسا پیپل کا ایک آبیناشی ایو رکشے جو اسے مول پندھرا صحیت جانتا ہے وید کا گیتا ہے اس جانکاری کا صروط مہا پرمشے اون کے دورہ نیڈیشت بھا جن ہے پوسط کی آپاٹ سالابی اون کی اور پریڈ کرتے ہیں اوپ صریق کریشن کے نیڈیشن میں اون کے جب کا ویدھان پایا جاتا ہے ادھیای سات اٹھ اونکار میں اٹھ تیرا اوم کو جب اور میرا چندم کر ادھیای نوش صفترا جانہ یو گی پاویتر اونکار میں ادھیای دس تیتیس اکشروں میں اکار میں دس پچیس بچنوں میں ایک اکشر میں ادھیای سترا تیس اوم تت اور ست برمکا پری چائک ہے سترا چو بیس یق گیدان اور تب کی قریعیں اوم سے ہی پرارم ہوتی ہے اتے ہیں صریق ریسن کے امسار اوم کا جب نتانت اوش شک ہے جس کی ویدھی کسی انا بھوی محاپر سے سیک یہ تو قدیان ہی ویشو بمانو اسمتی یہ تا آدی مانا و مہراج مانو سے بھی پورو پر گٹوی ہے ایمام ویشوتی یوگم پر اکتوانہ مابگیم چار ایک ارجوم اس سویناسی یوگ کو میں نے قلف کے ادی میں سوریے سے کہا تتا سوریے نے مانو سے کہا مانو نے اسے سرمن کر اپنے یاد دست میں دھاہن کیا کیوں کی سرمن کی گئی وستو مان کی اسمیرتی نہیں رکھی جاستتی ہے اسی ایمام و نیراجا ایک سوکوں سے کہا ایک سوکوں سے راجر شیونے جانا اور اس مہت پر کال سے یہ بھی نا سیگ
اسی پر تھے میں لکتு ہو گیا, آرم نے کہنے اور سرون کرنے کی پر مپراتھ کی, لکھا بھی جا سکتے ہیں, ایسا کلپنا نہیں تھی, Manu Maharaj نے اسے Mansi کی 스문딴 کیا, تتا اسمرتی کی پر مپراتھ کی, اس لیے گی تو تگیانی ویشد Manu اسمرتی ہے, بگوان نے یہ جان Manu سے بھی پورவے شریع سے کہا تو اسے اسمرتی کیونیں کہتے, وستو تہے شریع جو تیر میں پر مپاکہ وے انس ہے جس سے اس Manu صریشتی کا سرجن ہو گا, بگوان صریقریشن کہتے ہیں, میں ہی پرم چیتن میج روب سے پیتا ہوں, پر کرتی گھر بھا دھار کرنے والی ما ہے وے ہوئے ویج روب پیتا شریعے ہیں, شریع پرمات ماکی ویپر شکتی ہے جیش نے Manu کی سنڈچنہ کی, ویکوی ویکتی نہیں اور جہا پرمات ماکے اس جو تری میں تیس سے Manu کی اتپتی ہوئی اس تیج میں ویگی تو تگیان بھی پر شریعت کیا پر تھاتو شریع سے کہا, شریع نے اپنے پرمانوں سے کہا, اس لیے یہ ہے Manu اسمرتی ہے, شریع کوئی ویکتی نہیں بھیج ہے, بگوانس ریکریشن کہتے ہیں ارجن وہی پراتنی ہوگ میں تیرے لیے کہنے جارہاںوں تو پریے وقتے ہیں انہن نے سکا ہے ارجن نے دھایتے سچے ادیکاریتے انہوں نے پرشن پری پرشنوں کی صرنک نہ کری کر دی کی آپ کا جنم تو اب ہوا ہے اور شریع کا جنم بہت پہلے ہوا ہے اسے آپ نہیں سوریے سے کہا یہ میں کیسے Manu اس پرکار بھی اس پچیس پرشنوں نے کیے گیتا کے سمع پنٹھتے ان کے سمپن پرشن سمع پت ہوگے کب بھگوان نے جو پرشن ارجن نہیں کر سکتے تھے جون کے ہیت میں تھے انہیں سریں اٹھایا اور سمع دھندییا انتتے ہیں بگوان نے کہا ارجن کیا تن نے میری افدیس کو یہ کا گریچت ہو سر بن کیا کیا مو سے اپنٹھمار آگیا نست ہوگا ارجن نے کہا نستوں ہو ہا اسمرتی ارلدہ پر شادہ میں آچھوٹے اس تھی تو اس میں گت سندے ہا کر اسے وچنم تو بگوان میرا مو نست ہوگا میں اسمرتی کو پر آپ تو ہا کیول سناب ہر نہیں اپی تو اسمرتی میں دھان کر لیا میں آپ کے آدیس کا پانک کروگا یود کر ہوگا انہوں نے دھنوں ستہ لیا یود دھوہ ویجے پر آپ کی ایک ویشت ددرم سامراجے کی استاب نہ ہوئی اور ایک درم ساست کے روپ میں وہی آدی درم ساست رگیتا پنے پر سانے آگیای دیتا آپ کا آدی درم ساست رہے یہی منو اسمرتی ہے جسے آر جن نے اپنی اسمرتی میں دھان کی آدیسا منو کے سنک سدو کرتیوں کا اولے ہیں ایک تو پیدا سے اپلاب دگیتا دوسری وید منو کی سمک سے اُتری تیسی کوئی کرتی منو کے شرمے میں پر گٹ نہیں ہوئی تھی پوش شرمے لیکنے لکھانے کا پر چلن نہیں تھا کارج کلم پر چلن نہیں تھا اس لیگیان کو سروط پر تھا تسنے اور اسمرتی پر دھان کرنے کی پرم پراتھی جن سے منو کا پر آدر بھا ہوئا صریشتی کے پر تھان میںوں ان منو مہراج نے وید کو شرطی تتاگیتا کو اسمرتی کا سمان دیا وید منو کے سمک سے اُتریت ہے انے اس سنے یہ سنے یوب کے ہیں بعد میں بھلے ہی اسے بھل جانے تو کوئی چتی نہیں کنت گیتا اسمرتی ہے سدائیس مند رکھیں یہ ہر منو کو سدارے نیوالا جیوان سدارے نیوالیشانتی اور سدارے نیوالی سمرتی اس ریسمپنی جیوان پرپت کرانے والا اس ریگ گائنے بھگوان نے کہا ارجون یادی تو ان کاربس میری اُفدیس کو نہیں سو لگا تو ری نست ہو جائے گا ارتھاد گیتا کی اُفدیسوں کی اوہیلنا کرنے والا نست ہو جائے ادیائی پندرے کے انتم سلوک پندرہ ویس میں بھگوان نے کہا ایتی گویی تمام ساستر میدے مختم ميا نگا یہ بھپنیے سے بی اتی گھپنیے ساستر میرے دورا کہا اسے تتویسے جان کر تو سمرتگان اور پرمس ریگی پر اپت کر لے گا ادیائیس سولے کے انتم دوسلوکانے کا یہ ساستر ویدی مت سرجے ورتتے کام کرتا ہے اسے ساستر ویدی کو تیار کر کامناوں سے پریری تھو کر انہی ویدیوں سے جو بھستے ہیں ان کے جیون میں نسوکھے نسمردی ہے اور نپرمگتی ہے تسمت ساسترم پرمانمتے کاریا کاری ابیوستی تو اس لیار جون تو مارے کرتے ویور کرتے ویکی ویوستہ میں یہ ساستری پرمانے پی اس کو بھری پرکارتین کر تت پشچات آچرن کر تو مجمیں نیواز کروں گے ابھی ناسی پت پر آبت کروں گے سدارے نیوالا جیوان سدارے نیوالی شانتی اور سمرتگ پر لوگے گیتا منو اسمرتی ہے اور بھگوانسری کشن کے انسر گیتا ہی گرم ساسترے ان نے کوئی ساستر نہیں کوئی ان نے اسمرتی نہیں سماج میں پرچلت انے کانے کسمرتی دیتا کے بھی اسمرت ہو جانے کا دوسری نام ہے اسمرتیہا کتی پے را جانوں کے سندکشن میں لیکھی سماج میں اوچ نیچ کی دیوال سدجت کرنے اسے باناے رکھنے کا اپاہے منو کے نام پر پرچاری تتتا کتی ت اسمرتی ہے میں منو کالی نواتا وانکا چیطن نہیں ہے منو ال منو اسمرتی گیتا ایک پرماتما کوئی ستیمانتی ہے اُش میں بلے دیلاتی ہے کنٹو ورطمان کال میں پرچلت لگ بھگ ایک سو چاہششششمرتیہ پرماتما کانام تک نہیں لیتی نے پرماتما کی پرابتی کے اپاہوں پر پرکاش دالتی ہے روے کےبال سرق کی ارکسن تکی شیمی تریکر نیستی جن حینہ اونی کوئی پروض سان دیتی ہے موکس کا ان میں اولی تک نہیں ہے محاپ اروش محاپ اروش باہی تتا انتیک بیوہرک تتا ادھیت میں لوگ ریتی اور یتھاٹ ویڈ ریتی دانو کی جان کری رکتا ہے یہی کارن ہے کی سمست سماج کو محاپ اروشان ای رہن سہن کا بیویدان باتایا اور ایک مریادیت بیوست تھا دی وست شکرچہ ری سویں یو گیسر سری کریشنہ محاپ مہ بود موشا ایشا محامت رامداس دیانانت گروگو بین سیگیتیادی سہس راماہ پوروشان ایسا کیا کن تو یہ بیوست تھائیں شامیک ہوتی ہے پیڈیت سماج کو بھوٹی بس توپر دانترنا یا تھارت نہیں ہوتی بھوٹی کالجنے شنک ہے شہس وط نہیں اسلی اون کا حال بھی تتسامیک ہوتا ہے سدے او نہیں اوش ای چیرنطن بیوست تھا کے روپ میں گرہن نہیں کیا جا سکتے ہیں ساماج کی بی کرتیوں کو محاپ روش شلجایا کرتے ہیں یہ دی اونے ناس شلجایا جا ہے تو گیان ویراج گی جنیت پرم کی سادنا کون سنگا ویقتی جس باتا بھانے فنسہ ہے اسے وہاں سے ہتا کر یتاٹ کو جاننے کی ایس تیمہ لانے کے لیے اینے کانے پر لوگن دیے جاتے ہیں ایتادر محاپ روش جن سب دوں کا پر یو کرتے ہیں کوئی بیوست تھا دیتے ہیں وہ دھرم نہیں ہے اسے شو دو شو سال کی بیوست تھا ملتی ہے چار چھے سو سال کے لیے او دہان بن جاتا ہے اور ہجار دو ہجار ورش میں وہ ساماج کی اویس کار ج نوین پرستیتیوں کے ساتھ ساتھ نسپرام کو جاتا ہے گروگو بینسین کی ساماج کی بیوستھا میں سستنا نیواریت تھا کیا اب اس طلوار کا سستر کے استان پر اوچتے ہیں ایشادگدے پر بیٹتی تھے مطی ایکیس گدے کے سمند میں ان کی دیوی بیوست تھاوں کا آج کیا او پیوگے کہا کسی کا گدا مچھ رہوں آج گدا کون پانتا ہے اسی پرکاری ہوگے صریک صریق کریش نے اس ساماج کی ساماج کو سامج کیا جس کا اوللیک مابحرت باگوتی تیادی گرنتوں میں ہے ساتھیں ان گرنتوں میں انہوں نے یا تارت کا بھی یا ترترتشت رن کیا کلیان کری سادنا اور بھوتی جو ستاوں کے نردیس کو ایکنے ملا دیانے سے ساماج சமாج, تطنیلڈائی کرم کو فورا پورا نہیں سمجھ. بہتے ہیں. بہتے گوستاؤ کو وہ جو کا کیوں نہیں بلکی بڑا چڑا کر گھر گھر کرتا ہے کیوں کی وہ بھتے ہیں. مہاپروس نے کہا. ایسا کہ کر ان بہتاؤ کے لیے مہاپروسوں کی دوائی بھی دیتے ہیں. یہ مہاپروس کی واسٹی کریا کو توڑ مرور کر سے برامگ بنہ دیتے ہیں. vé دراماین مہاپ ہارث بائی بھی لکراں. شاب کے پر تیپورو آگر ہے یکت دو مل دھاہنایں سیس ہیں. باہی دراطل پر جونی اپن کرنے والا سماج ان کے کتھن کا اس تھولا سے ایک گرن کر پاتا ہے. اسی لیے بگوان سے ریکریش نے سیسو بدام آننت جیوان شدہ رہنے والیشانتی پڑاہنی گیتا ساتر کو بوتی گوستاؤ سے پر تک کیا. مہاپ ہارت بارت کا بھی ہتی ایتیاس تطاگ گرو سالی سنس کرتی ساتر ہے. انہوں نے اس ویسان ایتیاس کے مدیس کا گائن کیا جسے بہویش شماہنے والی سمست پڑیا اس درم ساستر کو دھارمی دھراطل پر یا تھا وقت سمست سکیں. کالانتر میں نہریشی پاتنجل ایتیادی این ایک مہاپ ہرمشونے بھی پرمس رے کی یتاارت بیدی کو شاماج کی بیوستاؤ سے اتا کر الک رستود کیا. بیتا منوششماتر کے لئے بگوان نے اس درم ساستر کا اوپیس پر بیتے سستر شمپاتی. بیتا ایک بیس ٹیک سستر سنچالوں کے سمئے کیا کیوں کی بے بھلی پرکار جانتے تھے. کی بھوتیک سنسر میں کبھی رشانتی اور شکھ ہوتا ہی نہیں. اربہوں لوگوں کی آہتی کے اپرانت بھی جو بیجے تا ہوں گے ویبی ریتل منورت پر انتت ہے او داشی پہنگے. اس لیے انہوں نے ایسے ساستیود کا پرچے دیتا کے مادم سے دیا جس میں ایک بار بیجے ہو جانے پر شدارے نے والی بیجے انت جیوان اور اک شدھاہم ہے جو مانوں ماتر کے لیے شدے اس سلگ ہے. جو چیتر چیترگے کی لڑائی دیلے برکر کی اور گرش کا سندر سے انتا کرنے اصوب کا انت اور شبہ پر مات مصروب کی پر آبتی کا سادنے. روٹتمادی کری کے پر تی ہی انہوں نے اسے بیقت کیا صریق رش نے بار مبار کہا کی تو جہتی سے فریتی رکھنے والے بقت کے پر تی ہیت کی اچھا سے کہتا ہوں. یہ اتی گوپنی ہے ہے انت میں انہوں نے کہا جو بھکھ نہیں ہے تو پر تکشا کرو اسے راستے پر اللہوں پر اسی کے لیے کہ ہو یہ منوشی ماتر کے لیے یا تھاہت قلیان کا ایک ماتر شدن ہے جس کا کرم بداورنا نتشنوک ترگیتا ہے. پرستوطی کا یوجه سرسری کریشن کے دورا پرشاریت صری ماتبہ تو بیگتا کی آشے کا یا تھاہت تنواد کرنے کی کرنے پرستوطی کا کا نام یا تھاہت گیتا ہے. یہ بھگوان کی انتس فریرنا پر آدھاریت ہے. گیتا اپنے میں پورنے سادن گرنت ہے. سمپن گیتا میں سندے کا ایک بیستل نہیں ہے. جا کھیں سندے ہیں وہ بھوڑی کیسٹر پر سے جانا نہیں جا سکتا ہے. اسی لیے پر تیٹھ ہوتا ہے. پتے ہیں کھیں سمجھ نے آئے تو کی سیتت تو درسی محاپروس کے سانید میں سمجھ نے کا پریاس کریں. بھگوان کا کہنا ہے. تدویدی پر نی پاتینا پری پرشنے نے سیویا اپ دیکھ سندی تیٹھ جانا نہیں جانی نستت تو درسی نہا. عوم شانتی شانتی شانتی. یا تھاہت گیتا یو گیس وصری کرشن کی پرم پنیت بانی صری مد بھگوڑ گیتا کہی ارت ہے. اس میں آپ کے حرد میں اس تھیت پرمات ما کی پرابتی کے بیدھان کا پرابتی کے پرشت کی آگیا چترن ہے. اب ہیلنا کی درسٹی سے اس کا اوپیوگ ورجتے ہیں. انگتا ہم اپنے لکشے کی جانکاری سے ونچت رہے جائیں گے. اس کے سردھا پوربکہ دھن سے. مانا و اپنے قلیان کے سادھن سے بھرپور ہو جاتا ہے. اور یت کنچت بیگرہن کرے گا تو پر امسرے کو پراب کر لے گا کیوں کی اس ایش شرپت میں آرم بکا کبھی ناس نہیں ہوتا. انتن نیویتا. گیتا مانا و کے موم کمیوں کو دور کرتی ہے. یہ اٹھر یادھیا گیتا کہ کیسٹ سروم سے آپ سمچھی جائیں. جس کا پر تھم پشپا پر برم پر میسر کی سنتانوں کو شادر شمرپیک ہے. آز تارک ویسدو چرامی. اون شانتی. شانتی. شانتی. شانتی.
Podcast Summary
Key Points:
यथार्थ गीता, श्रीमद्भागवत गीता और पैगंबर के संदेशों का सारांश प्रस्तुत किया गया है।
महापुरुष सत्य की स्थापना के लिए समाज में सुधार लाते हैं, लेकिन बाद में लोग उनकी मूर्तियों और परंपराओं में भ्रमित हो जाते हैं।
श्रीकृष्ण ने अर्जुन को निष्काम कर्म योग, ज्ञान योग और भक्ति योग के माध्यम से कर्तव्य का पालन करने का उपदेश दिया।
वर्ण व्यवस्था जन्म पर नहीं, बल्कि गुण और कर्म पर आधारित है, जिसे श्रीकृष्ण ने स्पष्ट किया।
यज्ञ और कर्म का वास्तविक अर्थ इंद्रियों पर नियंत्रण और आत्म-साक्षात्कार है, न कि बाहरी अनुष्ठान।
सभी धर्मों का सार एक परमात्मा की शरण में जाना है, और महापुरुषों के मार्ग का अनुसरण करना ही सच्चा धर्म है।
Summary:
यह प्रवचन श्रीमद्भगवद्गीता के सार को स्पष्ट करता है, जिसमें श्रीकृष्ण ने अर्जुन को निष्काम कर्म योग, ज्ञान योग और भक्ति योग का उपदेश दिया। वे बताते हैं कि महापुरुष समाज में सत्य की स्थापना करते हैं, लेकिन कालांतर में लोग उनकी मूर्तियों और परंपराओं में फंसकर भ्रमित हो जाते हैं। गीता के अनुसार, वर्ण व्यवस्था जन्म पर नहीं, बल्कि गुण और कर्म पर आधारित है। यज्ञ का वास्तविक अर्थ इंद्रियों पर नियंत्रण और आत्म-साक्षात्कार है, न कि बाहरी अनुष्ठान। श्रीकृष्ण ने अर्जुन को कर्तव्य का पालन करने और फल की चिंता किए बिना कर्म करने की शिक्षा दी। वे कहते हैं कि सभी धर्मों का सार एक परमात्मा की शरण में जाना है, और महापुरुषों के मार्ग का अनुसरण करना ही सच्चा धर्म है। गीता सभी के लिए है, चाहे वे गृहस्थ हों या संन्यासी, क्योंकि निष्काम कर्म योग में थोड़ा सा भी अभ्यास जन्म-मृत्यु के भय से मुक्ति दिलाता है। अंत में, श्रीकृष्ण ने सभी धर्मों को त्यागकर केवल उनकी शरण में जाने का आदेश दिया, जो मोक्ष का एकमात्र मार्ग है।
FAQs
गीता में निष्काम कर्म योग को सर्वश्रेष्ठ मार्ग बताया गया है, जिसमें फल की इच्छा छोड़कर कर्तव्य कर्म करना सिखाया जाता है। यह कर्म बंधन से मुक्ति दिलाता है और आत्मा की शुद्धि करता है।
गीता सभी के लिए है, विशेषकर गृहस्थों के लिए। इसमें कर्म योग पर जोर दिया गया है, जो संसार में रहते हुए भी आध्यात्मिक उन्नति का मार्ग प्रशस्त करता है।
गीता में वर्ण जन्म पर आधारित नहीं, बल्कि गुण और कर्म के अनुसार विभाजित हैं। श्रीकृष्ण ने चार वर्णों की रचना अपनी शक्ति से की है, जो व्यक्ति की प्रवृत्ति और क्षमता पर निर्भर करते हैं।
महापुरुषों की मूर्तियाँ और स्मारक उनके आदर्शों और उपदेशों की याद दिलाने के लिए हैं, न कि पूजा की वस्तु। उनके चरणों में फूल चढ़ाने से नहीं, बल्कि उनके मार्ग पर चलने से सच्ची भक्ति होती है।
सच्चा धर्म एक परमात्मा में स्थिर रहना और उसकी प्राप्ति के लिए निष्काम कर्म करना है। यह किसी बाहरी रीति-रिवाज या जाति पर निर्भर नहीं है, बल्कि आंतरिक श्रद्धा और चिंतन पर आधारित है।
गीता में यज्ञ का अर्थ इंद्रियों और मन को नियंत्रित करके परमात्मा की ओर समर्पण करना है। यह बाहरी द्रव्यों से नहीं, बल्कि चिंतन और ध्यान से संपन्न होता है, और यही निष्काम कर्म का मूल है।
Chat with AI
Loading...
Pro features
Go deeper with this episode
Unlock creator-grade tools that turn any transcript into show notes and subtitle files.