Go back

Surah Al Kahf: The Divine Wisdom (Part 1)

from Stories From the Quran by Meera'n Malik

22m 26s

Surah Al Kahf: The Divine Wisdom (Part 1)

سورہ علکہف قرآن کی پہلی سورتیں ہے اور نبوت کے شروع میں نازل ہوئی تھی۔ اس سورہ کی اہمیت رسول اللہ ﷺ نے واضح کی ہے کہ جو شخص جمعہ کے دن اس کو پڑھے گا، وہ دجال سے بچے گا اور نور میں منعور ہو جائے گا۔ اس کی پہلی دو آیات کی پڑھنے سے فتنہ دجال سے بچاؤں کا امکان ہے، جبکہ آخری دو آیات کی فزیلیت قیامت کے دن نور کی پیش کش کرتی ہے۔ یہ سورہ ایک نرم، مہربان، ایمانداری کی دلیل ہے جو مسلمانوں کو روحانی ویلیٰ تلتطف کے ساتھ ساتھ دنیا کے بڑے فتنوں سے بچانے میں مدد کرتی ہے۔ اس سورہ کے ذریعے قریش اور یہودیوں نے نبوت کی حقیقت کا جائزہ لیا، لیکن وہ ناکام رہے۔ دجال کا وضاحت بھی یہ سورہ میں دی گئی ہے جو زمین پر فساد پھیلائے گا، اور مسلمانوں کو نمایاں فتح حاصل ہوگی۔ وہ مذہبی احکام، روحانی تسلی اور فتنوں سے بچاؤ کی باتیں بھی اس سورہ میں شامل ہیں۔ اس لیے یہ سورہ دنیا کے سب سے بڑے فتنے دجال سے بچانے کے لیے ایک مکمل اور محفوظ ذریعہ ہے۔

Transcription

3551 Words, 14914 Characters

Urdu
بسم اللہ رحمان رحیم سلام عليكم و رحمت الله و براکیاته ہوں سورہ علکہف اور اسم چھوپے راز سورہ علکہف مقی سورہ ہے اور یہ رسول اللہ سلام والسلم کی نبووت کے شروع ارسے میں ہی نازل ہوئی تھی پہلے یا دوسرسال میں اس کی طرطیب قرآن میں اٹھاروی یا نئی 18 سورہ ہے اور یہ دو پاروں میں ہے پندرہ اور سولہ پارے میں اس کی قلائیات ایک سو داز ہے ہمیں یہ تو پتا ہے کہ اس سورہ کو جمع کی روز پرنے کے لئے رسول سلام نے بتایا ہے میں نقرآن سورہ علکہف في یوں مل جمعہ اضاء الله نور میں بینل جمعتے ہیں رسول اللہ سلام اللہ والے و سلم نے فرمایا جو شخص جمع کے دن سورہ علتہف پڑھے گا وہ دونو جمع کے درمیان روشنی سے منعور ہو جائے گا سدخ رسول اللہ سلام اللہ والے و سلم ایک اور حدیس میں یہ بھی آتا ہے کہ جس شخص نے سورہ علکہف کی پہلی دوس آیات ہیفس کرلی تو وہ فتنے دجال سے بچالیا جائے گا ایک اور جگا پر اس کی آخری دوس آیات کی فزیلت ہے اور جو سورہ علکہف اسی طرح پڑھے گا جسرہ نازل ہوئی اس کے لئے قیامت کے دن نور ہو گا اینی آہادیس کی روشن میں ہمیں پتا چلتا ہے کہ اس سورہ کی اتنی زیادہ ویٹج ہے مگر کیوں ایسی کیا خاص بات ہے اس سورہ میں اس میں وہ کون سے چھپے راز ہیں جن کے بارے میں سکولرز بات کرتے ہیں کوشش میری یہ ہی ہے کہ نہ صرف ابن کا سیر بلکہ ہمارے اہت کے سکولرز کی بھی رائی میں اس میں شامل کروں اور اُن کے تفسیر اور اُن کے اپنینس بھی آپ کے ساملے لیکن ہوں مجھے یقین ہے کہ اس سورہ کے بارے میں آپ کا پر سبشن ہی چینج ہو جائے گا آپ اتنے سارے انگل سے اس کو دیکھنا شروع کر دیں گے اور ایک کیسر ہا ہمیں دنیا کے سب سے بڑے فتنے سے بچائے گی جو فتنہ دجال ہے یہ کیسر ہمیں اسے بچائے گی ہمیں سمجھ آ جائے گی کے کسی لیے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اس سورہ کو اتنی امپورٹنس دی اس سورہ کو بروڈلی ہم چار ہیسوں میں تکسین کر سکتے ہیں جسے کہ ہم جانتے ہیں کہ سب سے بڑا فتنہ تو دجال کا فتنہ ہے اس کے بعد چار ایسے فتنے جن کو اللہ تعالیٰ نے بڑی خوب سورتی سے سوریل کاف میں چار کسوں کے ذریعے بیان کیا ہے سب سے پہلا کسہ ہے اس حابل کاف ایمان کا فتنہ دوسرا کسہ ہے دو باقوالوں کا مال کا فتنہ تیسرا کسہ ہے حزرت مصالئی سلام اور خزر کا علم کا فتنہ چوتھر آخری کسہ سور کرنین اور یا جوج ماجوج کا جو ہے تاقت کا فتنہ ایک سہابی تھے جن کا نام تھا برابن آزب رضی اللہ وان ہو اُن سے روائیت ہے کہ ایک سہابی سورہ کاف کے دلاوط کر رہے تھے اب یہ سہابی کوئی اورتے یا وہ خود اپنی مار پات کر رہے تھے اس کی مجتاکیت نہیں ہے بہرال جو ایک سہابی سورہل کاف کے دلاوط کر رہے تھے اُن کا گھوڑا جو دو رسیو سے ساتی بنداواتا اُس نے بداکنا شو کر دیا یعنی اچھالنا شو کر دیا اُنوں نے پھر نوٹس کیا کہ بعدل کا ایک ٹکرا اُن کے گھر کے اوپر سایا کیے وہے ہیں اُنوں نے یہ بات جا کر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو بتائی تو رسول اللہ نے کہا کہ قرآن پڑتر ہو کیوں کہ یہ سکینا ہے جو قرآن کی وجہ سے نازل ہوئی مفسرین کہتے ہیں کہ سکینا فرشتوں کو بھی کہا جاتا ہے سورے کاف کے جب دلاوط ہوڑی تھے تو فرشتے تھیر گئے اور سننے لگے اور جہا فرشتے ہوتے ہیں وہیں سکینا تو تھی ایک مرتبہ رسول اللہ صلى الله وسلم نے بتایا کہ یہ تین سورتے ہیں انگنی ایک کلستر انہوں نے بتایا سورے بنیس رائی سورے کاف اور سورہ علماریم ان کو اول درجے کی سورتے کہاہوں نے اور کہا یہ میری پرانی ریات کی بھی ہیں اسے پتہ چلتا ہے کہ یہ نبووت کے شروع سالوں میں نازل ہوئی تھیں ایک اور حدیس میں پانش سورتے ہیں یہ تین سورتوں کے علاوہ سورہ طاہ اور سورہ علم بیا بھی جس کے بارے ما رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے کہا کہ یہ پانچو سورتے اول درجے کی فزیح سورتے ہیں اور میری یاد کی ہوئی ہیں سورہ علماریم کیوں نازل ہوئی؟ اس کا پسے منزر جانا بے حزروری ہے کہ آپ پوری سورہ کو اچھے سے سمجھ سکے یہ بات اب سابت ہے حدیسے کہ یہ نبووت کے شروع سالوں میں یہ سورہ نازل ہوئی ہم یہ بھی نانتے ہیں کہ شروع میں کتنہ زادہ تقلیفتے اور مشکل وقت تھا لوگوں کو یہ سمجھانا یا اس بات پر یقین دلانا کہ وہ خود ایک اللہ کے نبی اور رسول ہیں مقاوالے سخت مزاج لوگ تھے اور ہم یہ جانتے ہیں کہ وہ اپنی زید اور انا کی وجہ سے رسول صلى الله عليه وسلم کو نبیمان نے کو تیار ہی نہیں تھے اور اُن کو یہ بات سمجھ ہی نہیں آری تھی کہ کس طرح جو شخص ہمارےہ پیدا ہوا ہو جوان ہوا ہو ساری زندگی اس نے ہمارے سات گزاری ہو اچاناک ایک دن آ کے نبووت کا داوات کرتے اور اُن کے خداوں کو اور بھوتوں کو جھتلا دے جن کی اب آداد اُن کے ابوا اجداد کرتے رہے ہیں اور یہ کہے کہ اس کے اُپر کوئی وہی نازل ہوتی ہے جو اللہ کا پیغام لیکر آتی ہے اُن کو سمجھ نہیں آراتا وہ اس مسلے کا حلک ایسے نکالے ایک تو یہ بات بھی تھینا کہ اہلے ارب میں پہلے کوئی نبی رسول آیا ہی نہیں اُن آئی اندازہ ہی نہیں تھا کہ اگر کوئی نبی آتا ہے تو اُس کے سچے ہونی کی نشانیہ ہیں کیا تو قریش والوڑے دو لوگ تھے وہاں پر ایک تھا نصر بن حیرس اور دوسرا عقباب بن ابو محیت قریش والو نے اندولوں کو سے کہا کہ آپ لوگ اس طرح کریں کہ آپ ایس رب چلے جائیں ایس رب یعنی مدینا مدینے کے یعود کے پاس جائیں کیونکی یہ لوگ یہ تو مانتے تھے کہ جو یعود ہیں اُن کے کوئی نبیت ہے اُن کوئی پیغام بڑھتے اور اُن کے پر کتابے اُتریوی ہیں تو وہ یعود شاید کوئی رسطہ بتایں یہ جاننے کے لئے کہ کیا یہ آدمی سچ بول رہ ہے یا اس نے من گھڑت ایک نبوہ تپنو آلی ہے اور اس کو چھوٹا کیسے سابت کریں بس پر یہ دو آدمی چلے گئے یعس رب یعنی مدینہ وہاں کے یعود سے جاکے پوچھا اور پورا حالوہ احوال سنایا کہ اس طرح کا شخص ہے ہمارا ہی آدمی ہے اچھے خندان اور حصب نسب کا ہے مگر آپ وہ خود کو اللہ کا نبی کہتا ہے اور طالیموں تبلیخ بھی کرتا ہے ہم کس طرح پتا لگائیں کہ یہ آدمی سچ بول رہ ہے یعود ہے اس وقت کی یعودیوں کے پاس ان تھا اُن سے پہلے دو کتابے اُتر شکیتی انجیل اور توارات اُن کیا نبی بھی آچوکے تھے اور ویسے بھی مدینہ کے جو یعود تھے ان وہ بہت مانے جاتے تھے اپنے علم اور حکمت کے لئے اس لئے بھی جو ہے قرے شوالے اُن کے پاس گئے یہ سلالے نے اور دیکھا جائک تو بلکل صحیح جگا گئے یعود نے ان کو کہا کہ بڑا آسان ہے آپ یہ کریں کہ محمد ابن عبد اللہ صلى الله عليه وسلم اُن سے تین سوال پوچھے اگر وہ تینوں کے جواب دے دیں تو سمجھ جانا کہ وہ نبی ہے سچے ہیں اور ان کو آپ فالو کریں اور جو جواب نہ دے سکیں تو سمجھ جانا اس شخص نے جھوٹی نبوط کا داوہ کیا تو تم جو چاہو کر روز کے ساتھ پہلا سوال یہ تھا کہ ایک زمانے میں جو نوجیوان چلے گئے تھے وہ ایک اجیب سواکیا تھا اسے بیان کریں آپ سمجھ گئے ہیں کہ یہاں پر وہ اصحابے قیف کے بارے میں بات کریں جسے یہ بھی پتا چلتے ہیں کہ اصحابے قیف کا قصہ اسلام کے آنے سے بہت پہلے کا ہوا ہوگا جو ان یعودیوں کو بھی پتا تھا اور ان کی کتابوں میں بیزکر ہے پھر دوسرا سوال یہ تھا کہ اس شخص کا بتائیں جس نے تمام زمین کا گشت لگایا ہو یعنی مشرخ سے مغرب تک کا صفر کیا ووہو یہ بھی آپ سمجھ گئے ہوگے کہ یہاں پر وہ انوں نے زل کر نین کے بارے میں پوچھا ہے اور پھر تیسرا سوال تھا اچھا یہ والا جو سوال تھا اس کے پر یہ ہود نے کہا کہ اس کا جواب اس آدمی کو نہیں پتاونہ چاہئے یعنی اگر وہ سچا نبی ہے وہ اس سوال کا جواب نہیں دے پائے گا اور سوال یہ تھا کہ ان سے پوچھنا کے روح کیا ہے اس کا جواب صرف اللہ کے پاس ہے اب بڑے خوش ہو کے یہ دونوں آدمی بڑی تسللی کے ساتھ خوشی خوشی واپس مقکہ چلے گئے رسول سلالہ والے و سللم کے پاس گئے اور یہ تین سوال ان کے سامنے پیش کیے اور کہا کہ ہمیں اس کے جواب چاہئے رسول سلالہ و سللم نے کہا کہ ٹھیک ہے آپ کل آجائے میں آپ کو کل ان کے جواب دے دوں گا مگر یہاں پر نا رسول سلالہ والے سللم ان شاء اللہ کہنا بھول گئے تو پھر کیا ہوا وائے کہ اگلے دی مجھے ہم بھی رسول کیسلابہ سلم کے پاس کو جواب نہیں تھا قرش آتے تھے، ایک دن گزر گیا دو دن گزر گیا، تین دن گزر گیا، رسول سلابہ سلم کے پاس کو جواب نہیں تھا کیونکہ وہی نہیں آئی اور وہاں پر جو ہے جو قرش کے لوگ تھے وہ بڑے خوش تھے کہ ہم نے اتنے دن دیدی ہے یعنی پورہ ہفتا دیدیہ دز دن دیدی ہے مگر محمد کے پاس و ان باتوں کا جواب نہیں ہے ادھر رسول اللہ سلام اللہ والے بے سلم سخت پرشان تھے اور ان کو تو دورہ گم تھا ایک تو وہ یہ کہ قرش کے جواب نہیں دے سکرے دوسرا جو سب سے بڑا گم تھا کہ وہی آنہ بن دو گئیں پندرہ دن کے بعد حزرت جب رائل علیہ سلام آئے اور وہ اپنے ساتھ دو سورتے لئے آئے، ایک سوریل کہہف اور دوسرا سوروہ عل اسرہ جسے بنیس رائل بھی کہا جاتا ہے پہلے دوسرا سوالوں کے جواب سورل کہہف میں تھے پہلے قصا جو تھا اصحابل کہہف کا تھا دوسرا سوال جو ننی کیا تھا وہ سورل کہہف کا آخری قصا ہے زل کرنےن کے بارے میں جو تیسرا سوال تھا روح کا اس کا اللہ تعالیٰ نے جواب دیا سورائی بنیس رائل یا سورائل الاسرامے ویس علونہ کیا نروح کولر روح من امری رب بھی ومہ اوتی تو من علمی اللہ قلیلہ اور تم سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں تو کہیں کہ وہ میرے اللہ کا حکم یا امر ہے اور تم لوگوں کو بہت ہی کم علم روح کے بارے میں دیا گیا ہے اب ہونہ تو یو چاہیے تھا کہ قریش بھی اس بات کو تسلیم کرتی اور یا ہودی بھی مانتے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو کہ یہی نبی ہے مگر دونوں کی طرف آنا اور زیت کا مسلت ہا قریش کو اپنی روائیات پے اپنی ابادات پے اپنے آبا و آجدات کے ترزی زندگی پے بہت فخر اور غورور تھا تو یہ بات پلکل بھی ایک سبت کرنے کو تیار نہیں تھے کہ اُن کے جو بڑے تھے یا جو وہ خود ہے وہ کسی غلت رستے پے چل رہیں یا وہ کسی غلت خدا کی جو ہے ابادت کرتے ہیں دوسیت رف یا ہود یا ہود کی کتابوں میں بھی لکھا واتا کہ ایک نبی نے آنا ہے اور وہ انتزار بھی کر رہے تھے مگر وہی اس بات کو تسلین کرنے کے لئے آمادہ نہیں تھے کہ اُن کی نصل میں سے وہ نبی نہیں آیا یعنی رسو صلى الله عليه وسلم حزرت اسمائل آلی سلام کی نصل سے آئے یا ہود کو اپنے آلا نصل ہونے بہت خمند ہے ان کو لگتا ہے کہ وہ پیور برید ہیں اور اللہ تعالیٰ نے جو سب سے زادہ آل اور ارفا کام بنایا وہ یعود کی ہے اور آج تک ان کا یہ بلیف کائم ہے کہ وہ خود آلیٰ تنسل کے ہے اور باقی جتنے لوگ ہیں وہ ان کے ماتہت رہیں گے اور انہے بنایا ہی گئیس لے گیا ہے کہ یعود ان کیوں پر حکم رانی کریں سورہ علکاہف میں ایک اور یہ بات بھی شامل ہے کہ وہ اُران کا نصف ہے یعنی ہاف ایک زیقت ہاف قرآن جو ہے وہ سورہ علکاہف پہ آتا ہے اُس کا ویلیٰ تلتطف بہت ممکل ہے کہ جو آپ کے پاس قرآن مجید کا نصخہ یا مصحف ہے اُس میں یہ لفس موتہ لکھاوہ ہو یعنی بول لکھاوہ ہو ویلیٰ تلتطف اس کو بھی ضرور آپ دیکھی گا اور اس کا مطلب اتنا خوب سورت ہے اس کا مطلب لطیف سے ہے نرم مزاجی ہمدردی کائنیس مفسرین کہتے ہیں کہ مُسلمان کی زندگی کا پورہ مہور اس ایک لفس میں ہے ویلیٰ تلتطف سورہ علکاہف کو بہتر سمجھنے کے لئے میں آپ کو ایک حدی سناتیوں جس میں رسولہ اللہ سل اللہ والے وسلم نے دجال کا ذکر کیا ہے نواز پن سمان قلابی ردی اللہ ہواانوں کہتے ہیں کہ ایک دن سبا کے وقت رسول اللہ سل اللہ والے وسلم نے دجال کا ذکر کیا تو وہ اس میں آپ نے کبھی بہت دھیمہ لہجاہ ستمال کی اور کبھی زور سکھا آپ کے اس بیان سے ہم یہ محسوس کرنے لے کہ جیسے وہ انی خجوروں میں چھپا ہوا ہے پھر جب ہم شام کو رسول اللہ سل اللہ والے وسلم کی خدمت میں حظر ہوئے تو آپ نے ہمارے چہروں پر خوف کی عصرات کو دیکھر فرمائیا تم لوگوں کا کیا حال ہے ہم نے ارس کیا اللہ کی رسول آپ نے جو سبا کے وہ دجال کا ذکر فرمائیا تھا جس میں آپ نے پہلے دھیمہ پھر تیز لہجاہ استمال کیا تو اس سے ہمیں یہ محسوس ہونے لگا کہ وہ انی خجوروں کے درخطوں میں چھپا ہوا ہے آپ سل اللہ والے وسلم نے فرمائیا مجھے تم لوگوں پر دجال کے علاوہ اورو کا زیادہ در ہے اگر دجال میری زندگی میں زاہر ہوا تم میں تم سب کی جانب سے اس کا مقابلہ کروں گا اور اگر میرے بعد زاہر ہوا تو ہر انسان اس کا مقابلہ خود کرے گا اللہ تعالى ہر مسلمان پر میرا خلیفا ہے یعنی ہر مسلمان کا میرے بعد زمداری اللہ کی ہے دیکھت دجال جوان ہوگا اُس کے بال کوگریالے ہوگے اُس کی ایک آق اُتھی وی اُتھی ہوگی گویا کہ میں اُسے اب دول عظی بن قتن کے مشابے سمجھتا ہوں لہذا تو میں سے جو کوئی اُسے دیکھے اُسے چاہیے کے اُس پر سوریل کاحف کی ابتدای آیات پڑ ہے دیکھو دجال کا زوھور ارعا اور شام کے درمیانی راستے سے ہوگا وہ روے زمین پر دائیں بائیں فسات پھلاتا پھرے گا اللہ کی بن دو ایمان پر سابت قدم رہنا ہم نے ارس کیا اللہ کے رسول وہ کتھی دنو تک زمین پر رہے گا آپ سل اللہ والے وسلم نے فرمایا چالیز دن تک ایک دن ایک سال کے براور ہوگا دوسرا دن ایک مہینے کے اور تیسر دن ایک ہفتے کے براور ہوگا اور باقیت ان تمہارے آم دنوں کی طرح ہوں گے ہم نے ارس کیا اللہ کے رسول کیا اُس دن میں جو ایک سال کا ہوگا ہماری لئے ایک دن کی نماز کافی ہوگی؟ آپ سل اللہ والے سلنوں نے فرمایا نہیں بلکہ تم اُسی ایک دن کا اندازہ کر کے نماز پر لنا ہم نے ارس کیا زمین میں اُس کے چلنے کی رفتار آخر کتھی تیس ہوگی آپ سل اللہ والسللم نے فرمایا اُس بادل کی طرح جس کے پیچے ہوا ہو وہ ایک کام کے پاس آ کر اُنے اپنے آلویت کی طرف بلائے گا تو وہ قبول کرلیں گے اور اس پر امال لئے آئیں گے پھر وہ آسمان کو بارش کا حکم دے گا تو وہ برسے گا پھر زمین کو سبزا اگانے کا حکم دے گا تو زمین سبزا اگائے گی اور جب اُس کام کے جانوہر شام کو چر کر واپے سایا کریں گے تو اُن کے کوحان پہلے سے اُنچے تھن زیادہ دود بالے کوکے امری ہوئی پہلو بارے پھرے ہوگے پھر وہ ایک دوسری کام کے پاس جائے گا اور ان کو اپنی طرف داوط دے گا تو وہ اس کی بات نامانیں گے آخری دجال وہاں سے واپس ہوگا تو سبہ کو وہ کام پہت میں مقتلا ہوگی اور اُن کے حات میں کچھ نہیں رہے گا پھر دجال ایک ویراان جگا سے گترے گا اور اس سے کہے گا تو اپنے خزانے نکال وہاں کے خزانے نکل کر اس طرح اس کے ساتھ ہو جائیں گے جسے شید کی مقیئا یاسو کے پیچھے چلتی ہے یاسو بھیانی مقیوں کا بات شا کہ پیچھے چلتی ہے پھر وہ ایک ہٹے کٹھے نوع جوان کو بلائے گا اور تلوار کے ذریئے اسے ایک ہی وار میں قتل کر کے اس کے دور ٹکڑے کر دے گا ان دونوں ٹکڑوں میں اتنی دوری کر دے گا جتنی دوری پر تیر جاتا ہے پھر اس کو بلائے گا تو وہ شخص زندہ ہو کر روشن چہرہ لئے حصتا ہوا چلا آئے گا آلغر سجان اور دنیا والے اسی حال میں ہوں گے کہ اللہ تعالیہ اس اب نے مریمال ایسلام کو بھیجنگے وہ دمش کے سفید مشراکی منار کے پاس دو زرد حلکی قپڑے پہنے ہوئے اُتریں گے جو زافران اور ورس سے رنگے ہوئے ہوگے ورس بھی جڑی بوتی کا نام ہے اس کیا رنگ بھی ویسا ہی اجیسے زافران کرگوٹا ہے اور اپنے دونوں ہاتھ دونوں فرشتوں کے بازوہ پر رکھے ہوگے جو اپنے سر چھوکائیں گے تو سر سے پانی کے کترے تبکیں گے اور جب سر اٹھائیں گے تو اس سے پانی کے کترے موتی کی طرح گریں گے اُن کی ساز میں یہ سر ہوگا جس کافر کو لگ جائے گی وہ مر جائے گا اور اُن کی ساز بہتک پہنچے گے جاہتک ان کی نظر کام کرے گی پھر ایسا ہلای اس سلام چلیں گے یہاں تک کے اس یعنی دجال کو بابل لوت کے پاس پکر لیں گے وہاں اسے قتل کریں گے پھر دجال کے قتل کے بعد اللہ کے نبی ایسا ہلای اسلام اُن لوگوں کے پاس آئیں گے جن کو اللہ تعالی نے دجال کے شر سے بچا رکھا ہوگا اُن کی چھرے پر ہاتھ پھر کر اُن کی تصلی دیں گے اور اُن سے جرنات میں اُن کی درجات بھیان کریں گے یہ لوگ ابھی اسی کافیت میں ہوں گے کہ اللہ تعالیہ اُن کی طرف وہاں نازل کرے گے ایسا، میں نے اپنے کچھ ایسے بندے پیدا کیا ہے جن سے لڑنے کی طاقت کسی میں نہیں تو میرے بندوں کو طور پاہر پر لے جا اُس کے بعد اللہ تعالیہ یا جو جمع جوج کو بھیجیں گے اور وہ لوگ ویسے ہی ہوں گے جسے اللہ تعالیہ نے فرمائیا مینکل لی ہادمین ینسلون یہ لوگت ہر ٹیلے پر سے جڑے دوریں گے اُن میں سے آگے والے تبریع کے چشمی پر گزریں گے تو اُس کا سارہ پانی پیلیں گے اُن کے پیچھلے لوگ گزریں گے تو وہ کہیں گے کسی زمانے میں استلعاب کے اندر پانی تھا اللہ کے نبی ایسا آلہیہ سلام اور اُن کے ساتھ تور پہر پر حزر رہیں گے. ان مسلمانوں کے لئے اس وقت بیل کا سر تمہرے آج کے سو دینار سے بہتر ہوگا. پر ایسا آلائی سلام اور ان کے ساتھی اللہ سے دوا کریں گے. جنانچے اللہ یا جو جو ماجوچ کی گردن میں ایک ایسا پھوڑا نکالیں گے جس میں کیلے ہوگے. اس کی وجہ سے دوسرے دن سبا کو سب ایسے مرے ہوگے جسے ایک آدمی مرتا ہے. اور اللہ کی نبي ایسا آلائی سلام اور ان کے ساتھی تور پہر سے نیچے اُتریں گے. اور ایک بالشت کے برابر جگانا پائیں گے جو ان کی بدبو خون اور پیپ سے خالی ہو. ایسا آلائی سلام اور ان کے ساتھی اللہ تعالی سے دوا کریں گے. تو تو اللہ تعالی بخطی اُنٹ کی گردن کی مانند پر اندے بھینجیں گے. جو ان کی لاشوں کو اٹھا کر جہا اللہ تعالی کا حکم ہوگا وہاں پھیک دیں گے. پر اللہ تعالیٰ سخد بارش نازل کریں گے. جس سے کوئی پوچھتا یا غیر پوچھتا مقان چھوٹنے نہیں پائے گا. یہ بارش ان سب کو دھو دالے گی اور زمین کو آئینے کی طرح بلکل ساف کر دے گی. پھر زمین سے کہا جائے گا کہ تو اپنے پھل اگا اور اپنی برکت زاہر کر. تو اس وقت ایک آنار کو ایک جمات کھا کر آسودہ ہوگی اور اس آنار کے چھلکوں سے سایا حاصل کریں گی. اور دود میں اللہ تعالیٰ نے اٹنی برکت دی ہوگی کہ ایک اٹنی کا دود کئی جماتوں کو کافی ہوگا. اور ایک دود دینے والی گائے ایک قبیلے کے لوگوں کو کافی ہوگی اور ایک دود دینے والی بکری ایک چھوٹے قبیلے کو کافی ہوگی. لوگ اسی حال میں ہوگے کہ اللہ تعالیٰ ایک پاکیزہ ہوا بھی جیں گے. وہ ہوا ان کی بغلوں کے طلے آسر کرے گی اور ہر مسلمان کی روح قبس ہو جائے گی اور ایسی روح باکی رہ جائیں گے جو جگرالو ہوں گے اور گھدو کی طرح لڑھتے جگرتے یا علانیہ جما کرتے رہیں گے تو انی شرین لوگوں پر قیامت قائم ہوگی سدہ کر رسول اللہ ہی صلى الله عليه وسلم ایک ایک ایک ایک ایک ایک ایک ایک ایک ایک ایک ایک ایک

Podcast Summary

Key Points:

  1. سورہ علکہف اسلام کے شروع میں نازل ہوئی تھی اور اس کی اہمیت رسول اللہ ﷺ نے بیان کی ہے۔
  2. جو شخص جمعہ کے دن اس سورہ کو پڑھے گا وہ دجال سے بچے گا اور نور میں منعور ہو جائے گا۔
  3. پہلی دو آیات کی پڑھنے سے فتنہ دجال سے بچاؤں کا امکان ہوتا ہے۔
  4. آخری دو آیات کی فزیلیت بھی ہے، جس کے ذریعے قیامت کے دن نور میں ہو جائے گا۔
  5. سورہ علکہف کا ذکر ہمیشہ دجال کے بارے میں کیا جاتا ہے اور اس کی ویلیٰ تلتطف میں نرمی، مہربانی اور ایمان کا حکم ہے۔
  6. اس سورہ کے ذریعے قریش اور یہودیوں نے نبوت کی حقیقت کا جائزہ لیا، جس میں وہ اس کے جواب دینے میں ناکام رہے۔
  7. دجال کا وضاحت کی گئی ہے جو ایک گھناؤں میں ہوگا، اس کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو نمایاں فتح ملے گی۔
  8. اللہ تعالیٰ نے اس سورہ کو ایک معجزہ بنایا ہے جو دنیا کے بڑے فتنوں سے بچائے گی۔

Summary:

سورہ علکہف قرآن کی پہلی سورتیں ہے اور نبوت کے شروع میں نازل ہوئی تھی۔ اس سورہ کی اہمیت رسول اللہ ﷺ نے واضح کی ہے کہ جو شخص جمعہ کے دن اس کو پڑھے گا، وہ دجال سے بچے گا اور نور میں منعور ہو جائے گا۔ اس کی پہلی دو آیات کی پڑھنے سے فتنہ دجال سے بچاؤں کا امکان ہے، جبکہ آخری دو آیات کی فزیلیت قیامت کے دن نور کی پیش کش کرتی ہے۔ یہ سورہ ایک نرم، مہربان، ایمانداری کی دلیل ہے جو مسلمانوں کو روحانی ویلیٰ تلتطف کے ساتھ ساتھ دنیا کے بڑے فتنوں سے بچانے میں مدد کرتی ہے۔ اس سورہ کے ذریعے قریش اور یہودیوں نے نبوت کی حقیقت کا جائزہ لیا، لیکن وہ ناکام رہے۔ دجال کا وضاحت بھی یہ سورہ میں دی گئی ہے جو زمین پر فساد پھیلائے گا، اور مسلمانوں کو نمایاں فتح حاصل ہوگی۔ وہ مذہبی احکام، روحانی تسلی اور فتنوں سے بچاؤ کی باتیں بھی اس سورہ میں شامل ہیں۔ اس لیے یہ سورہ دنیا کے سب سے بڑے فتنے دجال سے بچانے کے لیے ایک مکمل اور محفوظ ذریعہ ہے۔

FAQs

سورہ علکہف نبوت کے شروع میں نازل ہوئی تھی جب لوگوں کو ایمان دلانا مشکل تھا۔ اس سورہ نے مسلمانوں کو ایمان دلانے کے لیے ایک ملکیتی یا نرم طریقے سے اپنی تعلیمات دیں۔

اس سورہ میں اللہ کی بارش، نور، اور انسانی زندگی کے مسائل کے بارے میں بات کی گئی ہے۔ مفسرین کہتے ہیں کہ اس میں نرمی، مسکراہٹ، اور ایمان کی تبلیغ ہے۔

قرآن کے حوالے سے یہ بات ہے کہ جو شخص جمعہ کے دن سورہ علکہف پڑھے گا، وہ دو جمعہ کے درمیان روشنی سے منعور ہو جائے گا۔

اس کی پہلی دو آیات کو پڑھنے والے فتنہ دجال سے بچ جائیں گے۔ یہ ایک حدیث میں بھی مذکور ہے۔

آخری دو آیات کی فزیلیت ہے کہ جو سورہ علکہف کو اس طرح پڑھے گا جیسے اس کی نازلیت ہوئی، وہ قیامت کے دن نور ہوگا۔

اس سورہ کو دجال کے فتنے کے خلاف پیش کیا گیا ہے، جس میں مسلمانوں کو ایمان اور اس کی برکت کی طرف مائل کیا گیا ہے۔

Chat with AI

Loading...

Pro features

Go deeper with this episode

Unlock creator-grade tools that turn any transcript into show notes and subtitle files.