
یہ تحریر پاکستان میں خواتین کے خلاف ہونے والے ظلم و ستم اور فیوڈل نظام کی جڑوں پر تنقید کرتی ہے۔ اس میں خاص طور پر امے رباب چانڈیو کے کیس کا ذکر کیا گیا ہے، جس کے والد، چچا اور دادا کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ یہ واقعہ 2018 میں پیش آیا، جب کرام اللہ چانڈیو کے گھر فائرنگ کی گئی۔ اس کے بعد سے خاندان کو انصاف نہیں مل سکا، اور اسے ایک سیاسی معاملہ بنا دیا گیا۔ تحریر میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں فیوڈل ازم اور سیاسی اسٹیبلشمنٹ مل کر عوام کو دباتے ہیں، خاص طور پر خواتین کو۔ مثال کے طور پر، فریدہ لغاری اور نمرتا کماری جیسی خواتین کے ساتھ ہونے والے ہراسانی اور قتل کے واقعات کو سامنے لایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، کراچی اور سندھ کے درمیان پیدا کیے گئے فرق کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے، جہاں کراچی کو سندھ سے الگ کرکے پیش کیا جاتا ہے، جبکہ حقیقت میں دونوں ایک دوسرے کے محتاج ہیں۔ آخر میں، میڈیا اور عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ خواتین کے حقوق کے لیے کھڑے ہوں اور ان کے خلاف ہونے والے ظلم کو روکیں، کیونکہ یہ لڑائی صرف ایک فرد کی نہیں بلکہ پورے پاکستان کی ہے۔