
یہ تقریر حضرت یحییٰ علیہ السلام کے قصے پر مبنی ہے، جو قرآن کریم میں چار سورتوں میں بیان ہوا ہے۔ حضرت زکریا علیہ السلام بہت بوڑھے تھے اور ان کی بیوی بانجھ تھی، لیکن انہوں نے اللہ سے دعا کی کہ انہیں ایک نیک اولاد عطا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول کی اور فرشتوں کے ذریعے خوشخبری دی کہ انہیں ایک بیٹا ملے گا جس کا نام یحییٰ ہوگا۔ یہ نام اللہ نے خود منتخب کیا تھا، اور اس سے پہلے کسی کا یہ نام نہیں تھا۔ حضرت یحییٰ علیہ السلام نہایت پرہیزگار، عابد اور نیک انسان تھے، اور انہوں نے اپنی پوری زندگی اللہ کی عبادت اور اطاعت میں گزاری۔ یہ قصہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ کی قدرت کوئی حد نہیں جانتا، چاہے حالات کتنے بھی مشکل ہوں، دعا سے اللہ ہر ناممکن کو ممکن بنا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ درس دیتا ہے کہ اولاد کی نیکی والدین کے لیے بہت بڑی نعمت ہے، اور اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ حضرت زکریا علیہ السلام کا صبر اور اللہ سے گڑگڑا کر دعا کرنا ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے، کیونکہ اللہ اپنے بندوں کی دعائیں سنتا ہے اور انہیں بہترین طریقے سے قبول کرتا ہے۔