Go back

Story of Prophet Uzair (Ezra) AS

7m 58s

Story of Prophet Uzair (Ezra) AS

یہ قصہ حضرت عزیر علیہ السلام کا ہے، جو بنی اسرائیل کے نبی تھے اور جن کا ذکر قرآن میں دو بار آیا ہے۔ بنی اسرائیل کے گناہوں کی وجہ سے اللہ نے بخت نصر کو مسلط کیا، جس نے فلسطین پر حملہ کر کے شہر تباہ کر دیا اور لاکھوں لوگوں کو قتل یا قید کر لیا۔ عزیر علیہ السلام بھی قید ہوئے، لیکن رہائی کے بعد جب انہوں نے شہر کی بربادی دیکھی تو اللہ سے پوچھا کہ مردوں کو کیسے زندہ کیا جائے گا۔ اللہ نے انہیں سو سال تک موت کی حالت میں رکھا، پھر زندہ کیا۔ ان کا کھانا اور پینا تازہ رہا، جبکہ ان کا گدھا مرا ہوا تھا، لیکن اللہ نے اسے ان کے سامنے زندہ کیا۔ اس طرح انہیں یقین ہو گیا کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ گھر واپسی پر انہوں نے ایک نابینا عورت کی بینائی بحال کی اور اپنے بیٹے کے نشان سے شناخت ہوئی۔ تورات کا دفن شدہ نسخہ نکالا گیا اور عزیر علیہ السلام نے اسے بغیر کسی غلطی کے پڑھا، جس سے بعض یہودیوں نے یہ غلط عقیدہ اپنا لیا کہ وہ اللہ کے بیٹے ہیں۔ قرآن سورۃ التوبہ میں اس کی تردید کی گئی ہے، اور حدیث میں بھی اس بات کی وضاحت ہے کہ اللہ کی کوئی اولاد نہیں۔ یہ قصہ اللہ کی قدرت اور توحید کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

Transcription

1214 Words, 5118 Characters

Urdu
بسم اللہ رحمان الرحيم مسلام عليكم رحمت اللہ وبرکاتو ہوں آج کا قصة وزار علیح سلام کا ہے جن کا ذکر قرآن کریم میں دو مرتبہ آیا ہے اور نام ایک دفا ان کا نام بائبل میں ازرا ہے ایک بات میں آپ کو ایہاں کلارفائ کر دوں کہ جن پچھس پر غمروں کے نام جو قرآن میں آیا ہے ان میں ایک سر ازار علیح سلام کا ذکر نہیں ہوتا وہ اسلیے کے اس بات پر پوریترا اتفاق نہیں ہے کہ وہ اللہ کے نیک پر حزگار بن دے تھے یا اس کے ساتھ ساتھ پر غمر بھی تھے زیادتر یہی تاریخ میں ملتا ہے کہ ازائل علیح سلام علیح سلام کے بعد آیا بنیس رائیل پر اللہ تعالیہ نے بہت سے نبویوں کو بھی جا وہ اسلیے کے وہ ہر کچھ ارسے بعد اللہ کے پیغام کو بھول جاتے اور پھر سے بورے عمال کی طرف لوڑ جاتے تھے اور کمزور امان والوپر دشمنوں کو حملہ کرنا اسان ہو جاتا تھا اور یہ ہوا کہ بخطے نصر کے ایک بات شانے اپنی فوج کے ساتھ فلسٹین جہا بنیس رائیل اباتے وہاں حملہ کر دیا اور شہر کے تقریباں ایک لاخلگوں کو قتل کر دیا اور کئی لوگوں کو قید کر دیا یہ بسطی بلکل برباد اور ویراان ہو گئیں لاشوں کے دھیر جلے ہوئے مقان اور اجار کے سے واقع کچھ نہیں بچا تھا قید ہونے والوں میں ازائل علیح سلام پی تھے but وہ اس وقت بہت چھوٹی امرکے تھے وہاں سے جب رہای ملی تو وہ واپنے سپنے شہر کی طرف گئے اور یہ دیکھ کر بہت او داز اور غمگین ہوئے کہ اُن کا شہر بلکل اجر چکا ہے اور بے ساختہ اللہ سے پوچھا کے یاللہ تو کس طرح این لوگوں کو مڑنے کے بعد زندہ کرے گا یہ کہہ کر وہ آگے چل پڑے اور ایک دیوار کے ساتھ تیک لگا کر ارام کرنا چاہا اور ساتھ ساتھ انہوں نے اپنے سمان سے روٹی کا ٹکڑہ نکالا اور پیالے میں دال دیا پھر انگور کا گچھا نکالا اُس کو قبرے میں دالا اور روٹی کے پر نچوڑ دیا تاکہ تھوڑیسی دیر میں روٹی نرام ہو جائے اور انہیں کھانے میں آسانی ہو بس یہ ہی انتظار میں انہوں نے تھوڑیسی ٹیک لگا لی اور جیسے یہ آکے بانت کین تو اللہ کے حکم پر ملکل موت نے ان کی روح قبس کر لی اپھر وہ اسی حالت میں سو سال رہے اور سو سال کے بعد اللہ نے انہیں جگایا اُن سے پوچھا گیا کہ کتنے ہر سے بات زندہ ہو تو وہ بولے ایک یا دو دن کے بعد یا شائد اُسے بیکم تو نے بتایا گیا کہ تم پورے سو سال مرے رہے ہو دیکھ اپنے کھانے پینے کی طرف وہ بلکل ویسی کی ویسی ہے اراب نہیں ہی اور دیکھ اپنے گدے کی طرف جو مرا ہوا ہے اور اب دیکھو کہ اللہ تعالیہ اسے کیس طرحہ تمہرے سامنے زندہ کرتا ہے پھر گدے کی حدیہ جو مٹی میں مل گئی انتی وہ نکلی پھر حدیوں نے دھانچہ یعنی اس کے لیٹن بنایا پھر انوں نے دیکھا کہ اس پر گوشر ہایا گیا پھر کھال پہنائی گئی یہاں تک کی گدھا بلکل زندہ سلامہ تو زیرہ لیس سلام کے سامنے کھڑا ہو گیا اور یہ سب وزیرہ لیس سلام نے اپنی آکھو سی دیکھا اور اسی لیے کہا جاتا ہے کہ وزیرہ لیس سلام کو آینو لیکین کا منسب ملا جنوں نے اپنی آکھو سے اللہ کی قدر دیکھی کہ کیس طرح اللہ تعالیہ مردے کو زندہ کرتا ہے پھر حویوں کے وزیرہ لیس سلام اپنی سوائری پر اپنے گھر کی طرف روانا ہوئے جب پہنچے تو وہاں انہوں نے ایک نابینا یعنی بلاید آرد کو دیکھا جب پہت ہی امر رسید اور زیفتی انہوں نے سوائرد سے پوچھا کہ یہی ہی ازیر کا گھر ہے تو وہ بلی ہاں but اس کو غیب ہوئے تو سو سال سے زیادہ ہو گئے وہاں کے لوگوں نے پوچھا تو زیرہ لیس سلام نے بتایا کہ میں ہی ازیر ہوں مجھے اللہ تعالیہ نے سو سالتک موت کی حالت میں رکھا اور دبارہ زندہ کیا لوگوں نے کہا کہ یہ کسی را ہو سکتا ہے اتنے میں ان کے بیٹے بھی آگے جو اب بھوڑ ہو گئے تھے اور ازیرہ لیس سلام اسی طرح چالی سال کے تھے تو زیف اور اتنے کہا کہ ازیرہ لیس سلام پر اللہ کی سب سے بڑی نیمتیے تھے کہ ان کی ہر دوہ کو بول ہوتی تھے اور اگر تم واقعی ازیر ہوں تو پھر میرے لی دوہ کروں کہ میری بینای وابس آجہ ہے کہ میں دیکھر تمہیں پہچان سکوں وزیرہ لیس سلام نے دوہ کی اور اسی وقت اللہ تعالیہ نے ان کی دوہ خبول کر لی وزیف اور ارد کی بینای بھی واپس آجہ کی تھی اور وہ اپنی تانکہ پے کھڑے ہوں نے کے بھی قابل ہو گئی تھے اور جب ازیرہ لیس سلام کی طرف دیکھا تو کہا کہ ہاں میں زباد کی گواہی دیتی ہوں کہ یہی ازیر ہے پھر یہ اورت ان کو لے کر مہلے والوں کے پاس گئیں ازیرہ لیس سلام کے پوٹے بھی بہی پے بیٹھے ہوئے تھے ان کو بتایا کہ یہ تمہارے دادہ ہیں اب یقین تو کسی کو نہیں آرہ تھا مگر اس اورت کی بینای وابس آچو کی تھی اور یہ ان کے بلکل سامنے کی بات ہے ازیرہ لیس سلام کی بیٹھے نے کہاں کہ ہمیں یہ پتا ہے کہ ہمارے والیت کے کندو کے درمیان سیہ بالوں سے چانت کسی شکل بنی ہوئی تھے تو جب ازیرہ لیس سلام نے اپنے شولڈر سکھا ہے تو وہ نشان موجود تھا پھر ان لوگوں میں سے ایک شخص نے کہاں کہ میں ایک جگہ کا پتا ہے جہاں تو رائت کا ایک نصخہ دفنیا ہوا ہے میں اسے نکالتا ہوں اور ایش شخص کو جوزائر ہونے کا داوہ کر رہا ہے کہتے ہیں کہ پڑھے زبانی پڑھے تو رائت کو اور ہم اسے ماج کر کے دیکھتے ہیں اگر سہیت اور سے تو رائت پڑھی تو یہ واقعی ازیرہ لیس سلام ہے درسل جب بخطی نصر نے ہملا کیا تھا تو جتنے بھی تو رائت کے نصخے تھے اس نے اُنے جلوادیا تھا تو اس وقت کسی ایک شخص نے ایک نصخہ کہیں دفنا دیا تھا بہرحال وہ نصخہ نکالا گیا اور ازیرہ لیس سلام نے سنانا شروع کر دیا تو سب حران رہے کہ ایک ہرف کی بھی قلتی نہیں تھی اور اسی وجہ سے یا ہودیوں کے ایک گرو نے یہ مانا شروع کر دیا تھا کہ ازیرہ لیس سلام اللہ کے بیٹے ہیں از بات کا ذکر قرآن کری میں بھی ہے سورے طلتوبہ آئیت تیس میں جس کا ترجمة یہ ہے اور یہ ہودیوں نے کہا ازیر اللہ کا بیٹا ہے اور اسائیوں نے کہا کہ مسیح اللہ کا بیٹا ہے ایسی سے ریلےٹٹ ایک طویل حدیز بھی ہے جس میں رسول اللہ س اللہ والے والسلام کہتے ہیں یہ ہودیوں کو بلا کر پوچھا جائے گا کہ تم کس کی ایبادت کرتے تھے یا ہودی کہیں گے اللہ کے بیٹے ازیر کی اُن سے کہا جائے گا تم نے جھود بولا اللہ تعالیہ نے نہ کوئی بیوی بنائی ہے اور نہ ہی کوئی بیٹا سدہ کر رسول اللہ حس اللہ والے والے والسلام یا ہودی روائیات میں لکھا ہے کہ ان کی امر وفات کے وقت 120 سالتی تو یہ تھا کسہ ازیر علیہ اسلام کا والله علم بس سواب

Podcast Summary

Key Points:

  1. حضرت عزیر علیہ السلام کا ذکر قرآن کریم میں دو مرتبہ آیا ہے اور بائبل میں ان کا نام عزرا ہے۔
  2. بنی اسرائیل کے گمراہ ہونے پر بخت نصر نے فلسطین پر حملہ کر کے شہر تباہ کر دیا اور بہت سے لوگوں کو قتل یا قید کر لیا۔
  3. عزیر علیہ السلام بچپن میں قید ہوئے، رہائی کے بعد شہر کی تباہی دیکھ کر اللہ سے پوچھا کہ مردوں کو کیسے زندہ کیا جائے گا۔
  4. اللہ نے انہیں سو سال تک موت کی حالت میں رکھا، پھر زندہ کیا اور ان کے کھانے پینے کی چیزیں تازہ رہیں، جبکہ گدھا زندہ ہو گیا۔
  5. گھر واپسی پر انہوں نے ایک نابینا عورت کی دعا سے بینائی بحال کی اور اپنے بیٹے کے نشان سے شناخت ہوئی۔
  6. تورات کا دفن شدہ نسخہ نکالا گیا اور عزیر علیہ السلام نے اسے بغیر کسی غلطی کے پڑھا، جس سے بعض یہودیوں نے انہیں اللہ کا بیٹا کہنا شروع کر دیا۔
  7. قرآن سورۃ التوبہ آیت 30 میں اس غلط عقیدے کا ذکر ہے، اور حدیث میں بھی اس کی تردید موجود ہے۔

Summary:

یہ قصہ حضرت عزیر علیہ السلام کا ہے، جو بنی اسرائیل کے نبی تھے اور جن کا ذکر قرآن میں دو بار آیا ہے۔ بنی اسرائیل کے گناہوں کی وجہ سے اللہ نے بخت نصر کو مسلط کیا، جس نے فلسطین پر حملہ کر کے شہر تباہ کر دیا اور لاکھوں لوگوں کو قتل یا قید کر لیا۔ عزیر علیہ السلام بھی قید ہوئے، لیکن رہائی کے بعد جب انہوں نے شہر کی بربادی دیکھی تو اللہ سے پوچھا کہ مردوں کو کیسے زندہ کیا جائے گا۔ اللہ نے انہیں سو سال تک موت کی حالت میں رکھا، پھر زندہ کیا۔ ان کا کھانا اور پینا تازہ رہا، جبکہ ان کا گدھا مرا ہوا تھا، لیکن اللہ نے اسے ان کے سامنے زندہ کیا۔ اس طرح انہیں یقین ہو گیا کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ گھر واپسی پر انہوں نے ایک نابینا عورت کی بینائی بحال کی اور اپنے بیٹے کے نشان سے شناخت ہوئی۔ تورات کا دفن شدہ نسخہ نکالا گیا اور عزیر علیہ السلام نے اسے بغیر کسی غلطی کے پڑھا، جس سے بعض یہودیوں نے یہ غلط عقیدہ اپنا لیا کہ وہ اللہ کے بیٹے ہیں۔ قرآن سورۃ التوبہ میں اس کی تردید کی گئی ہے، اور حدیث میں بھی اس بات کی وضاحت ہے کہ اللہ کی کوئی اولاد نہیں۔ یہ قصہ اللہ کی قدرت اور توحید کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

FAQs

عزیر علیہ السلام کا ذکر قرآن کریم میں دو مرتبہ آیا ہے۔ ان کا نام بائبل میں عزرا ہے۔

انہوں نے اللہ سے پوچھا تھا کہ اے اللہ، تو ان لوگوں کو موت کے بعد کیسے زندہ کرے گا، جب انہوں نے اپنے شہر کو تباہ حال دیکھا۔

عزیر علیہ السلام سو سال تک موت کی حالت میں رہے، پھر اللہ نے انہیں زندہ کیا اور ان کے کھانے پینے کی چیزیں اسی طرح تازہ تھیں۔

اللہ نے انہیں اپنے گدھے کو دیکھایا جو مرا ہوا تھا، پھر اسے زندہ کیا گیا۔ انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کس طرح اللہ مردے کو زندہ کرتا ہے۔

ان کی بیٹی نے ان کے کندھے کے نشان کی نشاندہی کی، اور ایک شخص نے تورات کا نسخہ نکالا جسے عزیر علیہ السلام نے درست پڑھا، جس سے لوگوں کو یقین ہوا۔

یہودیوں کے ایک گروہ نے یہ ماننا شروع کر دیا کہ عزیر اللہ کے بیٹے ہیں، اس کا ذکر قرآن کریم میں سورہ توبہ آیت 30 میں کیا گیا ہے۔

Chat with AI

Loading...

Pro features

Go deeper with this episode

Unlock creator-grade tools that turn any transcript into show notes and subtitle files.