
یہ قصہ حضرت عزیر علیہ السلام کا ہے، جو بنی اسرائیل کے نبی تھے اور جن کا ذکر قرآن میں دو بار آیا ہے۔ بنی اسرائیل کے گناہوں کی وجہ سے اللہ نے بخت نصر کو مسلط کیا، جس نے فلسطین پر حملہ کر کے شہر تباہ کر دیا اور لاکھوں لوگوں کو قتل یا قید کر لیا۔ عزیر علیہ السلام بھی قید ہوئے، لیکن رہائی کے بعد جب انہوں نے شہر کی بربادی دیکھی تو اللہ سے پوچھا کہ مردوں کو کیسے زندہ کیا جائے گا۔ اللہ نے انہیں سو سال تک موت کی حالت میں رکھا، پھر زندہ کیا۔ ان کا کھانا اور پینا تازہ رہا، جبکہ ان کا گدھا مرا ہوا تھا، لیکن اللہ نے اسے ان کے سامنے زندہ کیا۔ اس طرح انہیں یقین ہو گیا کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ گھر واپسی پر انہوں نے ایک نابینا عورت کی بینائی بحال کی اور اپنے بیٹے کے نشان سے شناخت ہوئی۔ تورات کا دفن شدہ نسخہ نکالا گیا اور عزیر علیہ السلام نے اسے بغیر کسی غلطی کے پڑھا، جس سے بعض یہودیوں نے یہ غلط عقیدہ اپنا لیا کہ وہ اللہ کے بیٹے ہیں۔ قرآن سورۃ التوبہ میں اس کی تردید کی گئی ہے، اور حدیث میں بھی اس بات کی وضاحت ہے کہ اللہ کی کوئی اولاد نہیں۔ یہ قصہ اللہ کی قدرت اور توحید کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔