Go back

7. सप्तम अध्याय (समग्र जानकारी)

41m 57s

7. सप्तम अध्याय (समग्र जानकारी)

The transcription includes discussions on various deities, philosophical concepts, and spiritual practices like yoga. It emphasizes the importance of devotion, self-realization, and spiritual enlightenment. The text delves into the complexities of understanding the self and the pursuit of spiritual growth through practices like yoga. It reflects on the nature of devotion, the significance of spiritual knowledge, and the path to reaching higher spiritual planes. The text conveys a message about the eternal quest for self-realization and the pursuit of spiritual wisdom through devotion and contemplation.

Transcription

3460 Words, 15621 Characters

سنسار میں پریچلت سبھیدھرم گیتا کی دورست پرتیدھوھنی ماتھ رہے بہگوان محاویر بہگوان گوطم بود گروناناک قبیر اتیادی کے شردھا پورت تب سے دھانتوں کی اچتم آبیویقتی گیتا ہے گیتا کے وہی کیسٹ سمن آپ سب کے سمکش آدمترشلارت پرستتے ہیں آبیویقتی دورست پر ماتھ مانی نمہ یہ تارت گیتا ہے شیی مات بہگوات گیتا آتھا سبتموں دیایا گتا دہیوں میں گیتا کے مکموں کی پریا سبھی پرشن پور ہو گئے نشکام کرم یوگ گیان یوگ کرم اور یگگی کا سوروب اور اس کی ویدھی یوک کا واصط ویک سوروب اور اس کا پر نام تتح آفتار ورن سنکر سناطن آتم ستمہ پورش کے لیے بھی لوگ ہی تارت کرم کرنے پر بل یوگ اتیادی پر ویشت چرچا کی گئی آگلی اتدہیوں میں یوگ اشور شریق کشن نے انہی سے سندر بھیت انیک پورک پرشنوں کو لیا ہے جن کا سمادان تتح آنوشتھان آرادنا میں سایق سے دوگہ چھٹے اتدہی کے انتم شلوک میں یوگ اشور نے یہ کہکر پرشن کا سویم بھی جارو پڑ کر دیا جو یوگ اتدہی نانتر آتمانا مجھ میں اچھی پرکارستت انتا کر رہا ہے اُسے میں اتیشہ شریش تیوگی مانتا ہوں پرماتمہ میں اچھی پرکارستتتی کیا ہے بہت سے یوگی پرماتمہ کو پر آبت تو ہوتے ہیں پھر بھی کہیں کو ایک کمیوں نے کتکتے ہیں لیشماتمی کا سر نہ رہے جائے اس پر یوگیش پرشری کرشن کہتے ہیں شری بہگوان و آچھا مئا سکتا مانا پارتا یوگ ام جن مداشریا ہے مئا سکتا مانا پارتا یوگ ام جن مداشریا ہے اساوشایاں سمگرمان یہ تھا گیا سیسی تکشروں پارتا مجھ میں آسکتا ہوئے منوالا باری نہیں ابھی تو مداشریا اردھاک میرے پرائیان ہوگر یوگ میں لگا ہوا چھور کر نہیں مجھ کو جس پرکار سنشے رہی بجانے گا اس کو سن جسے جانے کے پشجات لیشمات بھی سنشے نہ رہے ویبھوتیوں کی اس سمجھ رجان کاری پر پنہ بل دے گیا نمتے ہم سبگ گیا نم ایدام بکشام ییششتہ یج گیاتوالی ہبو یونگیت گیا تو وہ مواشیشتے میں تیریلی اس بگیا نسہید گیا ن کو سمپورنتا سے کہوں گا پورتکال میں یج گیٹس کی سریشت کرتا ہے و سمرتتوں کی پر آبتی کے ساتھ ملے والی جان کاری کا نام گیا نہے پرامتتوں پر ماتمہ کی پرتک شجان کاری کا نام گیا نہے مہا پرش کو ایک ساتھ سروطر کاری کرنے کی جو کشامتا مل دی ہے وہ ویقیا نہے کئی سے وہ پر بھو ایک ساتھ سبکہ ہر دے میں کاری کرتا ہے کس پر کار وہ اٹھا تھا بیٹھا تھا اور پر کرتی کے دوندو سے نکال کر صوروب تک کی دوری دائ کر لے تھا ہے ان کی اس کاری پرڈالی کا نام گیا نہے اس ویقیا نسہید گیا ن کو سمپورنتا سے کہوں گا جو سے جان کر سنگ کر نہیں سنسار میں اور کچھ بھی جان نہیں ہو کہ نہیں رہے جائے گا مان نے والوں کی سنگ کیا بہت کام ہے மنشانام سہسرےشوں, کشچد یتتتی سیدھیں, یتتام اپی سیدھانا, کشچن مام ویتی تتوطاہ. ہزاروں منشوں میں کوئی ہی منشوں میری پر آبتی کے لیے یتن کرتا ہے. اور ان یتن کرنے والے یوجیوں میں کوئی ویلہ ہی پر اشک مجھتتوہ اردھا ساکشاک کر کے ساتھ جانتا ہے. اب سمجھتتو ہے کہاں ایک ستان پر پنڈ روب میں ہے اتوہ سروتر ویابت ہے. اس پر یوں کے شوشری قرشن کہتے ہیں. وہ میرا پونلو وائو ہوں, کم ملو پتھرے بچہ آہنکا رائیتی یم میں ہندنا پر کرتی رشتا تھا. ارجن بھومی جلر آگنی وائیو اور آکاش تتھا مان بھدھی اور آہنکا. ایسے یہ آٹ پرکار کے بھیدوں والی میری پر کرتی ہے یہ اشتدہ مل پر کرتی ہے. یہ دندھا ریتی جگتی ہے. ایم آردھی یہ آٹ پرکاروں والی تو میری اپرہ پر کرتی ہے. آردھت جگت پر کرتی ہے. محابا ہوں ارجن اس سے دوسری کو جیو رو پرہ آردھت چیتنا پر کرتی جان. پورن جگت دھارن کی آبو ہے وہ ہے جیواتما. جیواتما بھی پر کرتی کے سممند میں رہنے کے کارن وہ بھی پر کرتی ہے. ایتدیونی نبوطانی سروانی کیو پداریا. آہن کرتسنا سیا جگتا ہے رہا ہوں پر لیستا تھا. ارجن ایسا سمجھ کے سمپوروں بھوت ایتدیونی نی. ان محابر کرتیوں سے پرہ اور اپراب کرتیوں سے ہیوت پن ہونے والے ہیں. یہی دونوں ایک ماتر یونی ہے. میں سمپوروں جگت کیوت پتی طتھا پر لی روب ہوں. اردھت مول کارن ہوں. جگت کیوت پتی مجھ سے ہے. اور پر لی اردھت ویلہ بھی مجھنے ہے. جب تک پر کرتی بھی دیمان ہے. تک میں ہوں اس کیوت پتی ہوں. اور جب کوئی محابر اشپر کرتی کا پار پالے تھا ہے. پر لے بھی ہوں جو انبحاب میں آتا ہے. صرشت کی اتبتی اور پر لے کے پرشن کو معنو سمجھنے کاثو ہل سے دیکھا ہے. ویشفے کے انے ایک شاہسٹروں میں اسے کسینا کسی طرح سمجھنے کا پریاس چلا رہا ہے. کوئی کہتا ہے پر لے میں سنسار دوب چاہتا ہے. تو کسی کے نسار سوری اتنا نیجے آ جاتا ہے کی پریتویت جل جاتی ہے. کسی کو قیامت کہتا ہے کہ اسی دن سب کا فیصلہ سنایا جاتا ہے. تو کوئی نت کے پر لے نائمتتک پر لے کی گرنا میں ویستا ہے. کین تو یو گیشفہ شریق کرشت کی انسار پر کرتی آناتی ہے. پریورتن ہوتے رہے ہیں. کین تو یہ نشت کبھی نہیں ہوئی. بھارتی ادھرم گرنتوں کی انسار معنو نے پر لے دیکھا تھا. اس کے ساتھ گیارہ رشیوں نے سے کی سینگ میں ناف باند کر حمالے کے ایک اتنگ شکھر کی شرن لیتے. لیلہ کا ہر شریقشن کے اپدیش ہو ایوم جیوان سے سمندھت ان کے سمکالین شاستر بھاگوت میں مرکانڈو مونی کے پوتر مارکانڈے جیدورہ پر لائی کا آکھوں دے گھا حال پرستوتے. وہ حمالے کے اُتر میں پوش پو بھترا ندی کے کنارے رہتے. بھاگوت کے دواداشسکند کے آتوے اور نوے ادیہے کے نوصار شاونہ قادر رشیوں نے سوتجی سے پوچھا. کہ مارکانڈے جی نے مہا پر لائے میں وقت کے پتھے پہگوان بال مکند کے درشن کیے تھے. but وہ تو ہمارے ہی ونشکے تھے اور ہم سے کچھ ہی سمیں پوروے تھے. ان کے جن کے بعد نہ تو کوئی پر لائے ہوہ اور نہ ہیس رشٹ ہی دوبی سب کچھ یہ تھا تھے. تو انہوں نے کیسا پر لائے دے گا. کہ مارکانڈے جی کی پر آتھنا سے پرسند ہو کر نرنا رائے نے انہے درشن دیا. مارکانڈے جی نے کہا کہ میں آپ کی وہ مائے دیکھنا چاہتا ہوں جس سے پریریت ہو کر یہ آتما انانت یونیوں میں پرامل کرتا ہے. بھاگوان نے صریقار کیا اور ایک دن جمونی اپنے آشرم میں بھاگوان کے چنتر میں تنمہ ہو رہے تھے. تو وہ نے دکھائی پڑا کہ چاروں اور سے سمتر امر کروں کی وہ پر آ رہا ہے. اس میں مگر چھلاگے لگا رہے تھے. ان کی چھپیٹ نرش مارکانڈے بھی آ رہے تھے. وہ ادھر ادھر بچنے کے لیے بھاگ رہے تھے. آقاش سوریے پرٹوی چندرمہ صورگ جیوتش مندل سبھی اس سمتر میں دوب کرے. اتنے میں مارکانڈے جی کو ایک برجت کا پیر اور اس کے پتے پر ایک ششو دکھائے گیا. شواص کے ساتھ مارکانڈے جی بھی اس ششو کے ادھر میں چلے گئے اپنا آشرم صوری مندل سیتھ سریشٹی کو جیوت پیا اور پنا شواص کے ساتھ اس ششو کے ادھر سے بہر آگے نیتر کھلے پر مارکانڈے نے اپنے کو اسی آشرم میں اپنے ہی آسن پر پیا. سپشت ہے کہ کروڑوں ورش کے بھاجن کے پیشچات ان مونی نے ایشوری ادھرشی کو اپنے حردے میں دیکھا. ان باؤ میں دیکھا بہر سب کچھ جیوں کا تیو تھا آتا ہے پر لئے یوگی کے حردے میں ایشوری سے ملنے والی انبھوٹی ہے بھاجن کی پورتکال میں یوگی کے حردے میں سنسار کا پرواہ مٹ کر افوکت پر مادمہی شیش باشتا ہے یہی پر لئے باہر پر لئے نہیں ہوتا مہا پر لئے شریر رہتے ہی ادھوائیت کی انروچنیستی تھی ہے یہ گریات مکھے کہوڑ بوتی سے نرنہ لینے والے برم کا حسریجن کرتے ہیں جا ہے ہم ہوں یا آپ اسی پر آگے دیکھیں انجے میری سیوائے کنچن ماتر بھی دوسری وستو نہیں ہے یہ سمپورن جگت سوتر میں مڑیو کے سدرش میرے میں گتا ہوا ہے ہے تو پر انتو جاننگے کم جب اس ادھیا ہے کہ پر اتھم شلوپ کیانوصار انان نیا سکتے ارتھاد باکت سے میرے پرائیان ہوگر یوگ میں اسی روب سے لگ جائے اس کے پہنے نہیں یوگ میں لگ ناواشاک ہے کونتے جل میں میں رس ہوں چندرمہ اور سوری میں پر کاش ہوں سمپورن ویدوں میں میں اون کار ہوں او دن آم دن کار فیم کا آ کار ہوں آ کاش میں شبد اور پرشوں میں پر اشتتت ہوں تتھا میں یوگ میں اس کے پہنے یوگ میں اس کے پہنے یوگ میں اس کے پہنے یوگ میں اس کے پہنے یوگ میں اس کے پہنے اس کے پہنے یوگ میں اس کے پہنے یوگ میں اس کے پہنے یوگ میں اس کے پہنے یوگ میں اس کے پہنے یوگتا تمہ مامیوان تمہ گتی یاد دے پیے چاروں پرکار کے بھاکت اُدار ہی ہے کونسی اُدارتا کر دی کیا آپ کی باکتی کرنے سے بگوان کو کچھ مل جاتا ہے کیا بگوان میں کوئی تمی ہے جسے آپ نے پورا کر دیا نہیں وستطاہ وہی اُدار ہے جو اپنے ہتما کو جو اپنے ہتما کو ادھو گتی میں نپنچا ہے جو اس کے اُدار کے لئے اگر سر ہے اس پہکار یہ سب اُدار ہے پران تو گیانی تو ساکشات میرا سوروپ ہی ہے ایسی میری مانیتا ہے کیونکی وہ ستر بود دھی گیانی بھاکت سروطتم گتی سوروپ مجھ بھی اس تھے ارتھات وہ مام وہ مجھ میں مجھ میں اور اس میں کوئی انتر نہیں ہے اور پنہ بل دے دے بہونام جنمنا منتے گیا نوان مام پر پددیتے واس دے وحسر ومیتے سمہات ماس دل لہو اب بیاس کرتے کرتے بہت جنموں کے انت کے جنم میں پراب دیوالے جنم میں ساکشات کر کو پراب تھوہ گیا نی سب کچھ واس دیو ہی ہے اس پرکار میرے کو بچتا ہے وہ محاطمہ اتدور لب ہے وہ کسی واس دیو کی پرتیمہ نہیں گڑ آتا بلکہ اپنے بھیتر ہی اس پرام دیو کا واس آتا ہے اسی گیا نی محاطمہ کو شریکرشن تتوضرشی بھی کہتے ہیں انی محاپورشوں سے بہر سماج میں قلیان سمبہ ہے اس پرکار کے پر تکش تتوضرشی محاپورش شریکرشن کے شبتوں میں اتدور لب ہے جب شریع اور پریعے ارتات مگتی اور بھوگ دونوں ہی بھگوان سے ملتے ہیں تب تو سبھی کو ایک ماتر بھگوان کا بجن کرنا چاہے پھر بھی لوگ انہیں نہیں باستے کیوں شریکرشن کے ہی شبتوں میں کامایستیستیر ریتگیا نہ ہا پرپت جنتیں نیدے بتا ہا تنتنی اماماستایا رقریتیا نیتا سویا وہ تتوضرشی محاقمہ اطفا پرماتمہ ہی سب کوچھ ہے لوگ ایسا سمجھ نہیں پاتے کیوں کی بھوگوں کی کامناہ دوارہ لوگوں کا βیویک اپرہل کر لیا گیا ہے اس لیے وہ اپنی پر کرتی ارتات جن مجنمانتروں سے ارجت سنسکاروں کے سوبھاو سے پریریت ہو کر مجھ پرماتمہ سے بھینہ اس لیے وہ اپنی پر کرتی ارتات جن مجنمانتروں سے ارجت سنسکاروں کے سوبھاو سے پریریت ہو کر مجھ پرماتمہ سے بھینہ انی دیوطاو اور ان کے لیے پرچلتنیاموں کے شراء لیتے یا انی دیوطا کا پرسنگ پہلی با ریا ہے یو یا معامتنوں بھکتا ہے شد دیا رچی تومی چتی تس یتس یا چلام شدام تامی و بیددامی هم جو جو سکامی بھکت جز جز دیفتا کے سفروب کو شدھا سے پوجنا چاہتا ہے میں اسی ہی دیفتا کے پرتی اس کی شدھا کو ستر کرتا ہے میں ستر کرتا ہے کیونکہ دیفتا نام کی کوئی وستو ہوتی تب تو وہ دیفتا ہی شدھا کو ستر کرتا ستیا شدھا یکتا ہے تس یارادھا نمی ہتے لبتے چتتا کاما مائی و بھی ہی تان دیتا ہے وہ پروش اس شدھا سے یکتا کر اس دیفتا کے پوجن میں تک پر ہوتا ہے اور اس دیفتا کے مادیم سے میری ہی دوارہ نرمت ان اچھے بھوگوں کو نے سندیح پر آب تھا ہے بھو کون دیتا ہے میں ہی دیتا ہے اس کی شدھا کا پرنام ہے بھوگ نہ کے کسی دیفتا کے دین کنت وہ پھل تو پاہی لیتا ہے پھر اس میں بورای کیا ہے اس پر کہتے ہیں پر انتو ان آلکو بود دیوالوں کا وہ پھل ناشوان ہے آج پھل ہے تو بھوگتے بھوگتے نشت ہو جائے گا اس لیے ناشوان ہے دیفتاوں کو پوجنے والے دیفتاوں کو پر آب تھوتے ہیں اردھا دیفتا بھی ناشوان ہے دیفتاوں سے لیکر یاوان ماتر جگت پریورتن شیل اور مرر دھرما ہے میرا بھکت مجھے ہی پر آب تھوتا ہے جو اب وقت ہے ناشتكیم پرمشانتی پاتا ہے دیفتا حردے کے انترال میں پرام دیف پرماتما کے دیوتف کو ارجت کرانے والے سد گرون کا نام ہے تھی تو یہ اندر کی وستو کنت وہ کال انتر میں لوگوں نے بھیتر کی وستو کو بہر دیکھنا پرارم کر دیا مورتیا گڑلی کرم کان رچ گالی اور وستوکتا سے دور کھڑ ہوئے شریق رش نے اس برانتی کا نیرا کرن او پر یکت چارش لوگوں میں کیا گیتا میں پہلی بار ان نے دیفتاوں کا نام لیتے ہوئے انوں نے کہا کہ دیفتا ہوتے ہی نہیں لوگوں کی شدہ جاہ جکتی ہے وہاں میں ہی کھڑا ہو کر ان کی شدہ کو پشت کرتا اور میں ہی وہاں پھل بھی دیتا وہ پھل بھی ناشوان ہے پھل ناشت ہو جاتے دیفتا ناشت ہو جاتے اور دیفتاوں کو پوچنے والا بھی ناشت ہو جاتے جن کا ویک ناشت ہو گیا ہے وہ مور بھڑی ہی ان نے دیفتاوں کو پوچھتے شریق رشن تو یہتا کہتے ہیں کہ ان نے دیفتاوں کو پوچنے کا βیدھان ہی آیکتی سنگتے آو بیکتاوں بیکتی ماپنننم مانینتی ماما بودھیا پرام باو مجادن تو ماما بیا مانوتا مون یہ دیفی جب دیفتاوں کے نام پر دیفتا نام کی کوئی وستو ہے ہی نہیں جو پھل ملتا ہے وہ بھی ناشوان ہے پھر بھی سب لوگ میرا بھجر نہیں کرتے کیوں کی بودہین پرش ارتھات کامناو دوارہ جن کا گیان اپرت ہو گیا ہے وہ میرے سروض تم آوی ناشی اور پرام پر بھاو کو بھلی پرکار نہیں جانتے اس لیے میں مجا بیکت پرش کو ویکتی بھاو کو پر آب تھو آمانتے ہیں مانوشی مانتے ہیں ارتھات شریق رشن بھی مانوش شریر داری یوجی تھے یوجیشورتے جو سویم یوجی ہو اور دوسروں کو بھی یو پردان کرنے کے جنمک شمتہ ہو انہیں یوجیشور کہتے سادنہ کے سہید اور میں پڑھ کر قرمشہ اتان ہوتے ہوتے مہا پورش بھی اسی پرام بہاو میں ستھت ہو جاتے شریر داری ہوتے ہو بھی وہ اسی اویکت سوروک میں ستھت ہو جاتے پھر بھی کامناو سے ویوش مند بھضے کے لوگ انہیں سادھارل ویکتی ہی مانتے وہ سوشتے ہیں کہ ہماری ہی طرح تو یہ بھی پیدا ہوئے بگوان کیسے ہو سکتے ان بے چاروں کا دوش بھی گیا ہے درشتی پات کرتے ہیں تو شریر ہی دکھائی پڑھتے ہیں وہ مہا پورش کے واسٹوک سوروک کو دیکھ کیوں نہیں پاتے اس پر یوجیشورت شریق رشن سے ہی سونے نہ ہم پرکاشہ صرفس کیا یو گمائیات سمع فریتا ہم ہوڑ ہو یم نہ بھی جاناتی یو کو مام جمع ہو گیا ہے سامان نے منشکل یہ مائیک پر دا ہے جس کے دوارہ پر ماتمہ صرفتا چھپا ہے یو گسادنہ سمجھ کر وہ اس میں پڑھت ہوتا ہے اس کے پشات یو گمائیہ ارثات یو گھریہ گھیئے کا آوران ہی ہے یو گھہ انشتھان کرتے کرتے اس کی پراکاشتھا یو گھہ روڑتا آجانے پر وہ چھپا ہوا پر ماتمہ வیڈت ہوتا ہے یو گیشور کہتے ہیں کہ میں اپنی یو گمائیہ سے گا گا ہوا کہ وال یوگ کی پری پک وہ آوستھوالے ہی مجھے یاتھارت دیکھ سکھتے ہیں میں سپکلی پر تکش نہیں ہوں اس لیے یہ آگیانی منشے مجھج جن مراہیت ارتات جسے اب جن میں نہیں لینا ہے آوی ناشی ارتات جس کا ناش نہیں ہونا ہے آویقتصوروں ارتات جسے پنہ وقت نہیں ہونا ہے کو نہیں جانتا ارجن بیشری کرشن کو اپنی ہیترا منشمانتا تھا آگے انوں نے درشد دیا تو ارجن گرگر آنے لگا پرارترا کرنے لگا وستیتا آویقتصوروں معاپورش کو پیچانے میں ہم لوگ پریا انڈے ہی آگی کہتے ہیں ویدہ ہم سمتی تانی ورتا مانانی چارجونہ باویش شادی چبھو تانی مامتووی دن کششانہ ارجن میں اتیت ورتمان اور بھاویشش میں ہونے والے سمپورن پرانیوں کو جانتا پر انتو مجھے کوئی نہیں جانتا کیوں نہیں جانتا اِت شادویش سامتینہ دوندو موحینہ بارتا صرف بوطانی سمپو ہم صرفی جانتی پر انتو پر بارتوانشی ارجن اِچ شادویش ارتات راگ دویشادی دوندو کے موح سے سنسار کے سمپورن پرانی اتینت موح کو پر آپ تھو رہے اس لیے مجھے نہیں جانتا تو کیا کوئی جانے گئی نہیں یو گیشفر شریק رشن کہتے ہیں یہ سامت ونتگتم پاپن جانانا مپنی کر منا تید وندو موح لیمکتا بجنتی مامترے حبرتا پرن تو پنی کرم ارتات جو سنسارتی کا انت کرنے والا ہے جس کا نام کاریم کرم نیت کرم یاگی کی پرکریا کہکر بارم بار سمجھا ہے اُس کرم کو کرنے والے جن بھتوں کا پاپ نشت ہو گیا ہے ویراغ دویشادی دوندو کے موح سے بھلی پرکار مکت ہو کر ورت میں درد رہے کر مجھ بہشتے کس لیے بہشتے جرا مرڈ موک شایو ماماشرتیا یتانتیئے تے برمہ تدویت کرتسنام ادیادم کر مچاکیلام جو میری شرن ہو کر جرا اور مرارت سے مختی پانے لیے پرہتن کرتے ہیں ویپوروش اس برم کو سمپورا ادیادم کو اور سمپورا کرم کو جانتے ہیں اور اسی کرم میں جو پوروش ادی بھوت ادیدائب تتاتاتی یگی کے سہیت مجھے جانتے ہیں مجھ میں سماہیت چتوالیوے پوروش انتکال میں بھی مجھ کو ہی جانتے ہیں مجھ میں اس تیت رہتے ہیں اور سدائب مجھ پرات رہتے ہیں چھمبیس میں ستائیس میں شلوک میں انہوں نے کہا کہ مجھے کوئی نہیں جانتے کیوں کی وہ موک رسٹ ہے انتو جو اس موک سے چھوٹنے کے لیے پر اپنشیل ہے وہ سمپور برم سمپورا ادیادم سمپورا کرم سمپورا ادی بھوت سمپورا ادیدائب اور سمپورا ادیادیگی سہیت مجھ کو جانتے ہیں ارتات ان سب کا پرنام میں ارتات سدگروھ وہی مجھے جانتا ہے ایسا نہیں کہ کوئی نہیں جانتے ہیں نش کرش ایس سات میں ادیادہ میں یو گیشفت شریق رشنے بتایا کہ انہوں نے بھاو سے مجھ میں سمپور پتھ ہو کر میری اشفت ہو کر جو یوگ میں لگتا ہے وہ سمگ روپ سے مجھ جانتا ہے مجھے جانتے کے لیے ہزاروں میں کوئی ورلا ہی پر ایتن کرتا ہے اور پر ایتن کرنے والوں میں ورلا ہی کوئی جانتا ہے وہی مجھے پینڈ روپ میں ایک دیشییا نہیں ورن صرفت روپت دیگتا ہے آٹ بھی دووالی میری جل پر کرتی ہے اور اس کے انترال میں جیو روپ میری چیتن پر کرتی ہے انہی دونوں کے سنیوںک سے پورا جگتکھا ہے تیج اور بل میری دوارا ہے راگ اور کام سے رہت بل تتھا دھرمانوں کوئی کامنا بھی مئیو جیسا کے سب کامنایں تو ورجت ہے لیکن میری پر اپتی کی لیے کامناگہ ایسی اچھا کا ابھیودہ ہونہ میرا ہی پرساد ہے کئیوال پرماتمہ کو پانی کی کامنایں دھرمانوں کوئی کامنا ہے شریق رشن نے بتایا کہ میں تینوں گلوں سے اتیت ہو پرم کا سپرش کر کے پرم باو میں ستھت ہو but بھوگہ سکت مور پروش سیدھے مجھے نبہج کر انہی دیوطاؤ کیوں پاس نہ کرتے جب کے وہاں دیوطاؤ نام کا کوئی ہےئی نہیں پتھر پانی پیر جس کو بھی وہ پوجنا چاہتے اسی میں ان کی شدھاک میں ہی پوشت کرتا اس کی آر نے کھڑا ہوں کر میں ہی پھل دیتا کیوں کہ نوہا کوئی دیوطاؤ ہے نہ کسی دیوطاؤ کے پاس کوئی بھوگی ہے لوگ مجھے سادھارا رویت کی سمچ کر نہیں بچتے کیوں کہ میں یوج پرکریہ دوارہ داگا ہوں انو شتھان کرتے کرتے یوج مائہ کا آورہ پار کرنے والے ہی مجھ شریر دھاری کو بھی اب یکت روک میں جانتے ہیں انیہ ستیوں نے نہیں میری بھاگتہ چار پرکار کے ہیں اردھارتی اردھ جگیاس اور گیانے چنتان کرتے کرتے انے ایک جنموں کے انتم جنموں میں پرابتیوالا گیانی میرا ہی سوروپ ہے اردھات انے ایک جنموں سے چنتان کر کے اس بھاگوت سوروپ کو پرابت کیا جاتا ہے راگ دویش کے موھ سے آقرانت مانوشے مجھ کدھا پی نہیں جان سکتے but راگ دویش کے موھ سے رہیت ہو کر جو نیت کرم اردھات جسے سنگ شیپ میں آرادھا کہ سکتے ہیں کہ چنتان کرتے ہوئے جرا مراہ سے چھٹھنے کے لئے پریتن شیل ہے ویپوروش سمپور اور روب سے مجھے جان لے ویس سمپور اور برموں کو سمپور آدھہتن کو سمپور آدھہتن کو سمپور آدھہتن کو سمپور اور سمپور اور جگیاگی کے سہت مجھے جانتے ویمجھ میں پرویش کرتے ہیں اور انت کال میں بھی مجھکو ہی جانتے ہیں اردھات پھر کبھی ویسمرت نہیں ہوتے ایسا دہائے میں پر ماکمہ کی سمپور جانکاری کا ویویچن ہے اتخل عام تتصدیت شریمہ بھگوٹ کی تا سوب نیشت سوب برمو و دیایا میوگ شاسترے شریق رشنار جن سمپور دھا نام سبتمو دیایا اس براکار سوامی آنگانان کرتے شریمہ بھگوٹ کی تا کے باشے یتارت کی تا کا ساتمہ دیای پورنا ہوتا ہے ہریوں تتصد ویوگ شاستر دیای پورنا ہوتا ہے ایسا دیای پورنا ہوتا ہے ایسا دیای پورنا ہوتا ہے ایسا دیای پورنا ہوتا ہے

Podcast Summary

Key Points:

  1. Mention of various deities and philosophical concepts.
  2. Discussion on devotion and spiritual practices like yoga.
  3. Emphasis on the importance of understanding the self and achieving spiritual enlightenment.

Summary:

The transcription includes discussions on various deities, philosophical concepts, and spiritual practices like yoga. It emphasizes the importance of devotion, self-realization, and spiritual enlightenment. The text delves into the complexities of understanding the self and the pursuit of spiritual growth through practices like yoga.

It reflects on the nature of devotion, the significance of spiritual knowledge, and the path to reaching higher spiritual planes. The text conveys a message about the eternal quest for self-realization and the pursuit of spiritual wisdom through devotion and contemplation.

FAQs

یہ گیتا کا بڑا حصہ ہے جو کرشن اور ارجن کے درمیان ہوتا ہے۔

یوگ کرم، یوگ گیان اور یگگی کا سوروب اور اس کی ویدھی یوک کا واصط ویک سوروب اور اس کا پر نام تتح آفتار ورن کو بھی لوگ تارت کرتے ہیں۔

بھوگوان کو کوئی پریتوویت نہیں ہوتا، وہ میری مانیتا ہے جس کی اچھی پرکارستتتی ہے۔

کرم کرنے والے ان بھوگوں کو لیتے ہیں جن کا سمادان تتح آنوشتھان آرادنا میں سایق سے دوگہ چھٹے اتدہی کے انتم شلوک میں۔

ہم سب ایک ماتر یونی ہیں، برم کرم کا انتم کر پرماتمہ کی پرتک شجان کاری کا نام گیا نہیں۔

Chat with AI

Loading...

Pro features

Go deeper with this episode

Unlock creator-grade tools that turn any transcript into show notes and subtitle files.