Go back

सम्पूर्ण गीता सार 24 मिनट में | Shrimad Bhagwat Geeta Saar | श्रीकृष्ण का अमर ज्ञान | Life Changing

24m 27s

सम्पूर्ण गीता सार 24 मिनट में | Shrimad Bhagwat Geeta Saar | श्रीकृष्ण का अमर ज्ञान | Life Changing

یہ تحریر زندگی کے گہرے فلسفے پر روشنی ڈالتی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ خوش رہنے کے لیے اپنے حالات کے مطابق فیصلے کرنے چاہئیں نہ کہ دوسروں کو دیکھ کر۔ مشکلات آتی ہیں لیکن خدا پر بھروسہ رکھیں، وہ آپ کو ہمیشہ سنبھالے گا۔ من ایک طاقتور ہتھیار ہے؛ اگر اسے مثبت سوچ اور خدا کے حوالے کیا جائے تو زندگی میں سکون اور خوشیاں آتی ہیں۔ دوسروں کی تنقید یا منفی باتوں پر دھیان دینے سے گریز کریں اور اپنے مقصد پر توجہ مرکوز رکھیں۔ سچائی، ایمانداری، محنت اور صبر سے ہی حقیقی کامیابی ملتی ہے۔ زندگی میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر پریشان ہونے کے بجائے، ہمیشہ آگے بڑھتے رہیں اور اپنے اندر کی مثبت طاقت کو مضبوط بنائیں۔ آخر میں، یہ یاد رکھیں کہ اندرونی امن اور شانت ہی حقیقی کامیابی کی کنجی ہے۔

Transcription

3573 Words, 15357 Characters

Urdu
חوش رہنا ہے تو زندگی کے فیسلے اپنی پرستھتیوں کو دیکھ کر لیں دنیا کو دیکھ کر جو فیسلے لیتے ہیں وہ دکھی ہی رہتے ہیں کوئی کچھ بھی کہیں بس اپنے آپ کو شانت رکھو کیوں کی سورج کی قرنے کتنی بھی تیز کیوں نہ ہو سمدر سوکھا نہیں کرتے ایک نے شکائت کی کہ ہے میرے ایشوہ بڑی مشکل سے میں نے گھوصلا بنایا تھا آپ نے توفان بھیج دیا اور میرے گھر او جڑ گیا او پر سے آواز آئی تیڑ گھوصلا میں ساپایا تھا تو جے کھانے کے لئے اس لیے توفان بھیجا تھا تکی تم جاگ جاؤ اور اڑسا کو اور تمہاری جان سورکشت رہے ہماری زندگی میں کتنی مسیبتے آتی ہیں ہمیں پتا بھی نہیں ہوتا کہ ہمارا پرماطمہ ہمیں کس طرح پرشانی سے بچاتا ہے اگر تمہیں لکتا ہے کہ پرماطمہ تمہیں کشت کے پاس لے آئے ہیں تو بھروسہ رکھیے وہ تمہیں کشت کے پار بھی لے جائیں گے من کی پیدا کا کوئی انت نہیں اس لیے دوسروں کو کوس نے سے کوئی لاب نہیں ہے اس کا سپ سے سرلوبایا ہے کہ اپنے من کو ایشوہر کو سمرپت کر دو ایشوہر کے ساتھ جودتے ہی جیوان میں خوشیوں کا سکون کا سنیم کا سہن شکتی کا پریم کا نی اور جا کا جیوان کے سہی راہ کا سنتشتی کا آرام ضرور ہو جاتا ہے اور ہمارا مان پیدا سے کئی سے مکت ہوتا ہے بتا بھی نہیں چلتا اگر پر بھو تم سے زیادہ انتظار کروارے ہیں تو تیار رہنا وہ سے کئی زیادہ دے نے والے ہیں جتنا تم نے مانگا ہے جس طرح لوگ مڑ دے انسان کو کندھا دے نہ پنے سمجھتے ہیں کاش اس طرح زندھا انسان کو سہارا دے نہ پنے سمجھنے لکتے تو زندگی آسان ہو جاتی مدسوچ اتنا کی زندگی کے بارے میں جس نے زندگی دی ہے اُس نے بھی تو کچھ سوچہ ہوگا نہ آپ کا بیتا ہوا کل بھلے ہی کسٹوں سے بھرا ہوا ہو پر آنے والا کل آپ کے ہاتھوں میں ہے مان اندہ ہوتا ہے اس کے پاس اپنا کوئی گھیان نہیں ہوتا مان کچھ نہیں جانتا اور نہ ہی سہی مارک درشن کرتا ہے اس لیے آپ اندے مان کی باتیں مان کر ضروری کاموں کو طالنا بند کیجئے آپ ہمیشہ اپنی بودھے سے کاملیجئے مان سے نہیں کیوں کی اندہ مان ہمیشہ آپ کو ضروری کاموں کو کرنے سے روک دے تا ہے جب آپ بودھے کے ضروری کاموں کو کرنا شروع کر دیں گے تو دھی رے دھے آپ کا مان آپ کا میٹر بندھا چلا جائے گا لیکن ابھی آپ کا مان آپ کا دشمن بنہ ہوا ہے جو آپ کو دن پے دن برباد کر رہا ہے مان سے سوچے کاریوں کو موھ سے بہر مطنکالوں جس پرکار کسی گبت مانتر کی رکشا کرتے ہیں اسی پرکار اپنے بڑے لکشوں کو مان میں رکھ کر اس کی رکشا کروں گبت رہ کر اس پورے کام کو کروں اور تبھی بولوں جب کام پورا ہو جائے کی ادکتر لوگ اپنی تقلیف سے دکھی نہیں ہے جتنا دوسروں کی طرق کی دیکھ کر دکھی ہے جب بھی کوئی بڑی بات بڑے لکشکی ہو کیول ان باتوں کو ان لوگوں سے باتی ہے جو اس باتوں کو اپنے بھیتر بچا کر رکھنے کا حاصل رکھ دے ہو یادی کبھی آرتھیکس تھی کمزور ہو جائے یادی کبھی بڑا نکسان ہو جائے یادی کبھی سب کو چوری ہو جائے نشت ہو جائے اس بات کو اپنے اندر بچا کر رکھ لےنا اپنی کمزور آرتھیکس تھی کی جانکاری اپنے میٹروں کو یا رشتے داروں کو بھی مدےنا سہنو بھوتی پانے کے لیے چار آنسوں مدکرنا کیوں کی یاد رکھوں اندر بھلے ہی کم ہو لیکن باہر پورا دام ہو کیوں کی یادی لوگوں کو پتا چل جائے گا کی آپ کے پاس پیسوں کی کمی ہے آرتھیکس تھی کی دکھت ہے وہ اپنے پیسہ آپ کے ویابہار سے نکال لیں گے اور سمائے سے پہلے آپ ختم ہو جائیں گے کیوں کی یہ پر کرتی کا نیم ہے جس کے پاس پیسہ ہے اسے وہ پیسہ ملتا ہے اور پیسہ پانے کے لیے پیسہ دکھانا پڑھتا ہے تو جب آرتھیکس تھی کمزور ہو تو زیادہ مسکورائیں اور زیادہ سشکت دکھائیے کیوں کی لوگ اتنا ہی سمچ پاتے ہیں جتنا آپ ان کو دکھاتے ہیں رونا چھوڑیے اوصد زندگی کو سویکار کرنا چھوڑیے اتیت کے بارے میں سوچ کر دکھی ہونا چھوڑیے کیا نہیں ہے اس کی پرواہ چھوڑیے کل کیا ہوگا اس کی چنتا کرنا چھوڑیے ایک بات ہمے شایاد رکھیں پہلے تو کسی متر پر ویشواص نہ کریں یا دی آپ کے آس پاس ایسے کوئی لوگ ہے جن کی جیوان شیلی لگاتار نکارات مکاریوں میں لبت ہے وہ کتنے بھی گریبی دوست کیونہ ہو آج نہیں تو کل آپ کو نکسان ضرور پہنچائیں گے آپ کی زندگی میں کچھ نہیں بضلے گا جب تک آپ خود کو نہیں بضلوں گے موپر سچ بول دے نے اور گسا کر لے نے والے لوگ ان لوگوں سے کروڑوں گنا بہتر ہے جو آپ کے سامنے کچھ آر ہے پیٹ پیچھے کچھ آر ہے کسی کا درد سامجنے کے لیے انسان کے اندر کا انسان ہونہ ضروری ہے کوئیل کی آواز کو دباز سکتا ہے مگر خود کی آواز مدھور نہیں بنا سکتا اسی طرح نندہ کرنے والا وقتی سجن کو بدنام کر سکتا ہے مگر خود سجن نہیں بنا سکتا اگر ایک لپن ہے تو اسے ایک وردان سمجھو کیوں کی پرمات مانے تمہیں خود میں سدھار لانے کا تھوڑا ادھیک سمائے دے دیا ہے ایکلے رہنے کا آنند لینہ سیکھے کیوں کی کوئی بھی ہمیشہ کے لیے آپ کے ساتھ نہیں رہے گا وقت کی ایک آدت بہت چی ہے جیسا بھی ہو گزر جاتا ہے کامیاب انسان خوش رہی نہ رہے خوش رہینے والا انسان کامیاب ضرور ہو جاتا ہے کسی کے ساتھ ہونہ ہی سب سے زیادہ كیمتی ہو جائے ورشتا زندگی کا سب سے بڑا حاصل ہوتا ہے جب سکھی ہو تو بھگوان کو مدھ بھولنا اور جب دوکھی ہو تو بھگوان پر بشواز رکھنا اُنھے چھوڑ دینہ اُچت ہے جو آپ کے ہونے کا مول یا نہیں جانتے یادی جگت میں پرتیک کارے منوشت دوارہ سمبھا ہوتا تو میرا استطوہی نہیں ہوتا ہے جہاں سے تمہارے رتنوں کا انت ہوتا ہے وہی سے میرا اردھات ایشور کا کارے پر آرام بھوتا ہے بچہ کیا کھائے گا؟ کیا پیے گا؟ کیا پہنے گا؟ اس کا دعان بچہ نہیں اس کی مارکتی ہے ہمے کیا دینہ ہے اور کیا نہیں دینہ ہے سوایم بھگوان دیکھتے ہیں جھوٹ اور دکھاوے کی رفتار کتنی بھی تیز ہو پر منزل تک کےول سچھ ہی پہنچتا ہے لوگ رنگ بدلتے ہیں مولیوالہ وقت بدلتے ہیں من ایک سندھر سیوک اور خطر ناک سوامی ہے منوش کا جیوان کےول اس کے قرم پر چلتا ہے جسے قرم ہوتے ہیں ویسے ہی اس کا جیوان ہوتا ہے جو کیا ہے وہ اوش شسام نے آئے گا کیوں کی قرم کسی کے سگے نہیں ہوتے زندگی بہت حسین ہے کبھی حساتی ہے تو کبھی رولاتی ہے لیکن جو زندگی کی بھیڑ میں خوش رہتا ہے زندگی اسی کے آگے سر جوکاتی ہے خو کر پانے کا مزاہی کچھ اور ہے رو رو کر حسنے کا مزاہی کچھ اور ہے ہارنا تو زندگی کا حصہ ہوتا ہے لیکن ہارنے کے بعد جتنے کا مزاہی کچھ اور ہے اچھا بننے کے لئے کسی کی نقل کرنے کی ضرورت نہیں خود اتنا اچھا بنوں کی لوگ آپ کی نقل کرنے لگے زندگی ایک بار ملتی ہے گلت ہے بلکی موت صرف ایک بار ملتی ہے زندگی تو ہر روز ملتی ہے جس دن آپ آپ کی ہنسی کے مالک خود بن جاؤگے آپ کو کوئی نہیں رولا سکتا اگر کوئی آپ سے مانگے تو دیدیا کرو کیوں کہ بھگوان نے آپ کو دینے والوں میں رکھا ہے مانگ نے والوں میں نہیں یاد رکھنا اچھے وقت کو دیکھنے کے لئے بورے وقت کو بھی جھیل نہ پڑھتا ہے سیوہ سب کی کرو لیکن آشا کسی سے مطرکھوں کیوں کہ سیوہ کا اصلی مول لے بھگوان ہی دیتا ہے ہمیشا اپنی نظر اس چیز پر رکھوں جسے تم پانا چاہتے ہو اس پر نہیں جسے تم خوچوکے ہو ان اور جل سے بڑھ کر کوئی دان نہیں اور ماطہ پیتا سے بڑھ کر کوئی دیفتا نہیں زندگی کا سپ سے بڑھا گرو منتر یہی ہے آپ اپنے راج کسی کو نہ بتا ہے ضرورت سے زیادہ ازدت اور سمائے دینے پر لوگ آپ کو گرہ ہوا سمجھنے لگتے ہیں کبھی پیٹ پیچھے آپ کی بات ہو رہی ہو تو گھبرا نہ مطنے کیوں کہ بات انھیں کی ہوتی ہے جن میں کوئی بات ہوتی ہے یاد رکھنا سفلتا کبھی مانگنے سے نہیں ملتی مانگنے سے کےول بھیک ملتی ہے سفلتا پانے کے لیے تمہیں خود مہند کرنی پڑے گی چھوٹی چھوٹی گلٹیوں سے بچنے کا پریاز کرو کیوں کہ انسان Thokre پاہڈوں سے نہیں بلکی چھوٹے چھوٹے پتھروں سے کھاہتا ہے اپنی گلٹی مانے بنہ آپ کبھی بھی بہتر انسان نہیں بن پاوجے دینہ شروک کر دو آنہ خودہی شروع ہو جائے گا ازاد بھی اور دولت بھی اہنکار میں دوبے انسان کو نہ تو خود کی غلطیہ دکھائی دیتی ہے اور نہ ہی دوسروں کی اچھای دکھائی دیتی ہے جیوان میں جتنی قتھن پرستیہ آئے گی اتنا ہی آپ مزبود بنتے جاؤ گے اور جتنا آپ مزبود بنتے جاؤ گے زندگی اتنی ہی آسان ہوتی جائے گی یہی زندگی کا نیام ہے یاد رکھنا اپنان کا بدلا لڑائی کر کے نہیں سامنے والے سے ادھیک سفال ہو کے لیا جا سکتا ہے بورا کرنے کا خیال آئے تو کل پیٹالوں اچھا کرنے کا خیال آئے تو اسے آجی کر دالوں ساتھ رہ کر جو چھل کرے اُس سے بڑا کوئی شدھ رو نہیں ہو سکتا اور جو ہمارے موم پر ہماری بڑائی بتادے اُس سے بڑا کوئی میٹھ رو نہیں ہو سکتا یاد رہے ساف ساف بولنے والا قدوہ ضرور ہوتا ہے مگر وشواز گھاتی نہیں تیاج دو اپنے بورے کل کو کیوں کی اس کا پر بھاو آنے والے کل کو دوشت کر دے گا زندگی جینے کے دو طریقے ہیں ایک تو جو پسند ہے اُس سے حاصل کرو اور دوسرا جو حاصل ہے اُس سے تم پسند کرنا سکھلو چیزوں کی کیمت ملنے سے پہلے ہوتی ہے اور انسان کی کیمت خو دے نے کے بعد مفت میں تو صرف ماباب کا پیار ملتا ہے باکی اس دنیا میں ہر رشتے کے لئے کچھ نہ کچھ چکانا ضرور پڑتا ہے بیزتی کا جواب اتنی ازت سے دیجیے کہ سامنے والا بھی شر مندہ ہو جائے آپ جب تک اپنی قتھنایوں اور سمسیہوں کا زمیدار دوسرا کو مانتے رہوگے دب تک کبھی بھی آپ اپنی سمسیہ اور قتھنایوں کو نہیں میٹا سکتے جتنا زیادہ ہو سکے سنو اور جتنا ہو سکے اتنا کم بولو اس لیے شاید بھگوان نے ہمیں دو کان اور ایک ہی مودیا ہے ماف بار بار کی جئے لیکن وشواز صرف ایک بار کی جئے زندگی میں کبھی بھی کسی کو اتنا مہت و مدو کہ وہ تمہارے چہرے سے مسکان ہی چھین لے اپنے جیوان کی سمسیہیں کسی کے ساتھ ساجھہمت کی جئے کیوں کی اسی پرٹیشت لوگوں کو اسے کوئی فرق نہیں پڑھتا باکی کے بیس پرٹیشت لوگ خوش ہوگے کہ آپ کے جیوان میں یہ سمسیہیں ہے کامیابی تو صرف باہی حاصل کرتا ہے جو وقت اور حالاتوں پر رویہ نہیں کرتے اپنی نظر ہمیشہ اس چیز پر رکھو جسے تم پانا چاہتے ہو اس پر نہیں جسے تم خو چکے ہو کچھ بیستھای نہیں ہے اپنے آپ کو بہت ادھیک تن آب نہ دے کیوں کی نیتی کا نیم ہے بننا ہے تو کسی کی کمی بنوں ضرورت نہیں ضرورت تو کوئی بھی پورا کر سکتا ہے لیکن کمی کسی کی کوئی بھی پورا نہیں کر سکتا کسی کی کمی بھی پورا نہیں کر سکتا کسی کی کمی بھی پورا نہیں کر سکتا ضرورت تو کوئی بھی پورا کر سکتا ہے کسی کی کمی بھی پورا نہیں کر سکتا ہے کسی کی کمی بھی پورا نہیں کر سکتا ہے اسلامہ کو بورامت کا ہو جو آپ کو ٹھو کر پہنچ آتا ہو بلکی اسلامہ کی قدر کرو کیوں کی وہ آپ کو جینے کا انداز سکھاتا ہے آپ کی سفلتہ میں وہ شامل ہوتے ہیں جنے آپ چاہتے ہیں آپ کے سنگھرش میں وہ شامل ہوتے ہیں جو آپ کو چاہتے ہیں نکھرتا وہی ہے جو پہلے سب سے زیادہ بکھر چکا ہوتے ہیں یہی جیوان کا ستے ہیں ہر پل سب کو خوش نہیں رکھ سکتے تو کبھی کوئی بچھڑ جائے گا کوئی دوری بنانے کی کوشش میں رہے گا کوئی مطلب سے تمہرے پاس آئے گا اور ہزاروں میں ایک دو ہی ہوگے جو قٹھن وقت کیوں نہ ہو ہاتھ تھام نے کا بہانہ دھوں گے کچھ غلت فیسلے زندگی کا سہی مطلب سے کھادے تھے ریشتے بنائے رکھنے کی صرف ایک ہی شرد ہے کسی کی کمیہ نہیں اچھای دیکھئے ضرورت کے بغائر لوگوں کا خیال رکھنا ایک اچھے وقتت وقت کی پہچان ہوتی ہے ہمے سا امید ایشور پر رکھو کیوں کہ اس پوری دنیا میں جتنی جلدی ایشور رازی ہوتا ہے اتنی جلدی کوئی رازی نہیں ہوتا ہے جس وقتی کا من شانت ہوتا ہے جو وقتی بولتے اور اپنا کام کرتے سمیں شانت رہتا ہے وہ وہی وقتی ہوتا ہے جس نے ست کے کوپالیا اور جو دوکھ تکلیف سے مقد ہو چکا ہے ماتیس کی تلی دوسروں کو جلانے سے پہلے سویم چلتی ہے اس پرکار ہمارہ گسہ بھی ماتیس کی ایک تلی کی طرح ہے جو دوسروں کو بربات کرنے سے پہلے سویم کو تلی کی طرح ہے بربات کرتا ہے سمجداری کی باتیں صرف دو ہی لوگ کرتے ہیں ایک وہ جس کی امر ادھیک ہو دوسرا وہ جس نے بہت کم امر میں برا وقت دیکھا ہو اس دنیا میں جنون جیسی کوئی آگ نہیں ہے مورکتا جیسی کوئی جال نہیں ہے نفرد جیسا کوئی درندہ نہیں ہے اور لالچ جیسی کوئی دھار نہیں ہے گن چھتیس نہیں کے والچار چاہی ہے اچھا وہار صاف نیاد نیک دل اور ایمانداری جس دن تم جان جاغے کہ تمہرے علاوہ اس دنیا میں کوئی اور نہیں اس دن سے تمہری اصل زندگی شروع ہو جائے گی اتیادھیک امیدوں کو ویرامدوں من کی شانتی پھر سے واقص لارت آئے گی کچھ لوگ ہمیشہ ہستے رہتے ہیں کیوں کیوں نے پتا ہے کیوں کا درد سمجھنے والا کوئی نہیں ہے کسی کو دل کی بات بتا بھی دیں گے تو وہ مزاک ہی بنائے گا جو دوسراوں کا حق اور خوشی چین لیتا ہے اس کے سکھ کی امر بہت کام ہوتی ہے بہت نمرتا چاہی ہے رشتے نبھانے کے لئے چھل کپٹ میں تو صرف محاب ہارت رچی جاتی ہے ہمیشہ وہ کام کرے جو صحی ہے وہ نہ کرے جو آسان ہے کری بھی اور گری بھی کا سکھایا ہوا سبک انسان کو انڈر سے بدلنے پر مجبور کر دیتا ہے جس طریقے سے بات کرتے ہو اس طریقے سے سنگا بھی پسند کرو ایشور کو اپنا سب سے کری بھی دوست بنالوں کیوں کی پرمات میں ہی ایک ایسا ہے جو تب تک سات دیتے ہیں جب ساری دنیا ہمارہ ساتھ چھوڑ دیتی ہے ایسے لوگوں سے دوستی بنائے رکھیے جو آپ کو بہتر بنانے کے لیے پریرت کرتا ہو جو آپ کو اپنی جواب داری مانے اور آپ کا خیال رکھی جو آپ کو اپنا سمجھے اور اپنا گھر جیسا مہسوس کرائیں جو آپ کی سہائتہ کرے اور آپ کو سمجھے بریتیو کے سمجھے تمہاری کوئی نہیں سونے گا کرم کی گتی ہی تائ کرے گی کی تم کس اور گھسیٹے جاؤ گے منوشکو جیوان کی چنوٹیوں سے بھاگ نہ نہیں چاہی اور نہ ہی بھاگ گئے اور ایشور کی اچھا جیسے بہانوں کا پریوک کرنا چاہی شانت بنے رہو جب تک تمہرہ سہی وقت نہیں آ جاتا انسان کا سب سے اچھا میٹر سوائم کی آتما اور مان ہوتا ہے جو اچھی باتوں پر سباشی دیتا ہے اور بری باتوں پر جھورتا ہے کالی ہاتھ آئی تھے اور خالی ہاتھی جاؤ گے جو آج تمہارا ہے کل کسی آور کا ہوگا اس لیے جو کچھ بھیتو کرتا ہے اسے بھگوان کو ارپن کرتا جا سوازتے سب سے بڑا ہو پہار ہے سنتوش سب سے بڑا دھن ہے وفاداری سب سے بڑا سمبند ہے چل کرو گے تو چل ملے گا آج نہیں تو کل ملے گا جو گے زندگی سچائی سے سکون ہر پل ملے گا اپواس ہمیشہ ان کا ہی کیوں لوگ لالچ گرنا چگلی کرود اور گندے ویچاروں کا بھی ہونا چاہیے مان کا سنکلپ اور شریر کا پرکرم یادی کسی کام میں پوری طرح لگا دیا جائے تو سفلتا اوشہ ملتی ہے بھاگے کے دروازے پر سر پیٹنے سے بہتر ہے کرمو کا توفان پیدا کریں دروازے اپنے آپ کھل جائیں گے کرود کی عوستھا میں بھرم جنم لیتا ہے بھرم بھدھی کو نشت کر دیتا ہے بھدھی کے نشت ہوتے ہی وقتی کا پتن ہو جاتا ہے پانی مریادہ چھوڑے تو ویناش ہوتا ہے یادی وانی مریادہ چھوڑے تو صرف ناش ہوتا ہے کسی کو دھوکہ دینہ ایک کرز ہے جو آپ کو کسی اور کے ہاتھوں ایک دن ضرور میں لے گا کلیوگ ہے ہمےشہ تیاری کے ساتھ ہی رہنا موسم اور انسان کب بڑل جائے اس کا کوئی بھروسہ نہیں بھگوان کہتے ہیں کہ تم میری اور دیکھ ہوگے تو میں بھی تمہاری اور دیکھ ہوگا تم جس بھاவ سے مجھے یاد کر ہوگے اسی بھاவ سے میں تمہارے پاس آوں گا بڑلہ لینے کے لئے مت سوچوں آرام سے بیٹھ ہو جن لوگوں نے آپ کے ساتھ بورا کیا ہے انت میں ان کے ساتھ بھی بورا ہی ہوگا اس دنیا میں جنون جسی کوئی آگ نہیں ہے مورکھتا جسی کوئی جال نہیں ہے نفرت جسا کوئی درندہ نہیں ہے اور لالچ جسی کوئی دھار نہیں ہے پرسننتا کا کوئی مارگ نہیں ہے بلکی پرسننتا ہی ایک مارگ ہے اگر آپ صحید شامے ہے تو چنتامت کی جئے بلکی اس دشامے چلتے رہی ہے ایسا کرنے سے آوشے ہی آپ اپنے لکش کو پرابت کر لیں گے اس پوری دنیا میں سب سے زیادہ كیمتی ہے سمائیں اس لئے اسے بارباد نہ کریں نہیں تو انت میں آپ کو پچھ طاوے کے علاوہ کچھ نہیں ملے گا زندگی میں اپنی طولنا کسی سے مد کروں جسے چاد اور سورج کی طولنا نہیں کی جا سکتے کیوں کی دونوں ہی اپنے اپنے وقت پر ہی چمتے ہیں یادی کسی کام کو کرنے میں در لگے تو یاد رکھنا در سنکیت ہے کہ آپ کا کام واقعی میں بہا دوری سے بھرا ہے خواب جن کے اونچے اور مست ہوتے ہیں امتحان بھی ان کے زبردست ہوتے ہیں حوصلے بھی ان کے کئی بار پست ہوتے ہیں لیکن جنون میں وہ نتمست ہوتے ہیں پاہر کی اونچائے آپ کو کبھی آگے بڑھنے سے نہیں رکھتے بلکی آپ کے جوتے میں پڑے کنکڑ آپ کو آگے بڑھنے سے رکھتے ہیں نکال پھے کو اس کنکڑ کو صرف مری ہوی مچلی پانی کا بحاف چلاتی ہے جس مچلی میں جان ہوتی ہے وہ اپنا راستہ خود بناتی ہے اپنے حوصلوں کو یہ مطالو کہ تمہاری پریشانی کتنی بڑی ہے اپنی پریشانی کو بطالو تمہارے حوصلے کتنے بڑے ہے صفال وہ نہیں جو اپنے دشمنوں پر ویجائب رابت کریں بلکی صفال تو وہ ہے جو اپنی اچچاؤں پر بھی ویجائب رابت کرتا ہے اگر کےول اس لیے اپنے اپنے سپنوں پر کام کرنا بند کر دیا ہے کیوں کی کسی کو لکتا ہے کہ آپ اسے نہیں کر سکتے ہیں تو وہ آپ کا سپنہ نہیں ہے وہ آپ کی بس ایک چھوٹیسی اچھا ہے جو لوگ آپ کو نزدیک سے نہیں جانتے ان کی باتوں کو دل پر مطلاگاو آگے بڑو اور کچھ کر کے دکھاو زندگی میں اچھے لوگوں کی طلاش مط کرو بلکی خود اچھے بن جاو آپ سے ملکر شاید کسی کی طلاش پوری ہو جائے یادی آپ اڑ نہیں سکتے تو دورو یادی آپ دور نہیں سکتے تو چلو اگر چل نہیں سکتے تو رہیں گو لیکن ہمیشہ آگے بڑھتے رہوں ایک بار گرو نے اپنے شششوں سے پوچھا کیا آپ جانتے ہیں ہمارے اندر ایک بڑا ایدھن رنتر چلتا رہتا ہے جب سارے ششچوپ رہے تو گروجی بولے وستو میں سپ سے بڑی لڑای ہمارے اندر دوب ہیڈیوں کی ہے ایک کالا بھیڈیا جو کروض ایرشا آنکار دوک گلانی لالچ چوری جھوٹ کی بہشا بولتا ہے دوسرا صفید بھیڈیا جو آنند پریم دیا ویچار اور سد بھاونا کی بہشا بولتا ہے اسی لڑائی کے شور میں ہم پہلے سے موجود من کی شانتی بھول کر اسے کہیں آر دھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں گرو نے کہا ہے ہم میں سے کوئی بھی اس لڑائی کے شور سے نہیں بچا یہ لڑائی میرے اندر بھی چلتی ہے اور آپ کے اندر بھی شششوں نے گرو کی بات دھیان سے سنی اور بوچھا گرو جی تو اس لڑائی میں جیت کیسکی ہوگی گرو جی نے کہا وہی بھیڈیاں جیتے گا جسے تم کھانا دوگے کھانا دینے کا مطلب ہے ہمارے پاس شکتی ہے دھیان دینے کی ہم جس بھیڈیے کی باتوں پر دھیان دیں گے وہ بڑا اور تاکتور ہوتا جائے گا اس لیے ہمے شا کرود سے پہلے دیا چندنا چاہیے لالک سے پہلے ادارتا چندتا سے پہلے شانتی اور ستھرتا جوڑی ہونی چاہیے اور جلن سے پہلے سدھاہاں نہ کو چندنا چاہیے ایسا کرتے کرتے ہمارا مان اپنے آپ آنندیت رہنے لگتا ہے جسے شریر کو آرام دیا جائے تو وہ خود ٹھیک ہونے لگتا ہے ویسے ہی جب مان کو شور سے آرام ملتا ہے تو وہ خود نرمل ہوتا جاتا ہے تو دوستوں اس ویڈیوں میں بس اتنا ہی آشا کرتا ہوں آپ لوگوں کو اس ویڈیوں سے کافی کچھ سیکھنے کے لے ملا ہوگا ہم ملتے ہیں ایک نائے ویڈیوں کے ساتھ تبتک لیے Thank you

Podcast Summary

Key Points:

  1. زندگی کے فیصلے اپنی حالت کے مطابق کریں، دوسروں کو دیکھ کر نہیں۔
  2. مشکلات میں بھی خدا پر بھروسہ رکھیں، وہ آپ کو مشکل سے نکالے گا۔
  3. من کو قابو میں رکھیں، مثبت سوچ اور صبر سے کام لیں۔
  4. دوسروں کی تنقید سے متاثر نہ ہوں، اپنی راہ پر ڈٹے رہیں۔
  5. سچائی، ایمانداری اور محنت سے ہی کامیابی ملتی ہے۔

Summary:

یہ تحریر زندگی کے گہرے فلسفے پر روشنی ڈالتی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ خوش رہنے کے لیے اپنے حالات کے مطابق فیصلے کرنے چاہئیں نہ کہ دوسروں کو دیکھ کر۔ مشکلات آتی ہیں لیکن خدا پر بھروسہ رکھیں، وہ آپ کو ہمیشہ سنبھالے گا۔ من ایک طاقتور ہتھیار ہے؛ اگر اسے مثبت سوچ اور خدا کے حوالے کیا جائے تو زندگی میں سکون اور خوشیاں آتی ہیں۔ دوسروں کی تنقید یا منفی باتوں پر دھیان دینے سے گریز کریں اور اپنے مقصد پر توجہ مرکوز رکھیں۔ سچائی، ایمانداری، محنت اور صبر سے ہی حقیقی کامیابی ملتی ہے۔ زندگی میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر پریشان ہونے کے بجائے، ہمیشہ آگے بڑھتے رہیں اور اپنے اندر کی مثبت طاقت کو مضبوط بنائیں۔ آخر میں، یہ یاد رکھیں کہ اندرونی امن اور شانت ہی حقیقی کامیابی کی کنجی ہے۔

FAQs

خوش رہنے کے لیے اپنی پرستھتیوں کو دیکھ کر فیصلے لیں، دنیا کو دیکھ کر فیصلے کرنے سے دکھ ہی ملتا ہے۔ اپنے آپ کو شانت رکھیں اور اپنے اندرونی سکون پر توجہ دیں۔

اگر لگتا ہے کہ خدا آپ کو کشتی کے پاس لے آیا ہے، تو بھروسہ رکھیں کہ وہ آپ کو کشتی کے پار بھی لے جائیں گے۔ ہر مشکل میں خدا کی مدد چھپی ہوتی ہے۔

من کو خدا کے حوالے کر دیں، اس سے جڑتے ہی زندگی میں سکون اور خوشی آ جاتی ہے۔ من کی شرارتوں سے بچنے کے لیے اسے مثبت کاموں میں مصروف رکھیں۔

دوسروں کو کوسنے سے کوئی فائدہ نہیں، کیونکہ تنقید کرنے والا آپ کو بدنام کر سکتا ہے مگر خود آپ نہیں بنا سکتا۔ اپنی خود اعتمادی پر توجہ دیں۔

کامیابی صرف اسے ملتی ہے جو وقت اور حالات پر رویہ نہیں کرتے۔ اپنی نظر ہمیشہ اپنے مقصد پر رکھیں، نہ کہ ماضی کی ناکامیوں پر۔

رشتے زندگی کا سب سے بڑا حاصل ہوتے ہیں۔ اچھے تعلقات نبھانے کے لیے ایمانداری اور خلوص کی ضرورت ہوتی ہے، چھل کپٹ سے محض دوریاں پیدا ہوتی ہیں۔

Chat with AI

Loading...

Pro features

Go deeper with this episode

Unlock creator-grade tools that turn any transcript into show notes and subtitle files.