Go back

S1E04 // what if this works

7m 22s

S1E04 // what if this works

گلگت بلتستان کے براندو بالا گاؤں سے تعلق رکھنے والے ساجد امیری ایک منفرد فنکار ہیں جو کھڑکیوں کی جالیوں (وائر میش) سے شاہکار تخلیق کرتے ہیں۔ ان کا فن روایتی مصوری یا مجسمہ سازی سے بالکل مختلف ہے، جہاں وہ جالیوں کی مختلف تہوں کو تراش کر روشنی اور سائے کے ذریعے پورٹریٹ بناتے ہیں۔ ان کے کام میں کوئی رنگ یا پینٹ استعمال نہیں ہوتا، صرف جالیوں کی گہرائی اور تہوں سے تصویر ابھرتی ہے۔ ساجد نے یہ سفر یونیورسٹی کے ایک اسائنمنٹ سے شروع کیا، جہاں انہوں نے چارکول سے بنے پورٹریٹ کو جالیوں میں ڈھالنے کا تجربہ کیا۔ پہلا آرٹ ورک بنانے میں انہیں چھ ماہ سے زیادہ کا وقت لگا، کیونکہ انہیں صحیح قینچی اور مواد تلاش کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ دستانے پہن کر کام کرنے سے گریز کرتے ہیں کیونکہ اس سے مواد سے براہ راست رابطہ ختم ہو جاتا ہے اور فن کا احساس کم ہو جاتا ہے۔ ان کے فن پارے پاکستان اور بین الاقوامی سطح پر پذیرائی حاصل کر رہے ہیں، اور لوگ شروع میں انہیں پینسل سے بنا سمجھتے ہیں، لیکن قریب سے دیکھنے پر حیران رہ جاتے ہیں۔ ساجد کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد یہ بتانا ہے کہ ہم اپنے ارد گرد موجود چیزوں سے کیسے کام لے سکتے ہیں۔

Transcription

1295 Words, 5541 Characters

Urdu
اس ویس اردو سے میں ہوں ایسال خار گلکت بلٹستان کے براندو بالا پہار سے رفکو دورتی ہوسری نہیں بلکہ غیر مامولی صلاحیتوں کے حمل فنکار بھی تونیا کے ساملے لارہ ہے انیمے سے ایک نام ساجیت امیری کے ہے جننے عام دور پر گھروں کی کھرکیوں میں استعمال ہونے والی بائر میں اش کو اپنے فنکہ زریع بنا کر ایک منفریت شراف کائم کی ہے پاکستان کے باہد وائرمش آٹیس کے دوبہ وہ ایک ایسے میڈیم میں شحکار تخلی کر رہے ہیں جسے روائیتی دوبہ کبھی فنی مصبری یا مجھس با سازی کا حصہ نہیں سمجھتا تھا ان کے فنبارے دھور سے دیکھر با کسی پیسل سکیچ کا گمان دے تھی تحمق ری بھیا کر مالوں ہوتا ہے کہ یہ بے جان داتی جالی کو انتیائی محارز سے تراش کر تخلی کیا گئے ہیں باریک بھی نہیں سبر اور کمال محارز سے تراش کیا گئے یہ شحکار نصرف پاکستان بلکہ بنی وقتمی ستا پر بھی تواجہ حصل کر رہے ہیں ساجد امیری نے بائب ایش سے آٹ بنانے کا کام کیسے اور کب شروع کیا اور کیس طرح وہ شحکار تخلی کرتے ہیں یہ جانگنے کے بھی اس بیس اندوڑے نوضوان آٹیس سے خصوصی گفتو گئی ہے آئیے آپ کو بھی سنواتے ہیں ساجد نے ہمیں بتایا کہ اس طرح ان کی اینوستی کے ایسائیمین سے یہ سفر اچانت شروع ہوا اور پھر چلتا ہی کیا وائمش کا جو سفر ہے وہ بیسکلی ایک ایسائیمین سے ستاٹ ہوا جب میں بیچلر کر رہا تھا تو ہمارے ایسائیمین تھا جس میں ہم نے کچھ آٹ رکھم نے بنانا تھا لیکن چون کی ایتالو گلگی پلجستان سے ہے تو وہ وہاں ایک بہت ہارٹ جگا ہے اور وہاں پر ساری چیزیں ہم خود اپنے ہاتھوں سے کرتے ہیں تو وہ اس کلچر کے اپر جو ہنا ایک کمان پہلے سے ہی تھی اگر دیکھا زایا تو جو وائرمش کا جو ایک پورٹریک رہا وہ بیسکلی ایسائیمین سپائیر ہے گرفائیٹ تنسل سے ہے جس طرح سے ہم ایک چارکول میں ایک مونو ٹون میں پوری ایک ایس ہم بنالے تھا یعک پینسل سے پوری ایک فیز بنالے تھا تو اسی طریقے سے جالیوں کو کچھ اس طریق سے سمبل کرنا کہ اس کے اندر لائیٹ اور شیٹ آجہ ہے تو بیسکلی اس لائیٹ اور شیٹ کو میسکلپ کرتا ہم اگر ہم پینسل میں دیکھیں تو ہم اس کو دروع کرتے ہیں لیکن وائرمش میسکوں ایسا ہم اس کو ان لائیٹ اور دارٹ کو سکلپ کر کے پورٹریٹ بن آتا ہم ساجت کے بدابے کو کوئیمی آرٹ بنانے کیسر فو از صرح جانی کہیں استعمال کرتے ہیں جب کے آرٹ میں کسی کسی بگا کوئیمی رہنگ استعمال نہیں کیا جاتا اس میں فکت جالی ہے اور جالیوں کے علاوہ کچھ بھی نہیں یہ ایک لائیٹ اور ریور کے بیش میں میں ایک ریزستنگ کی ریٹ کرنا ہوں یعنی ایک لائیٹ اور دارٹ کوئی جو ہم ایسٹلک کرنا ہوں اسے جو ہم وہ اس کا پورٹریٹ نکلتے ہیں آپ ایوں سمجھلیں کہ آپ کے خرکی میں ایک جالی لگی بھی ہے تو بڑا Transparent ہے اور اس کے پیچھے آپ آپ اسی کے ساتھ دوسری جالی بیٹ کریں تو اب وہ اوڑا سا فیڈ ہو جائے گا اور تیسری چو تھی پانچی سے درکہ سے ایٹ کرتے جائیں گے تو ایک ٹیم ساے گا کہ وہ اس کے Transparenceی ختم ہو جائے گے وہ بلکل دارک ہو جائے گا آپ کو آرپار نظر نہیں آگا کیوں کی جالیوں کی پوری ایک تھی تو کی تکنی ہے تو اس کے اندر کوئی کلر اسے مال نہیں ہوتا وہ بھکورا جوہنہ لیر ساہلیوں کی ومن ان جالیوں کو بھی ایس اچھ کرنا وہ بھی اسی کے ہیrive سہی ہم اچھ کرتے ہیں لیکن طور کا پورا ہاتھوں سے اور قٹر سے یہ کام ہوتے ہیں جالی قات میں شخصار بنانے کے دولان ہاتھوں کے ذخمی ہو جانی کے سوال کے جواب نے لو جوان آٹرس نے کہا کہ اپضا میں اقتصت جالی قات کے بقت ہاتھ ذخمی ہو جاتے تھے ساتھیں ان نے کہا کہ آر میں ایسوس کرتے کا نام ہے گلوف سپہنے سے وہ احساس جنم نہیں لیتا جس کی وجہ سے گلوف سپہنے سے اقتصل پر حیسی کرتا ہوں اصل میں جب ہم گلوف سوار کرتے ہیں بسی کے لیے جو آرٹ ہے وہ کسی چیس کو نہ فیل کرنے کا نام ہے جب آپ گلوف سپہنے تو وہ آپ کا نا دیریکٹ انتریکشن اس مٹیریل کیساعدتا قات ہو جاتے ہیں اس گلوف سکے وجہ سے تو اس ویڈیس ایس ایسلی میں تو ایسلی گلوف س کو اوائی دے کرتا ہوں کتہ بہت زادہ لکتے ہیں لیکن آپ اتنا زیادہ نہیں لکتا رو یہ سیموی باتے کہ آپ میں اس کی لنگت سمجھ گیاں وہ کہتے ہیں میرے بناہے وہ ارٹ جب لوگ دیکھتے ہیں تو انہیں ارٹ کے پیلسل سے بناہے جانے کا گھمانا ہوتا ہے تو ہم جب وہ سے قدرے کور سے دیکھتے ہیں تو انہیں پتا جلتے ہیں کہ جالی سے بنا ہے جس پر وہ حران رہتا ہے اس کام کی سب سے خوبصورت جیس یہ ہے کہ جب یہ کہیں پر дисپلے ہوتا ہے تو شروع میں ان کو لکتا ہے یہ پیمسل سے ہی پورا کام بنایا لیکن وہ جون جون اس کے پاس تاہتا ہے تو ان کوئی محسوس ہوتا ہے یہ تو سررام محسوس ہے تو وہ جو ایک ووف فکٹر ہے تو وہ پھر اس کے بات ان کا جو ریکشنے و جس دی شروع میں وہ دیکنے بس ایک پوٹرٹ بنیوی ہے یا کو ایک لینز کے بنیوی ہے جو ایک احساس آت ہے وہ چیزیں اس چیز کو وقتن یہ چیزیں ایک ایک آنٹسٹ کے لیے بہت مانیے رکتی ہے پہلے آت سب دلگ یادت کرتے ہیں انہوں نے ہمیں بتایا کہ اسے مکمل کرنے میں انہیں دیر ماسل زائت کا بک لگا کیوں کہ اندازہ ہی نہیں تھا کہ یہ کام کیسے ہوگا سب سے پہلا جو آترک بنایا تھا اس میں مجھلکتا سب سے زیادہ ٹیم کی کیونکی آپ اس میں نہیں پتا تھا کہ کسی طرح سے چیزیں ہوگا ایبن جو قتر جو تھا وہ مجھے کم سے کم کوئی آت سے آت قتر مجھے بیدھلنے پڑے کبھی مہلے سے میں نے دیکھا پھر مارکٹ میں جا کے دونڈا اور وہ چیزیں پھر وہ جیگ پر فکت قتر ملنے میں کافی دیگا کیوں کی وہ ایک ماش کو لکاتنے کے لئے جو مومن جو استمال ہوتے وہ میری کام کرنی تھا اور میں کچھ کچھ سپیسٹک سد دونڈا تھا وہ لکی لی جب کہتے ہیں کہ دونڈ سے خدا مل گا تھا تو وہ مجھ لکتے کہ سپسے زیادہ ٹیم ٹیم کیونکی اس میں ہر بہت ساری ہڈلے اور وہ ساری چیزوں کو مفیس کر رہا تھا کی کس طریح کسی اس چیز کو او کریں گے تو یہ سپسے جو پہلا جو آت پہلے تو مجھ لکتے ایک کوئی دیٹ مہینہ مجھ لگتے تھا چھوٹ آسا باکرک بنانے میں ساجد کی بوداب ایک وائر ماش آت پاکستان میں اس کو موچوٹ ہے بہل وکا مستطفر اس آت وقت کسیادہ پسی رای مردی ہے باکستان میں اگر میں دیکھوں تو اگر میں گیالری کے تو میں کام کرتا ہوں تو بلکل اس میں کافی زیادہ باکستان ناس کوپ ہے وہاں سے آتریک سیل ہو جاتی ہے اور وہ رہت چا ہے لیکن ہمیں خود سے جو ہنہ میں نے کبھی اس آتریک کو جس طریقے سے میں اینٹرنیشنلی کام کرتا ہوں اینٹرنیشنلیسلائنٹ ہے جن کے ساتھ میں دیرکٹ ہو کے میں اپنے کام کو بیسنوں اس طریقے سے نہیں ہے لیکن باکستان میں ایک پرپر ایک چیانل ہے گیالری کے توو ہی وہاں اگزی بیشن ہوتی ہے پر وہاں سے تو اس ہوالے سے بلکل ہی اس میں اس کو آترسٹے آخر میں کہا کہ وائر ماش آت کا میں نظری آتیا ہے جس کا مقصد یہ بتانا ہے کہ کیس طرح ہم اپنے آس پاس موجود چیزوں سے کام لے سکتے ہیں

Podcast Summary

Key Points:

  1. ساجد امیری گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان فنکار ہیں جو گھروں کی کھڑکیوں میں استعمال ہونے والی جالیوں (وائر میش) سے فن پارے تخلیق کرتے ہیں۔
  2. ان کا فن روایتی مصوری یا مجسمہ سازی سے مختلف ہے، جہاں وہ جالیوں کی تہوں کو تراش کر روشنی اور سائے کے ذریعے پورٹریٹ بناتے ہیں۔
  3. ان کے کام میں کوئی رنگ یا پینٹ استعمال نہیں ہوتا، صرف جالیوں کی تہوں کی گہرائی سے تصویر ابھرتی ہے۔
  4. ساجد نے یہ سفر اپنی یونیورسٹی کے ایک اسائنمنٹ سے شروع کیا، جہاں انہوں نے چارکول سے بنے پورٹریٹ کو جالیوں میں ڈھالنے کا تجربہ کیا۔
  5. انہوں نے بتایا کہ اس فن میں مہارت حاصل کرنے کے لیے انہیں کافی وقت لگا، خاص طور پر پہلا آرٹ ورک بنانے میں چھ ماہ سے زیادہ کا عرصہ صرف ہوا۔
  6. وہ دستانے پہن کر کام کرنے سے گریز کرتے ہیں کیونکہ اس سے مواد سے براہ راست رابطہ ختم ہو جاتا ہے اور فن کا احساس کم ہو جاتا ہے۔
  7. ان کے فن پارے پاکستان اور بین الاقوامی سطح پر پذیرائی حاصل کر رہے ہیں، اور لوگ شروع میں انہیں پینسل سے بنا سمجھتے ہیں، لیکن قریب سے دیکھنے پر حیران رہ جاتے ہیں۔

Summary:

گلگت بلتستان کے براندو بالا گاؤں سے تعلق رکھنے والے ساجد امیری ایک منفرد فنکار ہیں جو کھڑکیوں کی جالیوں (وائر میش) سے شاہکار تخلیق کرتے ہیں۔ ان کا فن روایتی مصوری یا مجسمہ سازی سے بالکل مختلف ہے، جہاں وہ جالیوں کی مختلف تہوں کو تراش کر روشنی اور سائے کے ذریعے پورٹریٹ بناتے ہیں۔ ان کے کام میں کوئی رنگ یا پینٹ استعمال نہیں ہوتا، صرف جالیوں کی گہرائی اور تہوں سے تصویر ابھرتی ہے۔ ساجد نے یہ سفر یونیورسٹی کے ایک اسائنمنٹ سے شروع کیا، جہاں انہوں نے چارکول سے بنے پورٹریٹ کو جالیوں میں ڈھالنے کا تجربہ کیا۔ پہلا آرٹ ورک بنانے میں انہیں چھ ماہ سے زیادہ کا وقت لگا، کیونکہ انہیں صحیح قینچی اور مواد تلاش کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ دستانے پہن کر کام کرنے سے گریز کرتے ہیں کیونکہ اس سے مواد سے براہ راست رابطہ ختم ہو جاتا ہے اور فن کا احساس کم ہو جاتا ہے۔ ان کے فن پارے پاکستان اور بین الاقوامی سطح پر پذیرائی حاصل کر رہے ہیں، اور لوگ شروع میں انہیں پینسل سے بنا سمجھتے ہیں، لیکن قریب سے دیکھنے پر حیران رہ جاتے ہیں۔ ساجد کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد یہ بتانا ہے کہ ہم اپنے ارد گرد موجود چیزوں سے کیسے کام لے سکتے ہیں۔

FAQs

ساجد امیری نے یہ سفر اپنی یونیورسٹی کے ایک اسائنمنٹ سے شروع کیا، جہاں انہیں کچھ آرٹ ورک بنانا تھا۔ انہوں نے گھروں کی کھڑکیوں میں استعمال ہونے والی جالی کو اپنے فن کا ذریعہ بنایا۔

اس آرٹ میں صرف جالی استعمال ہوتی ہے، کوئی اور رنگ یا مواد نہیں لگایا جاتا۔ روشنی اور سائے کے امتزاج سے پورٹریٹ بنایا جاتا ہے۔

نہیں، اس میں پنسل یا چارکول جیسے روایتی مواد استعمال نہیں ہوتے۔ صرف جالیوں کو تراش کر روشنی اور سائے کے ذریعے تصویر بنائی جاتی ہے۔

پہلا آرٹ ورک بنانے میں سب سے زیادہ وقت لگا کیونکہ انہیں نہیں پتا تھا کہ کام کیسے ہوگا اور صحیح قینچی ڈھونڈنے میں بھی دشواری ہوئی۔

ہاں، پاکستان میں گیلریوں میں اس آرٹ کی نمائش ہوتی ہے اور لوگ اسے پسند کرتے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر بھی ساجد کے کلائنٹ ہیں۔

ساجد کا کہنا ہے کہ دستانے پہننے سے ان کا مواد سے براہ راست رابطہ ختم ہو جاتا ہے، جس سے آرٹ کا احساس کم ہو جاتا ہے، حالانکہ اس سے ہاتھ زخمی ہو سکتے ہیں۔

Chat with AI

Loading...

Pro features

Go deeper with this episode

Unlock creator-grade tools that turn any transcript into show notes and subtitle files.