
گلگت بلتستان کے براندو بالا گاؤں سے تعلق رکھنے والے ساجد امیری ایک منفرد فنکار ہیں جو کھڑکیوں کی جالیوں (وائر میش) سے شاہکار تخلیق کرتے ہیں۔ ان کا فن روایتی مصوری یا مجسمہ سازی سے بالکل مختلف ہے، جہاں وہ جالیوں کی مختلف تہوں کو تراش کر روشنی اور سائے کے ذریعے پورٹریٹ بناتے ہیں۔ ان کے کام میں کوئی رنگ یا پینٹ استعمال نہیں ہوتا، صرف جالیوں کی گہرائی اور تہوں سے تصویر ابھرتی ہے۔ ساجد نے یہ سفر یونیورسٹی کے ایک اسائنمنٹ سے شروع کیا، جہاں انہوں نے چارکول سے بنے پورٹریٹ کو جالیوں میں ڈھالنے کا تجربہ کیا۔ پہلا آرٹ ورک بنانے میں انہیں چھ ماہ سے زیادہ کا وقت لگا، کیونکہ انہیں صحیح قینچی اور مواد تلاش کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ دستانے پہن کر کام کرنے سے گریز کرتے ہیں کیونکہ اس سے مواد سے براہ راست رابطہ ختم ہو جاتا ہے اور فن کا احساس کم ہو جاتا ہے۔ ان کے فن پارے پاکستان اور بین الاقوامی سطح پر پذیرائی حاصل کر رہے ہیں، اور لوگ شروع میں انہیں پینسل سے بنا سمجھتے ہیں، لیکن قریب سے دیکھنے پر حیران رہ جاتے ہیں۔ ساجد کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد یہ بتانا ہے کہ ہم اپنے ارد گرد موجود چیزوں سے کیسے کام لے سکتے ہیں۔