Go back

Pregnant Lady "Ghost In The Ward" l Hindi Horror Story

15m 19s

Pregnant Lady "Ghost In The Ward" l Hindi Horror Story

اسپیکر اپنی ڈیلیوری کا تجربہ ایک سرکاری ہسپتال میں بتا رہی ہیں۔ وہ پہلی بار ہسپتال گئی تھیں اور بہت گھبرائی ہوئی تھیں۔ ہسپتال میں ایک ہی کمرے میں کئی مریض تھے اور صفائی کا خاص خیال نہیں تھا۔ رات کو ان کی بیٹی کو بھوک لگی تو انہوں نے اسے دودھ پلایا۔ اس دوران ایک عورت نے ان کا بچہ چھیننے کی کوشش کی، لیکن اسپیکر نے اپنے تکیے کے نیچے رکھا ہوا ایک لوکیٹ (ماتا کا تعلق) اس عورت کے ہاتھ میں دے دیا، جسے دیکھ کر اس نے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا۔ نرس نے آکر صورتحال دیکھی اور وہ لوکیٹ واپس تکیے کے نیچے رکھ دیا۔ اسپیکر کو بعد میں پتہ چلا کہ وہ بستر ایک اور عورت کا تھا جس کی ڈیلیوری کے دوران بچہ مر گیا تھا، اور ہسپتال والے وہ بستر کسی کو نہیں دیتے تھے۔ اسپیکر کو آج بھی اس عورت کا خوف یاد آتا ہے اور اسے لگتا ہے کہ وہ عورت اب بھی انہیں گھورتی ہے۔ اسپیکر نے یہ بھی بتایا کہ اسی ہسپتال کے بیک سائیڈ پر بچوں کا قبرستان ہے، جہاں مرنے والے بچوں کو دفنایا جاتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ سرکاری ہسپتالوں کے کمرے بڑے ڈراؤنے ہوتے ہیں اور ان کا تجربہ بہت خوفناک تھا۔

Transcription

1776 Words, 7708 Characters

Urdu
۔ Saamajna iyata shuru kaha se karo, ۔ Meta bhoot dhar gaiti, ۔ Dho aasar chodha me meri baiti hui, ۔ Aabho gyaara saal ki ho chuki hai, Skool gaiti hai, ۔ ۔ Merei delivery a government hospital me hui thi, ۔ Aapko patayi hoga sar karyas patalo ka hal, ۔ Aik baad pher dho thin patient ko rakta hai, ۔ ۔ Tab situaishan itni khara ab naidhi jitni ki haa aaj hai, ۔ Mujee ddin ke karib tinn bhaja admit kia tha, ۔ ۔ Mee bhoot nervas thi ki ki peli baare aur hospital ko dhik ke vesei gabrat ho nelakti hai, ۔ ۔ Mujee jit swode mi rakha gya tha, ۔ Mee aur bi patient hai, ۔ Kisi ko dvaayi chodha rei thi, ۔ To ko yapne bachi ke saat leti hai, ۔ ۔ Tamehre paa se kki peh dva la faun tha, ۔ Mee rapne asbent ko message kia ki tum bhaari ho na, ۔ ۔ Kki mujee gabrat si hui hai, ۔ Mee aur mameh hai, ۔ ۔ Tomeh kar matkar ho, ۔ Sabaisei se ho jai ka, ۔ Dire dire wak tu guzhar ratha, ۔ ۔ Rath aad bjegar se khaana aaya, ۔ Mameh miri saat andari baati thi, ۔ ۔ Nars abhi thodi dheer peli, ۔ B.P.o gaar chekar ke gaya hai, ۔ ۔ Makeati rath magar kuchh lage na, ۔ To nars ko bata diyo, ۔ Kuchh neyoga, ۔ ۔ Dekna bachha aur tu, ۔ Dono heldi rauge, ۔ ۔ Rath ma mujee thi ki se nin nahi ate, ۔ ۔ Kabhi koi bachha idhar se rau rai, ۔ Koi yudhar se rau rai, ۔ Lagi ney ratha ke rath ke rath ke bhaara bhajne ko ay, ۔ ۔ Mujee siayet dvaayo ka nashat tha, ۔ Mujee siayet dvaayo ka nashat tha, ۔ ۔ Rath ek bhajetak ma soh gai, ۔ ۔ Subaa char bhajhe ki aspas mujee pein utha, ۔ ۔ Mane nars ko bhaaya apni situasiant bhaaayi, ۔ ۔ Meree fail leke chali gai, ۔ ۔ Todi dher me dhoor narsaati hai, ۔ Mujee lebar rau me leke chali gai chali gai, ۔ Subaa at bhajhe bhaara me naet phaa me rebe thi na jana me lia, ۔ ۔ Hama dho no hi thi ki, ۔ Mujee kabra na wali bhaat bhi naet hi, ۔ ۔ Dho pahaar bhajhe tak to hame wad me bhi shift kar dhi ya, ۔ ۔ Meree sasuma me re pasi tha, ۔ Dr. Neka tha, ۔ 2 dhi naetme trake khi, ۔ ۔ ۔ Aar pheraat dhoono ki kandishan dhi ke chotti dhi dhi, ۔ ۔ Abhi yeh vodho dhi nthye jamme na gho sabdhi khaa, ۔ Jee se aaj bhi yad kar ki meree rau kabra naethi hai, ۔ ۔ Vodhi nyi hoi nikal jaa tha hai, ۔ Koi nho koi mille aata raa, ۔ ۔ Raaat me ke chali wagra kakia me leke hai, ۔ Mujee yeh tha ki abh jaldi se chotti mille, ۔ ۔ Aar me ghar jao, ۔ Kase li dek bhaal to ghar pee hodi hai, ۔ ۔ Mareat meh mere saati hrik tha hai, ۔ ۔ Ono ne ek matarani ka lockit mere siraane ke niche rakhao aata, ۔ Aap ko patai yoga jab kui bhaatcha hai, ۔ ۔ Tumar bhaatcha ka dhyan thoda zadar akhaa jaa tha, ۔ ۔ Kuki aise mein negati vanititun se sampark meina neki ko shish kirti hai, ۔ ۔ Aar am to thhe bhi hospital mein, ۔ ۔ Jaha naa jaane kithne hi ajibo garip kese saati hai, ۔ Mujee mire saat wali ek aur atne baat hai ki, ۔ ۔ Abhi chaar dhin pelle hi sford mein kledi ki death hui thi, ۔ ۔ Usthe delivery date aageti par naat o se pein ota nao ski itni gaur kari, ۔ ۔ Raat mein kner saakhe usthe blud sampark leke chali jaati hai, ۔ ۔ Aar subha paaach bhaatcha jab ner su se dekhne hai, ۔ ۔ To bhaatcha kithi, ۔ ۔ Bhaataya gaya dvaayo ka reakshan oya tha ose pe, ۔ ۔ Usthe paet mein jo bhaatcha tha, ۔ ۔ Bho bhi chal bhaa, ۔ ۔ Nipot mein aaya ek ladki thi, ۔ ۔ Yauar at jo mujee bataar aiti wo khodiha paach dhin saa admet hai, ۔ ۔ Hesi kui khabar sunne to dimag mein wahi sab ghumne leke tha hai, ۔ ۔ Mujee jis ruh mein raka gaya tha waayi kamre mein paach hai baat hai, ۔ ۔ Aar subhi par patient saa, ۔ ۔ Sivai ek baatke, ۔ ۔ Aar mujee paatala gaya ye wahi baad hai, ۔ ۔ Jis paus aurat ne dham toda tha, ۔ ۔ Hame ye jaan kari nei thi ke hospital walo nei ye baad jaan bhu chhe khali chhoda hai, ۔ ۔ Yau bhi tne patient saai nei, ۔ ۔ Bhaad meres saam ne wale baad ke rait said metha, ۔ ۔ Rath daib aja meri bethi ko bhook lagne lagi, ۔ ۔ Aur wo rotha uwe ut gai, ۔ ۔ Mane se dut pilaaya, ۔ ۔ Sapsor hai tha, ۔ ۔ Mabe iig baar uski hawas sunke uthi, ۔ ۔ Pad dekhha ki wo meri god mein hai, ۔ ۔ Mane se dut pilaariyo to wo sogei, ۔ ۔ Tha ki ui thi kab se meres saat hai, ۔ ۔ Hame ye jaan kari, ۔ ۔ Hame ye jaan kari, ۔ ۔ Hame ye jaan kari, ۔ ۔ Hame ye jaan kari, ۔ ۔ Parkamre ke pasa ate ate hawas dimi hui, ۔ ۔ And Rughai, ۔ ۔ Mane se dut pilaariyo, ۔ ۔ Mane se dut pilaariyo, ۔ ۔ Mane se dut pilaariyo, ۔ ۔ Nars na to kuch bhol riyo, ۔ ۔ Nars na to kuch bhol riyo, ۔ ۔ Nars na to kuch bhol riyo, ۔ ھل میں ہل تک نہیں پاتے ۔ ابھی تک تو وہ بیٹھی ہوئی تھے۔ ھل دھیرے سے کھڑی ہوئی اور مچھے بچہ چھین لے لگی۔ ھل میں اس کی طرف دے گردہ نھیلا توے منا کریں گے نہیں۔ ھل وہ ابھی بھی ویسھیں مو بند کی حص رئی ہے۔ ھل میں منا کرتی رئی۔ ھل میں اسے سمجھ نہیں آتا کیا کروں۔ ھل میں رپا اس کچھ بھی نہیں تھا۔ ھل میں چھٹ پٹاریں اور میرے تکی کے پاس جو ماتا کا lock it رکھا تھا۔ ھل میں نے وہ اٹھاکی اس اورت کے ہاتھ میں رکھ دیا اور اس نے ایک دم سے اپنے ہاتھ پیچھے کر لیا۔ ھل میں اس کی ہاتھ سے گیرا۔ ھل میں اس کی ہاتھ سے گیرا۔ ھل میں اس کی ہاتھ سے گیرا۔ چھپ کرவیا , Ona نے بیٹی کو گود میں لیا اور مجھے تھورا پانی دیا , باکی ہورتے بھی میری پاس آگئی , Мパ Nurse کو بلا کے لاتی ہیں , Nurse نے آ کے دیکھا کے کیا ہوا , اب جاء کے میری噢اض نکلے. میں نے جو بھی دیکھا تھا وہ نے بتایا,ہا تو سنتیں ہی در گئی , Бاکی ہورتے کہتی ہمیں تو کچھ بھی ایسیں نہیں دیگھایا , Nurse نے ایشارے کرتے و پوچھا , اسم بہد پے Thi Warren , میں نے اپنی آ کے درتوے کہا ہا آپ کو کیسے پتا اس کے بعد وہ کچھ نہیں کہتی بس کا کے ماتا جی آپ ان کے ساتھ رہیے , Maa ki Nurse Lockheed پر پڑی اور اٹھا کے واپس میری تکی کے نیچے رکھ دیا , میں Maa سے بار بار کہتی کے کل جیسےی دیکھا رہیں گے اُن سے بات کرنا مجھے چھٹی دے دے آپ اُن سے چھٹے کہیں مجھاو جیس بیٹ پر وہ آرت لیٹی اور چلای یہ وہی بیٹ تھا جیس کے بارے میں مجھے پتا چلاتا کیوں اس لیڑی کی دیتوی تیسی پر اور ہو سپٹل والے بھی وہ بیٹ کسی کو نہیں دیتے میں ساری رات دری سمیسی بیٹی رہی۔ Maa merae saatii بار سے کسی کے چلنے کی واس انتے ہیں اڑھڑ جاتیوں جب تک دین نہیں نکل گیا ہم دونوں یو ہی جگر ہے سوبا ہونے پر جب لوگوں کی چہل پیل ہونے لگی تو جا کر کچھ در کام ہوا 9 بجے تک دیکھا اور کہا آپ کو دو پیر تک چٹی دیں گے 2 بجے تک ہم گھر آگے میں بہت تھا کیوںی تھی اور آتیس ہو گئی بچے کو دیکھنے کیلے اب گھر میں اور بھی لوگ تھے مجھے کی راتوں تک وہ اورتی ہا بھی نظراتی ہے Maa ne gharme saare intizaam karke rakhe the میری تکھے کی نیچے وہ لوکٹ چاکھو مچیس سب رکھا تھا رات میں جب بھی میری آکھلتے مجھے لکتا ہے وہ اورت بہار کھڑی مجھے گھورے ہے پر اوی نصبات کو گیارہ سال ہو چکے ہیں مجھے آج بھی وہ یات کر کر کے اوطنہی در لکتا ہے ابھی دو سال پہلے اسی ہو سپٹل کی کور چیز پتالگی ہو سپٹل کے بیک سیڈ میں بچو کا قبرستان ہے اور جن بچو کی ہو سپٹر میں میدتی ہو جاتی ہے انہیں مہیدفنایا جاتا ہے قبرستان بلکل ہو سپٹل کی باؤنڈری سے لکے بنا ہے میری سات جب وہ کس ہوا تھا تبھیہ ایک بیلڈنگ تھے لیکن پیشنس کے لئے بند کر دیا ہے مجھے یہ تب پتہ جلا جب ہمارے پڑوز میں کسی کے دیلیوری اسی ہو سپٹل میں ہوئی تھے ہمارے آس پاس میں بس یہی یہ گورمنٹ ہو سپٹل ہے میں آپ کو ہمیشہ کہتا ہو سپٹل کی کسیز بڑے اسکیری ہوتے ہیں دیلی وہاں کسینا کسی کا آنا جانا لگا رہتا ہے پریوٹ ہو سپٹل میں تو پھر بھی آپ کو لائٹنگ وگرہ تھوڑی اچھے کئی کسی ذاتے ہیں میںیاں گر بات کرے کسی گورمنٹ ہو سپٹل کی اندری میں دوبے محاکے کوری دور Long Te کر دے دے دے ہیں اور یہ میں نے کھو دے ایک سپیرنس کی ہے دیلی کے دو سرکاری اس پتالوں میں اس ٹیم میں نے کھانیا مگرہ سنانہ شروع نہیں کیا تھا پر آج بیسا کوئی کسی آتے ہیں اور میں وہ یاد کرتا ہوں تو شریر میں ایک سیھرنسی دور جاتی ہے مجھے ریسینٹل کیسی نے ایک سوال کیا تھا کہ آپ جب اپنی کھانیا سنتے ہو تو کیا مسوس کرتے ہو میں نے پہلے اس پتنا گور نہیں کیا میں اپنی کھانیا بہت رہی سنتا ہوں کیوں کی مجھ پتا ہے کی اس کھانیا میں کیا ہوئے کیا نہیں پریاں ایک چیز رو رکے میں ان کھانیا کو جگہ بیٹ کے تو نہیں سنت پہنگا جیس پرٹکلر لکیشن کی ایک کھانیا ہوتی ہے جیسے کو اس کھول ہو گیا ہو سپٹل ہو گیا کوئی ہونٹڈ ہو سو گیا ایسی لکیشنس پر نہیں سنت سکتا اور رہی محسوس کرنے کی بات ایک چیز یاد رکنا جب بھی ان کی باتے ہوتی ہے یا تیئے سنت نے آج کے اپیس ہوڑ میں بس اتنا ہی جلدی ملیں گے میرا نام پروی نے دواؤ میں یاد رکنا

Podcast Summary

Key Points:

  1. اسپیکر نے اپنی ڈیلیوری کا تجربہ سرکاری ہسپتال میں بتایا، جہاں وہ بہت گھبرائی ہوئی تھیں۔
  2. ہسپتال میں صفائی اور سہولیات کی کمی تھی، اور ایک ہی کمرے میں کئی مریض تھے۔
  3. ان کی بیٹی کو بھوک لگی تو انہوں نے دودھ پلایا، لیکن ایک عورت نے ان کا بچہ چھیننے کی کوشش کی۔
  4. اس عورت نے اسپیکر کے تکیے کے نیچے رکھا ہوا ایک "لوکیٹ" (ماتا کا تعلق) پکڑ لیا، جسے واپس لینے پر اس نے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا۔
  5. اسپیکر نے نرس کو بتایا کہ کیا ہوا، لیکن دوسری خواتین نے کچھ نہیں دیکھا۔ نرس نے وہ لوکیٹ واپس تکیے کے نیچے رکھ دیا۔
  6. اسپیکر کو پتہ چلا کہ وہی بستر ایک اور عورت کا تھا جس کی ڈیلیوری کے دوران بچہ مر گیا تھا، اور ہسپتال والے وہ بستر کسی کو نہیں دیتے تھے۔
  7. اسپیکر کو آج بھی وہ عورت اور اس کا خوف یاد آتا ہے، اور اسے لگتا ہے کہ وہ عورت اب بھی انہیں گھورتی ہے۔
  8. اسپیکر نے بتایا کہ اسی ہسپتال کے بیک سائیڈ پر بچوں کا قبرستان ہے، جہاں مرنے والے بچوں کو دفنایا جاتا ہے۔

Summary:

اسپیکر اپنی ڈیلیوری کا تجربہ ایک سرکاری ہسپتال میں بتا رہی ہیں۔ وہ پہلی بار ہسپتال گئی تھیں اور بہت گھبرائی ہوئی تھیں۔ ہسپتال میں ایک ہی کمرے میں کئی مریض تھے اور صفائی کا خاص خیال نہیں تھا۔ رات کو ان کی بیٹی کو بھوک لگی تو انہوں نے اسے دودھ پلایا۔ اس دوران ایک عورت نے ان کا بچہ چھیننے کی کوشش کی، لیکن اسپیکر نے اپنے تکیے کے نیچے رکھا ہوا ایک لوکیٹ (ماتا کا تعلق) اس عورت کے ہاتھ میں دے دیا، جسے دیکھ کر اس نے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا۔ نرس نے آکر صورتحال دیکھی اور وہ لوکیٹ واپس تکیے کے نیچے رکھ دیا۔ اسپیکر کو بعد میں پتہ چلا کہ وہ بستر ایک اور عورت کا تھا جس کی ڈیلیوری کے دوران بچہ مر گیا تھا، اور ہسپتال والے وہ بستر کسی کو نہیں دیتے تھے۔ اسپیکر کو آج بھی اس عورت کا خوف یاد آتا ہے اور اسے لگتا ہے کہ وہ عورت اب بھی انہیں گھورتی ہے۔ اسپیکر نے یہ بھی بتایا کہ اسی ہسپتال کے بیک سائیڈ پر بچوں کا قبرستان ہے، جہاں مرنے والے بچوں کو دفنایا جاتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ سرکاری ہسپتالوں کے کمرے بڑے ڈراؤنے ہوتے ہیں اور ان کا تجربہ بہت خوفناک تھا۔

FAQs

Hospital mein delivery ke waqt kabhi kabhi doctors aur nurses ka dhyan nahi rehta, aur patients ko sahi se dekha nahi jaata. Jaise mere saath hua ki mujhe labour room mein shift kiya gaya aur baad mein pata chala ki wahan par bachchon ki death ho gayi thi.

Government hospital mein delivery karna kuch situations mein risky ho sakta hai kyunki wahan par lighting aur facilities kam hoti hain, aur patients ko proper attention nahi milti. Private hospital mein thoda better hota hai.

Hospital ke back side mein bachchon ka qabristan hai, jahan un bachchon ko dafnaya jaata hai jo hospital mein mar jaate hain. Yeh qabristan hospital ki boundary ke andar hi bana hai.

Haan, kuch log kehte hain ki hospital mein bhoot-pret rehte hain, kyunki wahan par kai log mar jaate hain. Maine khud ek aurat ko dekha jo mujhe raat ko ghor rahi thi, aur uska bachcha bhi mar gaya tha.

Nurse ne aapke bachche ko isliye chheen liya ho sakta hai kyunki woh aapko dawa de rahi thi ya aapki madad kar rahi thi. Lekin aapko apni situation nurse ko clearly batani chahiye.

Kai baar bachchon ki death dawa ke reaction ki wajah se hoti hai, jaise ek aurat ke saath hua jiska bachcha pait mein hi chal bas gaya. Doctors ko is baat ka dhyan rakhna chahiye.

Chat with AI

Loading...

Pro features

Go deeper with this episode

Unlock creator-grade tools that turn any transcript into show notes and subtitle files.