Go back

पार्वती को शिवजी से दूर रहने का आदेश | शिव पुराण - श्रीरुद्र संहिता - अध्याय 26

7m 13s

पार्वती को शिवजी से दूर रहने का आदेश | शिव पुराण - श्रीरुद्र संहिता - अध्याय 26

यह अंश शिव पुराण के एक प्रसंग से लिया गया है, जहाँ देवी पार्वती भगवान शिव को पति के रूप में पाने के लिए कठोर तपस्या कर रही हैं। ब्रह्मदेव उन्हें समझाते हैं कि शिव एक योगी हैं, जिनका साधारण वेशभूषा, जटाजूट और भस्म लिपटा शरीर उनके राजसी जीवन के अनुरूप नहीं है। वे पार्वती को उनके सुंदर रूप और शिव के तपस्वी स्वरूप के बीच के विरोधाभास दिखाते हैं, यह कहते हुए कि यह सम्बन्ध उचित प्रतीत नहीं होता। हालाँकि, पार्वती अपने निश्चय पर अडिग रहती हैं। वे जोर देकर कहती हैं कि बाहरी दिखावट से आंतरिक गुणों को नहीं आँका जा सकता। उनका मानना है कि शिव के सरल वेश के पीछे परम ज्ञान और दिव्यता छिपी है, जिसे केवल भक्ति और आंतरिक दृष्टि से ही जाना जा सकता है। यह संवाद आध्यात्मिक सत्य की खोज, सांसारिक धारणाओं से ऊपर उठने और दिव्य प्रेम की श्रेष्ठता का संदेश देता है।

Transcription

1299 Words, 5507 Characters

Hindi
شев پران کی قتھا شев جی کے ادھ بھوت رہسیوں دویلیلاؤں اور سناطنگان کا سپ سے پویٹر خزانہ ہے یہ صرف کہانیہ نہیں ہے یہ وہ رہسے ہیں جو جیوان کو دشا دے ہیں اگر آپ نے سے فالو نہیں کیا تو آپ نے شев کو جانہی نہیں جوڑی اب کیوں کی اگلہ ادھیا ہے آپ کو بضل سکتا ہے شев پران پاروطی کو شبی سے دور رہنے کا ادیش شری روڑ رسائہ تھا چبیسوہ ادھیا ہے پونکتا پاروطی بولتی ہے جتا دھاری مونی میری سکھی نے جو کچھ بھی آپ کو بتایا ہے وہ بلکل ستی ہے میں نے منوانی اور قریع سے بھگوان شب کو ہی پتی روپ میں ورن کیا ہے میں جانتی ہوں کہ مہدیو جی کو پتی روپ میں پر آبت کرنا بہت ہی دورلہ بھکاری ہے پھر بھی میری حردہ میں اور میری دھان میں سدہی ووے ہی نیواز کرتے ہیں اتا اُنھی کے پر آبتی کے لئے ہی میں نے اس تپسیہ کے قتھیں مارگ کو چنا ہے یہس اب برامڈ کو بتا کر دے بھی پاروطی چوب ہو گئی اُن کی باتوں کو سنکر برامڈ دیوطا بولے ہی دے بھی ابھی کچھ سمے پور وطاک میری من میں یہجانے کی پر بلے چھا تھے کیوں آپ قتھور تپسیہ کر رہی ہیں پر انتو دیوی آپ کے مقصے یہ سب سنکر میری جگیاسا پوری طرح شانت ہو گئی ہے دیوی آپ کے کیے گئے کارے کے ان روب ہی اس کا پر نام ہو گئے پر انتو یا دیوی آپ آپ آپ آپ آپ کہاں جا رہے ہیں کرپیہ یہاں کچھ دیر آٹ ہے یہ اور میری حد کی بات کہیے دیوی پاروطی کے یہ بچن سنکر سادھو کا ویش دہران کیے ہوئے بھگوان شبہیں تہر گئے اور بولے ہی دیوی یا دیوی آپ واقعی مجھے یہاں روک کر مجھ سے اپنے ہیت کی بات سننا چاہتی ہے تو میں آپ کو اوہشے ہی سمجھا ہوں گا جس سے آپ کو اپنے ہیت کا سویم گیاں ہو جائے گا دیوی میں سویم بھی مہا دیوی کا بھگتوں اسلے اُنھے اچھی پرکار سے جانتا ہوں جن بھگوان شبہ کو آپ اپنا پتی بنانا چاہتی ہیں ویپر بھو شبشن کر سدہیو اپنے شریر پر بھس مدھارن کیے رہتے ہیں اُن کے صرپر جٹاہ ہے شریر پر وستروں کے استان پر ویباغ کی خال پہنٹے ہیں اور چادر کے استان پر ویحاتی کی خال اڑھتے ہیں ہاتھ میں بھکشا مانگنے کے لئے قتورے کے استان پر خوبڑی کا پرائیو کرتے ہیں سرپوں کے آنے کے جوند اُن کے شریر پر سدہ لپتے رہتے ہیں زہر کو ویپانی کی بھاتی پیتے ہیں اُن کے نیتر لال رن کے اور اتینت دراوہ نے لکتے ہیں اُن کا جن مقابق کہاہ اور کس سے ہوا یا آج تک بھی کوئی نہیں جانتا ویگھر گرحستی کے بندھنوں سے سدہ ہی دور رہتے ہیں اُن کے داس موجائے ہیں دیوی میں یہ نہیں سمج پاتا ہوں کہ شبشی کو اپنا پتی کیوں بنانا چاہتی ہو آپ کا بیوے کہا چلا گیا ہے اور جا پتی دکش نے اپنی پتری ستی کو صرف اسلی ہی اپنے یگگگی میں نہیں بولایا کیوں کی بے قبل دھاری بھکشوک کی بھاریا ہے اُنوں نے اپنے یگگگی میں شب کے اتیریکت سبھی دیوطاوں کو بھاگ دیا اسی اپنان سے крوضت ہو کر ستی نے اپنے پرانوں کو تیاج دیا تھا دیوی آپ اتینت سندہ ریوہ میں رتنس و روب ہیں آپ کے پتا گیر راج ہیمالے سمس تپروطوں کے راجہ ہیں پھر کیوں آپ اپس اگر تپسیادوارہ بھگوان شب کو پتی روپ میں پانے کا پریاز کر رہی ہے کیوں آپ سونے کی مدرہ کے بدلے کانچ کو خریدنا چاہتی ہے سگندھیت چندن کو چھڑ کر اپنے شریر پر کیچہ رکیوں ملنا چاہتی ہے سوریہ کے تیج کو چھڑ کر کیوں جگنوں کی چمک پانا چاہتی ہے سندہ ملایم وستروں کو تیاج کر کیوں چمرے سے اپنے شریر کو دھھنگا چاہتی ہے کیوں راجہ میںل کو چھڑ کر ونوں اور جنگلوں میں بھٹکنا چاہتی ہے آپ کے بودھی کو کیا ہو گیا ہے جو آپ دیو راجہ انڈر ایبام انڈی دیوطاؤ کو جو کی رتنوں کے بھندار کے سمان ہے چھڑ کر لوہے کو ارتات شب جی کو پانے کی اچھا کرتی ہے سچھ تو یہ ہے کہ سمہ مجھے آپ کے ساتھ شب جی کا سمبندہ پر اصپر ویروض دھ دھ دھ دھ دھ دھ دھ دھ رہا ہے کہا آپ اور کہا مہا دیو جی آپ چندر مکھی ہے تو شب جی پنچ مکھی آپ کے نیتر کملدل کے سمان ہے تو شب جی کے 3 نیتر سدایو کرو دھ دھ دھ دھ دھ دھ دھ دھ دھ دھ دھ دھ دھ دھ دھ دھ آپ کے کے ایش اتینت سندر ہے جو کی کالی گھٹاوں کے سمان پر تیدھ ہوتے ہیں وہی بھگوان شب کے سر کے جٹاہ جھوٹ کے بشے میں سبھی جانتے ہیں آپ سندر کومل ساڑی دھارن کرتی ہیں تو شب جی قتھور ہاتھی کی کھال کا اوپیو کرتے ہیں آپ اپنے شریر پر چندن کا لیپ کرتی ہیں تو وہیں ہمیں شاہ پہنے شریر پر چیتا کی بھس ملگائے رکھتے ہیں آپ اپنے شوبہ بڑھانے ہیں تو دیوی آپ ہوشان دھارن کرتی ہیں تو شب جی کے شریر پر سدا سر پلیپٹے رہتے ہیں کہام ردن کی مدھورد ہنی کہاں دمرو کی دمدام دیوی پاروطی مہدیوی صدام ہوتو کی دیوی وانی کو سویکار کرتے ہیں ان کا یہ روب اس یوگی نہیں ہے کہ انہیں اپنا سروص و سوہ پا جاساکے دیوی آپ پر ام سندری ہے آپ کا یہ ادھ بھوت اور اطتم روب شب جی کے یوگی نہیں ہے آپ ہی سوچے یا دیوھن کے پاس دھان ہوتا تو کیا بہیں اس طرح نگے رہتے سواری کے نام پر ان کے پاس ایک پورانا بیل ہے کنیا کے لیے یوگیور دھنٹے سمیں ورکی جنجن وششتاؤں اور گنوں کو دیکھا پر کھا جاتا ہے شب جی میں وہاں کوئی بھی گن موجود نہیں ہے اور تو اور آپ کے پریہ کام دیوی کو بھی انہوں نے اپنی کرو دھاگنی سے بھس مکر دیا تھا ساتھی اس سمیں آپ کو چھٹ کر چلے جانا آپ کا انادر کرنا ہی تھا ہی دے بھی ان کی جاہت پات گیان اور ویدیا کے بارے میں سبھی انجان ہے پیشاج ہی ان کے ساہائق ہیں ان کے گلے میں ویش دکھائی دیتا ہے ویسادہ و سب سے الکتھا لگ رہتے ہیں اسلی آپ کو بھگوانشب کے ساتھ اپنے من کو قدапی نہیں جوڑنا چاہیے آپ کے اور ان کے روب اور سبھی گنہ الکہ لگ ہیں جو کی پرس پر ایک دوسرے کے بروض ہی جان پڑھتے ہیں اسی کارن مجھے آپ کا اور محادیف جی کا سمبندھ روچ کر نہیں لکتا ہے پھر بھی جو آپ کی اچھا ہو ویسا ہی کرو ویسے میں تو یا چاہتا ہوں کہ آپ اصد کی اور سے اپنا من ہٹالے یا دیہ سب نہیں کرنا چاہتی ہے تو آپ کی اچھا جو چاہوں کرو اب مجھے اور کچھ نہیں کہنا ہے ان برامڈ مونی کی باتوں کو سنگ کر دے بھی پاروطی بہت دکی ہوئی اپنے پر آنٹ پریے تریلو کی نات شب کے بشائے میں قتھور شبھتوں کو سنگ کر انہیں بہت بورا لگا ویمن ہی مان کرو دیت ہو گئیں لیکن من ہی مان یا بھی سوچ رہی تھیں کہ شبھ کے سنگرریہ کو ستھول درشٹی سے دیکھنے پرکھنے کا پریاز کرنے والے کیسے جان سکتے ہیں سنساری ویکتی منگل منگل کو اپنے سکھ کے ساتھ جوڑ کر دیکھتا ہے وہ ستھے کو کہاں دیکھ پاتا ہے اس طرح بیویک دوارہ اپنے مان کو سمجھا بجھا کر اپنے کو سنیت کرتے ہوئے دی بھی پاروطی کہنے لگی ادھائے سمابت ہر قتھا ایک قدم ہے کہلاش کیور اور ہر منتر ایک نمنترہ ہے پر بھو کی قربہ میں سماہی تھوڑے کا ابھی سبسکریب کریں تاکی اگلی قتھا آنے سے پہلے ہی آپ تا یار رہے کیوں کی شف کی مہیمہ ایک بار سنگے والی نہیں روز جینے والی ہے ہر ہر محادیف

Podcast Summary

Key Points:

  1. शिव पुराण की कथा आध्यात्मिक मार्गदर्शन प्रदान करती है।
  2. देवी पार्वती द्वारा भगवान शिव को पति रूप में पाने के लिए कठोर तपस्या का वर्णन।
  3. ब्रह्मदेव द्वारा शिव के योगी स्वरूप और पार्वती के राजसी स्वरूप के अंतर पर प्रकाश डालना।
  4. पार्वती का अपने निश्चय पर दृढ़ रहना और आंतरिक गुणों को महत्व देना।
  5. शिव के साधारण दिखावट के पीछे छिपे दिव्य गुणों की व्याख्या।

Summary:

यह अंश शिव पुराण के एक प्रसंग से लिया गया है, जहाँ देवी पार्वती भगवान शिव को पति के रूप में पाने के लिए कठोर तपस्या कर रही हैं। ब्रह्मदेव उन्हें समझाते हैं कि शिव एक योगी हैं, जिनका साधारण वेशभूषा, जटाजूट और भस्म लिपटा शरीर उनके राजसी जीवन के अनुरूप नहीं है। वे पार्वती को उनके सुंदर रूप और शिव के तपस्वी स्वरूप के बीच के विरोधाभास दिखाते हैं, यह कहते हुए कि यह सम्बन्ध उचित प्रतीत नहीं होता। हालाँकि, पार्वती अपने निश्चय पर अडिग रहती हैं। वे जोर देकर कहती हैं कि बाहरी दिखावट से आंतरिक गुणों को नहीं आँका जा सकता। उनका मानना है कि शिव के सरल वेश के पीछे परम ज्ञान और दिव्यता छिपी है, जिसे केवल भक्ति और आंतरिक दृष्टि से ही जाना जा सकता है। यह संवाद आध्यात्मिक सत्य की खोज, सांसारिक धारणाओं से ऊपर उठने और दिव्य प्रेम की श्रेष्ठता का संदेश देता है।

FAQs

शिव पुराण केवल एक कहानी नहीं है, यह एक रहस्यमय ग्रंथ है जो जीवन को दिशा देने वाले रहस्यों का खजाना है।

पार्वती ने भगवान शिव को पति रूप में पाने के लिए कठोर तपस्या का मार्ग चुना और इसी उद्देश्य से तप कर रही थीं।

ब्रह्मदेव ने कहा कि शिव का रूप योगी जैसा है, वे भस्म मलते हैं, सर्प धारण करते हैं और सांसारिक बंधनों से दूर रहते हैं।

पार्वती सुंदर और कोमल हैं, जबकि शिव कठोर हैं; पार्वती चंदन लगाती हैं, शिव भस्म, और पार्वती सुगंधित वस्त्र पहनती हैं, शिव बाघ की खाल।

पार्वती ने ब्रह्मदेव की बातों से दुखी होकर कहा कि सांसारिक दृष्टि से शिव को देखने वाले उनके वास्तविक स्वरूप को नहीं जान सकते।

शिव पुराण की कथाएं जीवन के रहस्यों को उजागर करती हैं और इनका पालन न करने पर व्यक्ति शिव को सही से नहीं जान पाता।

Chat with AI

Loading...

Pro features

Go deeper with this episode

Unlock creator-grade tools that turn any transcript into show notes and subtitle files.