
یہ تحریر ایک شاعرانہ انداز میں انسانی زندگی کی اہم ترین لمحوں میں تاخیر کے احساس کو بیان کرتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جب بھی کوئی ضروری بات کہنی ہو، کسی کو بلانا ہو، یا کسی پرانے رشتے کو نبھانا ہو، تو وہ دیر کر دیتا ہے۔ یہ تاخیر محض سستی نہیں بلکہ زندگی کی الجھنوں اور جذباتی کشمکش کا نتیجہ ہے۔ موسم کی تبدیلیوں کے ساتھ دل کو لگانا، کسی کو یاد رکھنا، یا کسی کو بھول جانا بھی اسی تاخیر کا حصہ ہے۔ اس کے علاوہ، کسی کو موت سے پہلے خطرے سے بچانا یا حقیقت کو واضح کرنا بھی اکثر دیر سے ہوتا ہے۔ آخر میں شاعر شکر گزاری کا اظہار کرتا ہے، گویا ان تمام تاخیروں کے باوجود زندگی کے قیمتی پہلوؤں کو تسلیم کرتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ تحریر انسانی کمزوریوں اور وقت کی اہمیت پر غور کرنے پر اکساتی ہے۔