God's Will: October 2021, 1st Episode : Voice Divine
0m 0s
یہ گفتگو روحانی موضوعات پر مرکوز ہے، جس میں زندگی کے چیلنجز، تکالیف اور خدا کی مرضی پر بھروسے پر زور دیا گیا ہے۔ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ مصیبت کے وقت خدا کی مرضی کو قبول کرنا مشکل ہوتا ہے، لیکن تکلیف ایک انتباہ کے طور پر کام کرتی ہے جو ہمیں درست سمت میں لے جاتی ہے۔ روحانی ترقی کے لیے گرو سے جڑنا، خود کو ایک ساکشی (گواہ) کے طور پر دیکھنا، اور اپنی حقیقی شناخت (آتما) کو پہچاننا ضروری ہے تاکہ دنیاوی کرداروں اور جھوٹی پہچانوں سے آزاد ہوا جا سکے۔ گفتگو میں ستگرو کی رہنمائی، سنگت کی معاونت، اور مسلسل سیوا، سمَرن اور سَت سنگ کے ذریعے روحانی مشق پر زور دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی، مہابھارت کے یکش-یودھیشٹھر مکالمے کا حوالہ دے کر زندگی کے مقصد، دکھ کے اسباب اور سچے پریم کی وضاحت کی گئی ہے۔ مجموعی طور پر، یہ ایک ایسی زندگی گزارنے کی ترغیب ہے جو خدا کی مرضی میں راضی رہتے ہوئے، حقیقی خود شناسی اور قبولیت کے ساتھ گزری۔
آتا ہے جو توفا آنے دے، آتا ہے جو توفا آنے دے کشتی کا خدا خود حافظ ہے ممکن ہے کہ اُٹی لہروں میں بہتا ہوا ساہل آ جائے؟ بہت، خوب سوروٹ، زندگی، خدا، توفان، لہے، ساہل، کیا یہ سبتنا سان ہے؟ آسان مشکل، سچ جوٹ، اچھا برا، اسی گفتگو کے لِدو آج بیٹھے ہے اور اپنے سبھی شوطان کا خیر مکنم کرتے ہوئے، ویلکم کرتے ہوئے، آپ سب سے مخاتب ہوتے ہوئے آج کے ویشے کو آپ کے ساتھ شیر کرتے ہیں جو ہے تبھو اچھا، خدا کی رزا، گوز بل جی ہا، گوز بل، اور گوڑ بلیگ، سبت سورو گویس دیوائیل میں ہوں آپ کا ساتھی اور دوز راکیش، میں پمکچ، نموز کا دھنے دنکا ہے گوڑ بلیگ، سب سے مجھے گوڑ بلیگ، سب سے مجھے گوڑ بلیگ، سب سے مجھے گوڑ بلیگ، سب سے مجھے گوڑ بلیگ، سب سے مجھے گوڑ بلیگ۔ باکیش جی، گوڑ سب سے مجھے گوڑ بلیگ، سب سے مجھے گوڑ بلیگ، سب سے مجھے گوڑ بلیگ، سب سے مجھے گوڑ بلیگ، سب سے مجھے گوڑ بلیگ۔ پنکر جی جاہتا کہ ہم نے ستگروں سے بھی سیکھا اور سنتوں کی وانی سے بھییا، چیوان کے انوبہ سے بھی کہا سکتے ہیں کہ سیکھا، جب ہم گوڑ سب سے مجھے گوڑ بلیگ، سب سے مجھے گوڑ بلیگ، سب سے مجھے گوڑ بلیگ، سب سے مجھے گوڑ بلیگ، سب سے مجھے گوڑ بلیگ، سب سے مجھے گوڑ بلیگ۔ سب سے مجھے گوڑ بلیگ، سب سے مجھے گوڑ بلیگ، سب سے مجھے گوڑ بلیگ، سب سے مجھے گوڑ بلیگ، سب سے مجھے گوڑ بلیگ، سب سے مجھے گوڑ بلیگ مجھے گوڑ بلیگ۔ مجھے گوڑ بلیگ، سب سے مجھے گوڑ بلیگ، سب سے مجھے گوڑ بلیگ، سب سے مجھے گوڑ بلیگ۔ سب سے مجھے گوڑ بلیگ، سب سے مجھے گوڑ بلیگ، سب سے مجھے گوڑ بلیگ، سب سے مجھے گوڑ بلیگ، سب سے مجھے گوڑ بلیگ، سب سے مجھے گوڑ بلیگ، سب سے مجھے گوڑ بلیگ، سب سے مجھے گوڑ بلیگ۔ سب سے مجھے گوڑ بلیگ، سب سے مجھے گوڑ بلیگ، سب سے مجھے گوڑ بلیگ، سب سے مجھے گوڑ بلیگ، سب سے مجھے گوڑ بلیگ۔ سب سے مجھے گوڑ بلیگ، سب سے مجھے گوڑ بلیگ، سب سے مجھے گوڑ بلیگ، سب سے مجھے گوڑ بلیگ، سب سے مجھے گوڑ بلیگ، سب سے مجھے گوڑ بلیگ۔ سب سے مجھے گوڑ بلیگ، سب سے مجھے گوڑ بلیگ، سب سے مجھے گوڑ بلیگ، سب سے مجھے گوڑ بلیگ۔ سب سے مجھے گوڑ بلیگ، سب سے مجھے گوڑ بلیگ، سب سے مجھے گوڑ بلیگ، سب سے مجھے گوڑ بلیگ۔ سب سے مجھے گوڑ بلیگ، سب سے مجھے گوڑ بلیگ، سب سے مجھے گوڑ بلیگ، سب سے مجھے گوڑ بلیگ۔ پر ساتھی اتنی مزبوتی ہمیں دینہ اپنا وشواش دینہ کی فیر وہ پر ایک شامے ہم آپ کی سکلائی سے ہی پاس ہوں۔ تو داتا جہاں ہریک کو ایسا جی بن دے جو جیتے جی ہی مکتی کے حق دار ہو جائیں جو اپنی بھگتی کو اتنہ پر بل کر جائیں کہ یہ شریر ہو یا نہ ہو وہ زندگانی موارک ہو۔ رکیش جی سدگل ماتا جی کی ویچہ آب سنھے کے بعد ایک کورٹ چو کہیں پڑی وہ زین میں آ رئی ہے۔ گوڑ ہی زندگی سے چلا جاتا ہے۔ خاص تو ہلپے جب کوئی بہت یا گیج میں چلا جاتا ہے۔ کئی ایسی لائی لاج بیمابی ہو جاتی ہے۔ کسی کا دووز ہو جاتا ہے۔ کوئی بشتہ ٹھوڑ جاتا ہے۔ یا کسی کا مانت سے کیا شاویگ اتپیڈن جب ہوتا ہے۔ جی۔ تو ایسے میں یہ ویزا یہ پفیکشن ایس پلان کی دکھائی نہیں دیتلاست آتا نہیں ہے۔ وہ کیسے ہو۔ پانکت جی آپ بلکل سے ہی کہ رہے ہیں جب مسیبت کا وقت آتا ہے اس سے میں ایس رزا کو ماننا اپنے آسان نہیں ہوتا۔ اور ایسی لیے ایک محتمہ جنونا یہ بات سمجھای آدمیے کمراچہ دا جی۔ جب ایس پرکار کی کے پرستیتی آئی تو انہوں نے سمجھایا کہتے ہیں بیٹا گربانی کے اندر شبہ داتا ہے تیرا کیا میٹھا لگے۔ جانے کیی میٹھا ہوتا نہیں ہے۔ ایس کا کیا اس کا بھانا دنکار کا ایشور کا اللہ کا گوڑ کا وہی گروکہ جو بھانا ہے جو یہ وقت آ ہے۔ وہ کئی بر بہت کتھیں ہوتا ہے۔ اور اسی لیے یہ ارداز کی گئی کہ ہی پر بھو پر ماتما ہے سچے پاچھا آپ مجھے بل بڑھ دی رویکٹے نہ کہ آپ کا بھانا آپ کا کیا ہوا میں میٹھا کر کے مان سکوں۔ اوکے یعنی کی آپ یہ کہنا چاویوں کی میٹھا ہوتا نہیں ہے۔ میٹھا لگنے لکتا۔ yes pain is never comfortable but pain is inevitable. pain is a constant part of our life and pain is good. pain is a wake up alarm. کی اٹھو اور کہنا کہیں کچھ خرابی ہے اس کو تھیک کرو۔ توی تو pain ہوتی ہے باڈی کے اندر۔ اور ہم doctor کے باز آتے تھیک کرالے تھے ہیں۔ exactly. اور جسے کہا کہ pain is inevitable but suffering is optional. تو ہم سفر کرتے یا نہیں کرتے ہیں یہ ہمارے اپرنے بھا کرتے ہیں۔ ہم کس طریقے سے اس کو پر سپیکٹیف میں لیتے ہیں۔ اور جب ہم ایشور کا جسے پہلے بات ہی کہ ہم البک گیا ہے۔ ہم جان جاتے ہیں سمر جاتے ہیں سدگر کی قربہ سے کہ ایشور صرفگ کہ ہے یہ سبکت جانتا ہے۔ ہمارے اٹھو اور یہ سارہ جانتا ہے۔ اور جو یہ کر رہا ہے وہ پون ہے۔ پون بدا ہم پون بدا ہم پون آت پون بدا چیتے ہیں۔ جب یہ والا بھا بات ہے۔ پھر جسے پہری آیا تھا سدگر نے پہلے تو کنیکٹ کیا۔ اور اب کنیکٹ کے بعد مجھے عبزرور بنادیا۔ اب میں ساکشی ہو گیا۔ Now I am in the role. I am playing a role but I am still not in the picture. اب میں بہر کھڑا ہوں کے ساکشی باب سے اپنے آپ کو دیکھ رہا ہوں۔ I am looking at myself as my true self. اور اب جو بھی اطار چڑھا اس رول کے اندر اس کردار کے اندر ہو رہا ہوں گے۔ ان سے میں بہاوی تونا شایت کام ہو جاتا۔ تو آپ نے کہاں my self, یعنی کی بنا اپنی اصلیت کو جانے, بنا اپنے بیل self کو جانے, یہ خود کو بہر نکال لنا, خود کو ساکشی بنال لنا, پسیل نہیں ہے۔ اپسیل ہوتھلے, Self-vailization, True God Realization, تو بھی نہ بھمگیان کے یہ ہو ہی نہیں سکتا۔ اور اسیلیا ہم بار بار شکریہ دا کرتے ہیں ستگروکہ کہ آپ نے ہمیں مرمگیان دیکھر کے ہمیں رہا ہوں گے, ہمیں رہا ہوں گے۔ and بھمگیان کی پراptی ہی واستفکتا میں آکوں کا کلنا ہے اور اس پراptی کے بعد ہی, one can get rid of the false identities that one maintains اور اپنے وستفکت سیلوب کو بھیجان کر آتمکس تلپ جینے کا پریاس کیا جا سکتا ہے۔ اور پھر ہوتا ہوں ہے کہ اسے پہلے جمعے رولز آدا کر رہا ہوں, میں پتا ہوں, میں پتی ہوں, میں بھائی ہوں, میں بہن ہوں, میں ساز ہوں, میں بھا ہوں, میں سسر ہوں, میں ایک آفیس کا باست ہوں, میں امپلای ہوں, میں نیتا ہوں, میں سب رولز میں بہر نکلاتا ہوں, I am none of these, I am just a part of this universe, میں اس ایشور کنرنکار کا روپ ہوں انگو انشوں, پھر وہ ساری کے ساری رولزی ختم ہو جاتے ہیں, تو ان رولز کے ساتھ جڑے ہوئے جو سکتو کو تار چڑھا ہے, وہ بھی ختم ہو جاتے ہیں۔ اور راکیشی کبھی کبھی سوشتا ہوں, آپ نے اپنے ساوے رولز کینوائی ہے, تو ایک انسان اپنے ساوے رولز کینوائی ہے, تو اپنے ساوے رولز کینوائی ہے, ایک جیسے سوامی ویکن انجی نے بھی کہا ہے, میں اپنے ساوے رولز کینوائی ہے, میں اپنے ساوے رولز کینوائی ہے, وہ اپنے ساوے رولز کینوائی ہے, وہ آگے کی آترا کرتے ہیں اور سنتے ہیں سمکون ارطار بانکہ یہ سبہتے ہیں۔ راکی آجی راکی ہریتے ہیں۔ راکی آجی راکی ہریتے راکی ہے۔ سنک ہریتے راکی ہے۔ سنک ہریتے راکی ہے۔ سنک ہریتے راکی ہے۔ راکی آجی راکی ہریتے راکی آجی راکی ہے۔ سنک ہریتے راکی ہریتے راکی ہریتے راکی ہریتے راکی ہے۔ سنک ہریتے راکی ہریتے راکی ہے۔ سنک ہریتے راکی ہریتے راکی ہریتے راکی ہے۔ سنک ہریتے راکی ہریتے راکی ہے۔ وہ کوجھ ہندے ہو جائے پوی نام میں بھی نہ کوئی کم نہیں نام میں بھی نہ کوئی کم نہیں ہندے ہو جی رہا جی رہا جوکہ دا جا گئے دائی جو کوجھ ہی رب پڑے دائی اس نومی اٹھال اکھ دائے جس دے دوچ جو بھی کنگے نام میں دڑی وارج اکھ دائے نام میں دڑی وارج اکھ دائے ہندے ہو جی رہا جی رہا جوکہ دا جا گئے دائی نام میں دڑی وارج اکھ دائے نام میں دڑی وارج اکھ دائے ہندے ہو جی رہا جی رہا جی رہا جوکہ دا جا گئے دائی نام میں دڑی وارج اکھ دائے نام میں دڑی وارج اکھ دائے نام میں دڑی وارج اکھ دائے نام میں دڑی وارج اکھ دائے نام میں دڑی وارج اکھ دائے نام میں دڑی وارج اکھ دائے تو ایسے میں جب کوئی ایسے مہتماوں کا جیوان دیکھتے ہیں ان کا سنگ کب نے کو ملتا ہے جنوں نے جیوان میں بہت سے اوطاہ اپ جڑاہ دیکھیں ہو اور تب بھی ایک کنوکشن ایک وشواز کے ساتھ کے ساتھ کے کیے کو ایک سبت کیا ہو حاپیلی وہ ایک سبتنس کے بھاف کے ساتھ ایک فوزٹ ایک سبتنس نہیں ایک جو ایک سبتنس تو ان کے جیوان سے بہت کو چھیکنے کو ملتا ہے تو ایسے ایک ماتما آجمارے ساتھ ہے ادابنی بہین دکٹر پیوین کلڑڑ جی سکوٹری اٹکواتر سننی میکاری مندل پیوین جی آپ کا سٹوڑیوں میں بہت بہت سوگت ہے جی دھا نکا ہے جی دھا نکا ہے جی دھا نکا ہے جی پیوین جی آپ کو آج سٹوڑیوں میں دیکھر کے بہت ہر شورہ ہے حالا کہ بچپن سے ہی آپ کو ایک بڑی بہین کے روک میں گرسے کے روک میں پہنے دیکھا عبزورب کیا اور مجھے کل کی طرح ياد ہے وہ واقعیا جو سب کے لئے بہت شاکن تھا جو سب کے لئے بہت سوڑیوں میں دیکھا عبزورب کیا اور ہم سب نباسی افتارنک لئے کے جانتے ہیں کہ کیسے وہ بچہ سکول کی بس سے ایکسیدنٹ ہوا اور جو تیجوٹ سمائے اُس سمیں آپ کو دیکھا آپ بلکل ستر تھے گوڑز ویل کو آپ نے کیسے اس کو سہیمانا accept کیا اور ستر رہے کر کے ستگر نرنکار کے بانے میں رہنے کی وہ کون سی کیا کیا بہت ہوا سمیں بات ہوا اس گئیں انسائیڈیوں I think during those days and even now جو سنتم ہاتماؤ کی جو پرمادر نے چڑا سب کے افتارنک لئے کے سبی سنتو کی جو سنگت ملتے تھے اُس سنگت کا اتنا وشواز پیار اتنا تھا کہ لگائی نہیں کی وہ کوئی گھر کا بچہ ہے وہ پڑی سنگت کا بچہ تھا اور سنگت نے بہت پیار دیا خاص کر چڑا ساب کہتے تھے کہ یہ تو اگر بچہ ایک ہے لیکن تیرے سارے بچے ہیں یہ دیکھونوں نے سنتنکاری پب لکس کول افتارنک لئے کے سارے اسی کلاس کے پاچھے کلاس کے بچچوں کو میرے گھر کے سامنے کھڑا کر دیا پیار ایک ستگرکہ تھا پیار سنگت کا تھا جنوں نے بہت نرنکار کی رزا میں رہنا سکھایا اور جو کہ یہ بھی ساستہت میں دماغ میں چل راتا کہ ہمارے پیلہ پرند ہے تنمان تھا نرنکت کا ایک پیار ایک ستگروں کا تھا پیار سنگت کا تھا جنوں نے بہت نرنکار کی رزا میں رہنا سکھایا اور جو کہ یہ بھی ساستہت میں دماغ میں چل راتا کہ ہمارے پیلہ پرند ہے تنمان تھا نرنکار کا ہے یہ جب چاہے لے سکتا ہے جب چاہے دے سکتا ہے تو یہ کسینا کسی دل میں یہ بات دماغ میں چای ہوئی تھی کہ یہ تنمان تھا ایسی کا ہے ایسی نے لیا ہے تو جب ایسی کوئی پڑیسٹی جیبان میں آتی ہے رب ایسی خبر کوئی ملتی ہے تو I guess there is a disbelief about such news و لکتا ہے کہ نہیں یہ نظر کچھ کچھ کچھ کچھ کچھ کچھ کچھ کچھ کچھ کچھ کچھ کچھ کچھ کچھ کچھ کچھ کچھ کچھ کچھ کچھ کچھ کچھ کچھ کچ رب ایسی کوئی پڑیسٹی جیبان میں آتی ہے رب ایسی خبر کوئی ملتی ہے تو I guess there is a disbelief about such news رب ایسی خبر کوئی ملتی ہے رب ایسی خبر کوئی ملتی ہے رب ایسی خبر کوئی ملتی ہے ملتی ہے رب ایسی خبر کوئی ملتی ہے رب ایسی خبر کوئی ملتی ہے یا ایشور کی آگیا سے ہی سب کچھ ہوتا ہے ان دونوں میں تو بہت انتب ہے اور پھر منشتے کو سزاہی تو نہیں ملتی شباشی بھی تو ملتی ہے یاش بھی ملتی ہے اس کی تو آپ نے چرچاہی نہیں کی کیا بات ہے کچھ دے وکنے کے بعد گوردےیو نے آگیف سمجھایا ان پرشنوں کو سمجھنے کے لئے گھرائیسے سوشنے کی ایسی خبر کوئی ملتی ہے رب ایسی خبر کوئی ملتی ہے نمکار دتار سب شکتی مان ہے اس کی اچھا اس کی آگیا ہی اس کا ویدھان ہے رب وکے اس ویدھان کے نصار منشت کو کرم کرنے کی سوطنتتاب رابت ہے منشت جو جو کرم کرتا ہے رب ویدھان میں ملی اس سوطنتتا کے کاربن ہی کر پاتا ہے اس لیے جو کچھ ہو رہا ہے رب و آگیا میں ہی ہو رہا ہے کس کرم کا کیا فل ہے یہ بھی دتار کے ویدھان میں ہی نشتت کیا ہوا ہے اس لیے منشت جو جو کرم کرتا ہے ایسے یوں سمجھیں کہ نیوہ کار دتار کی آگیا اس کا ویدھان اس کے انترگت منشت سوطنتتاب روب سے کرم کرتا ہے اور اسی کے نصار کرم کا اچھا برا فل بوکتا ہے کیا باتا ہے یہ تو بابا ہر دیف سنجی مہراج کے شفضوں نے کتی کلیریٹی دیدی اس the entire enigma of karma and gods will کتنا خوبصورتی سے بابا جنہ ہمیں سمجھا دیا ہے and in a very very simple way اور دنیا کے لوگ جو ہمیں کئی بار رجو پر بھا بھتے ہیں ہم اپنے آپ سیتنے پرشان نہیں ہوتے جتنا لوگوں کے پر بھا بھا بھتے ہیں جی people come out tell us ki ho ho آپ کے ساتھ ایسے کی ہوں گیا آپ تو بہتا چھا کرم کرتے ہیں why have you been suffering تو جسے ایک شایر نے کہا کہ سنکر زمانے کی باتے because challenging time vahiyo taa jabab crisis میں ہا اور روگا کر کے آپ کو افیکٹ کرنے Exactly تو شایر نے کہا کہ سنکر زمانے کی باتے تو اپنے عدامت بضل سنکر زمانے کی باتے تو اپنے عدامت بضل یا کی رخ اپنے خدا پر یوم بار بار خدا بضل کیا بات ہے ایک وقت دے بس ہو کے وینا ہوئر کسی دیل لوگ نہیں کہ ہے افتاب یہو جہسکنوں کسی چیز دی تھوڑ نہیں باکیش جی میں ایسا سمئے آدا گیا 2005 کی بات ہے کسی کارن سے ہم جس گھرمے بیتے تھے وہ سلوف کرنا بڑا مجھے آد ہے جو اپنے بات کہی بلکول ایسا ہوا پڑو سی آئے کہتے آپ کے گھر میں تو اتنا ست سنگ ہوتا تھا دینوات مہات مہاتے تھے آپ کا گھر کیا سی بکیا تو اس سے میں مجھے پیدا جی کی وہ دوڑتا ان کی وہ ایک ستگوڑ پے نمکار کے کیے پے بشواز دیکھنے کو ملا کی جو یہ کروہ ہے ہو سکتا ہے ابھی نہ سمجھا گا ہو سکتا ہے کہ لگو اپنے ہاتھ سے بنائے و گھر سلوف کرنا پڑا ہے پیو یہ بہتف جانتا ہے اور اس نے ابھی بھی آنان میں وکھا ہوا ہے پہلے بھی وکھا تھا اگی بھی وکھے گا اپسلیوٹلی the basic purpose of prayer is not to bend God's will to mine but to mold my will into his جی اور جسے ہم نے بات شروع کی کی سب سے پہلے ستگرو کے ساتھ یا برمگان کے ساتھ جو ہم جودتے ہیں تو ستگرو ہمیں کنیکٹ کرتے ہیں جی پھر وہ ہمیں عبزرب کراتے ہیں ایک ساکشی بناتے اور پیسری جو یہ منزل ہے وہ ایک سیپٹنس کی ہے now i start accepting each and everything that's happening in my life or around the world without judging, without assuming without comparing or criticizing exactly اور یہ ایک سیپٹنسی زندگی کی خوب سورتی ہے جی اور رکیشی ایسے کیم ہاتمہ ہے جنوں نے ابھی جیسے ہم نے آدمی ایڈوٹرپ روین کو لڑجی کو سنا جی ایسے کیم ہاتمہ ہے جنوں نے ایسے فیزیز دیکھے لائیف میں اور وہ دٹیو ہے کھڑے رہے ستگرو نے سمحالا ستگرو کا سوہلیا انہوں نے تو ایسے ایک ماتمہ مابی اگلے سکمنٹ میں ہیں جس کا نام ہے جب مانا تبجانا آئی سنتے ہیں آدمی جائنت چاپلچی کو دان نکہ جی زندگی میں جو بھی اپسن داؤنز آتے ہیں ان کو پر بھورزا کہہ دینہ بڑا ہی آسان رکتا ہے پر اکسر مان پانا اتنا ہی مشکل ہوتا ہے ایسا ہی کچھ پیشلے ورش ہوا جب داؤس کی سستر کو کنسٹرٹیکٹ ہوا داکٹرز نے چھے مہینے کا سمیدیا ایسی نیوز ملنے کے بعد ان چھے مینوں کا اگر ایک ایک دن بھی دیان کرتا ہوں تو ایسا س ہوتا ہے کہ ستگرو کے گیان سے کسپرکار سہرہ ملا وہ پنکتیہ زہین میں آتی ہیں کہ گیانی کتے گیان سے گیانی کتے روے اب یہ پنکتیہ سنی تو کئی بارتھی پر واکے ہی جب زندگی میں ان پنکتیوں کا وہ اصر دیکھا میں سوس کیا تو ستگرو کا شکرانا نکلا ستگرو نے کسپرکار اس درنکار کے گیان کا سہرہ دیکھر اس من کو سمھالا اور وہیں ستگرو کے جو اس گرسک ہے سنت مہتما ہے ایک پریور کی طرح ہرپل سہرہ دیا ہرپل من میں وہ گیان کی جو تی جگائے رکھی اور ہر سیٹشن میں ہر دن کسینا کسی مہتما کے دوارہ اس گیان کا وہ احساس من میں بنا رہا باواجی کی بھی وہ بات زین میں آتی ہے کہ جب جیوان میں کوئی بپریت پرستی آجاتی ہے ایسا کوئی انفورٹیونٹ ایوینٹ ہو جاتا ہے تو ہم کتنا گیلاشے کوا کرتے ہیں اور کتنی ہی ایسی اچی چیزیں ہمارے جیوان میں ہو رہی ہوتے ہیں ہم شکر نہیں کرتے تو جہا یہ گیان دیکھر ستگرو ہر پرستیتے میں ہمیں سٹھر رہنا سکارے ہیں وہ ہی جیوان جینے کا جو سہی سلکہ ہے کہ اُترایہ چڑائیہ جیوان میں جیان دیا نے ہت ہوئے تیرا سیٹے آ کے لنگ جان دیا نے یہ پنگتیہ انے کو انے کو بار ساتھ سنگت میں سنگت میں سنگت میں پر جیوان میں جب محسوس کی تو قیبل اور قیبل شکرانہ نکلہ اشیروا دے کہ اسی پرکار پربھو کی رزہ میں رہتے ہوئے پورا ہی پریوار جیوان کا پر برپور آنند پر پر کرتا رہے دان نکلہ جی ستگر دی سوچھ لے کہ سوچھا چھیں گا رہیہ ستگر دی سوچھ لے کہ سوچھا چھیں گا رہیہ دنیا سوار ہی جانی دنیا سوار ہی جانی کو دنو سوار لے ستگر دی سوچھ لے کہ سوچھا چھیں گا رہیہ ہے جوٹھ لہا بھی ہندے جی سوچھ لے رہیہ تی جوٹھ لہا بھی ہندے جی سوچھ لے رہی جانا نکلہ جاکیا سچھا چھیں گا رہیہ جانا نکلہ جاکیا سچھیں گا رہیہ دنیا سوار ہی جانی دنیا سوار ہی جانی کو دنو سوار لے ستگر دی سوچھ لے کہ سوچھا چھیں گا رہیہ ستگر دی سوچھ لے کہ سوچھا چھیں گا رہیہ رکیش یہ تو سمجھ میں آڈا ہے کہ گیان لے لے نے کا ستگروں کے ساتھ جوڑ جانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ لایف میں سٹویشنز نہیں آئیں گے سٹویشنز تو آئیں گی اپسی لٹلے اور چوٹھ لگے گی تو تو تھوڑا بہت درد بھی ہوگا زیادہ بھی ہو سکتا ہے کچھ سمجھ پیلے گی باتا ہے ستارٹڑہ نیو بزنس اور وہ کچھ time میں بند ہو گیا سو آئی سفرڈ لاؤسز ہرے کے ساتھ ہوتا ہے لاؤسز اور گینز تو دوکتو ہوا کچھ تکلی فوی پر یہ دیکھا ہے کہ کچھ لوگ بہت جلدی سمجھ جاتے ہیں دیکھا بہت بھی ازیلی کچھ کو بہت سمجھ لگتا ہے ایسا کیوں پگگر جی یہ ہرے کے ساتھ ایک چیالنج ہے اور گرنا گر کے سمجھ اللہ یہ دستور ہے زندگی کا اور بگوان کرشن کے سامنے جب ارجن نے بھی یہ پرشن کیا کی بگوان من کی سواستہ کو میں کیسے سمجھال پاؤں اس کا جو ویگ ہے وہ تو آنیوں کے سمان بہت تیز ہے اور من جب کوئی تکلی فاتی ہے تو بلکل دھیسا جاتا ہے گیر جاتا ہے کیسے سمجھ لے اور وہاں بگوان کرشنے کہا اب بھیاسین تو کونتے یا بیارا گیر چکری ہے یا تی یعنے کی اب بھیاس اور بیارا گیا ہے اگر ان کو تو پراکٹس کرتا ہے تو تیراجی بن سہج ہو جائے گا جیسی بھی ہو پرستی تھی ایکسی رہ پائے گی منوستی تھی یعنی پراکٹس and detached attachment اپسلوٹلی اور detached detachments comes only with gyaar جو ستگر نے ہمی دیا اور اب بھیاس کے لی ستگر نے کہا کی نرنتر سیوہ سمرن اور ستسن کرتے رہے اور اسی سے جوڑی بات اب بھیاسے جوڑی فیداس پیکنم یا داری ہے جب دیلی وکوٹ کرتے ہیں تو ایک مدیول ہے لگبک 30 مردکہ اور اس کے جو انسٹرکٹر ہے یوٹیوٹ پر وہ ایدی انڈف the session ایک سنٹنز کہتے ہیں کیا کی وکوٹ کرتے کرتے سانس اکنا چھڑا جاتی ہے اور پھر وہ قول down کر باتی ہے اور ایدی انڈف the session she says just remember that the faster you recover the more fit you are یعنے کی جتنی جلدی اپ کی سانس نورمل ہو hartbeat normal ہو ات نہیں اپ fit ہے لیکن ساتنے کار بات کہتے ہیں کہ ہو سکتا ہے اج آپ کو زیادہ سمی لگ رہا ہو اپنی hartbeat اور breeding کو نورملائز ہونے میں لیکن لگا تار جب آپ یہ ایکسیس کرتے رہے ہیں تو درے درے آپ کا جو نورملائز ہونے کا ٹیم ہے وہ کم ہوتا جائے گا you will get fitter and normal in lesser time ایسے ہی من کی بھی ہوتا ہے جب ہم گرمت کے ساتھ سیوہ سمینا ستن کرتے ہیں تو فتح فتح سے ہم we are empowered to bounce back faster than others so i guess practice is the key کیا کہ ابھیاست کرتے رہیں گے ستھ گل کے وچنوں کو ماننے کا اور وہاں گر گیوپ نہیں کرتے ہیں کیا مجھے لگتا ہے کہ سپیرچوالیٹی ایک ایسا فیلڈہ جاں تھوڑا ساہنی سے میں کہوں کی گیوپ کرنے کی ایک وہ بات آجاتی ہے یا کی نہیں ہے یہ ابس تھا کہاں پوسیبل ہے یہ تو پہلے کے ماتماوں میں ہوا کرتی تھے لیکن ایسا ہے نہیں اور ستھ گرو ماتا جی نا اس کے بارے میں بڑا کلیر لیے کہا دیا that spiritual upliftment or spiritual delight, spiritual bliss is not hypothetical ایسا نہیں کہ یہ احسر باتیں ہیں جی سنٹوں نے جی کر کے دکھایا we have seen Baba Hadef Sing Ghees Live ستھ گرو ماتا سوندھ رہت دیو Ghees Live we have seen Mata Siddhik Shah Chees Live اور کیسے تبتیاق کے ساتھ اپنے آپ کو ستھر رکھر کے انہوں نے ایک زیمپلی فائی کیا کہ کس پرکار سے ایشور کی رازہ میں رہا جا سکتا ہے رکھی ایسی ہمارے voice divine کی ایک اپیسوٹ کی ثیم تھے ارداز, پریاز, ویشواز تو اگر ویشواز کے ساتھ حلپل حیدے میں ارداز کرتے ہوئے ہم یہ پریاز کرتے ہیں کہ ہم نے پرویچ شامے رہنا ہے ستھ گرو کے وچنوں کو جیوان کا ادھار بناء کے جینا ہے اور اٹھنا پڑے گا کرام کرنا ہوگا اُدھے میں نے سدینتی کاریاری نامنور تھے اور جسے بڑے کمال کی بزاکی ایسی دو پنگتیہ ہے شہر کی جو کہتے ہیں کہ پلٹ دنگا ساری دنیا میں آئے خدا پلٹ دنگا ساری دنیا میں آئے خدا بس رجائی میں سے نکلے کی طاقت دے تو اگر ہم رجائی میں ہی پڑے رہے اور کمپلیسنٹ ہو جائے اچھے ایک کل دیکھیں گے تو اب ستھ گرومہتا جنے ہمیں کچھ دن پہلے جو ستھنگ آنگلین ہوا اس میں بتایا کہ the time to change is now جی کال کرے سو آج کر آج کرے سو ابن اب so wisdom lies in not wasting any time and trying to change right from this moment absolutely اور wisdom کی بات کر رہے ہیں تو ہمارہ قدلہ سکبن بھی کچھ ایسا ہی ہے جس میں ویویک کے موتی بھی کر رہے ہیں جس کا نام ہے pearls of wisdom یہ ایک نیا دن ہے زندگی کو پھر سے سمجھنے کا پھر سے کچھ سکھنے کا یہ اگتے چھپتے سورت چان ستاری یہ بڑلتا مازم یہ ساری کی ساری قدرت ہمیں کچھ سکھا رہی ہے ہرگیت اسی کی قבیت ہے ہر کہانی اسی کی داستہ ہے اگر ہم سکھنا چاہی تو مہا بھارت دیکھ رہی آپ نے بھی دیکھا ہوگا اس کا ایک پرسنگ جو یاد رہے گیا ہے وہی آپ سے ساجہ کرنا چاہتی ہوں مہا بھارت کی کہانی میں ایک پرسنگ آتا ہے جب پانڈوں وان میں ہوتے ہیں اور انہیں بہت بیاس لگی ہوتی ہے تو وہاں جل لینگے پانڈوں سے ایک ایک شدیوتہ پرشن کرتے ہیں پرشنوں کا ہوتر نہ دینگی وجہ سے سبھی بھائی ایک ایک کر اچیت ہوتے جاتے ہیں تو آخر میں یادشتر یکش کے ان پرشنوں کا ہوتر دیتے ہیں وہ پرشن اور اس کے ہوتر بہت ہی مہت پون ہے زندگی کے لیے بھی ہد سروری وہ نہیں پرشنوں کا ہوتر میں سے کچھ پرشن اور اس کے ہوتر میں لے کرائی ہوں یکش یادشتر سے پرشن کرتے ہیں کون ہوں میں یادشتر جواب دیتے ہیں توم نہ شریر ہو نہ انریا نہ من اور نہ ہی بوت ہے توم شود چیت نہ ہو جو سر وہ ساکشی ہے مجھے لگتا ہے کہ ہم سبھی کوئی سوال کھوچھ سے پوچھنا چاہے کیا میں شریر ہوں جو موت کے ساتھ نشتو ہو جائے گا کیا میں یہ آگ کان نناگ مہوں اور انریا ہوں نہیں نہ ہمیں ہر پل یہ اہساس ہونہ چاہے کہ میں آتما ہوں اور اس چیتن ستتا کا آلسوں جو سدے اور رہنے والی ہے یہ اہساس آتے ہی دوخ ختم ہو جاتے ہیں یقش پھر پوچھتے ہیں جیوان کا او دیش کیا ہے یہ دیشر کہتے ہیں جیوان کا او دیشے اسی چیتنا کو جان کر جیوان مریتو کے بندھن سے مقتونا ہے سچ بھی تو ہے ہم اقصر جیوان کا او دیشے دھان کمانا پر سدی اور سمری دی پانے کو بنا لیتے ہیں لیکن ہم بھول جاتے ہیں کہ یہ سب یہی چھوچھ جائے گا کچھ آر بھی ہے جو اس جیوان کے بعد بھی ہے وہی جاننہ سہی مائنے میں کچھ جاننے جیسا ہے یقش پوچھتے ہیں سنسار میں دکھ کیوں ہے یہ دیشر کہتے ہیں سنسار میں دکھ کا کارن لالج سوارط اور بھے ہے سچھ مجھ اگر دیکھا جائے تو انتہین خائشیں لوگ لالج اور خود گرزیہ ہی تو ہمارے دکھی وجہے ہیں اگر ہم آج اپنی پریستیدی سے سندوشن نہیں ہے نا تو پھر کبھی نہیں ہوں گے یقش پھر پوچھتے ہیں ایشور کا سروب کیا ہے یو دیشر جواب دیتے ہیں ایشور سٹھے چتھ اور آنند ہے وہ نیراگار ہی سبھی روپوں میں سویم کو ویکت کرتا ہے وہ نیراگار کرتا کیا ہے یقش پوچھتے ہیں وہ سنسار کی رچنا پالن اور سنگھار کرتا ہے یو دیشر جواب دیتے ہیں یقش پھر پر پرشن کرتے ہیں یا دی ایشور نے سنسار کی رچنا کی تو پھر ایشور کی رچنا کیس نے کی یو دیشٹی روطر دیتے ہیں وہ آجن ما آجر آمر اور آکارن ہے یقش پوچھتے ہیں سوک اور شانتی کا رہے سے کیا ہے یو دیشر کہتے ہیں سرٹی سدہ جار پریم اور شماہی سوکھ کا قارن ہے اگر دیکھا بھی جائے تو بھورا ویوہار کر کے انسان کبھی بھی سکھی نہیں رہسکتے ہیں کسی سے بدلیکی بھاؤنا رکھنے والا بھی سدہیو دکھی رہتا ہے اگر انسان کو انسان سے پریم نہیں ہے تو بھی انسان کبھی بھی سکھی نہیں رہتے ہیں یقش پھر پوچھتے ہیں سچہ پریم کیا ہے یو دیشٹی کہتے ہیں سویم کو سبھی میں دیکھنا سر وہ ویابت دیکھنا اور سبھی کے ساتھ دیکھنا ہی سچہ پریم ہے مجھے لگتا ہے یہاں پر یو دیشٹیڈ یہ کہہ رہے ہیں کہ سبھی کے پردی سمویدنا اور کرنا کا بھا و رکھنا دوسروں کے دکھ درد اور اس کے پریس دیتیوں کو میں سوز کرنا خود کو دوسروں کے جگہ رکھ کر سوچھنا اور ستھی میں پر مادمہ کو دیکھنا ہی سچہ پریم ہے یقش پوچھتے ہیں وہ دیمان کون ہے یو دیشٹیڈ کہتے ہیں جیس کی پاس ویویک ہے جو سوچھ ویچار کر کسی بات کے نشکرش پر پہنچتا ہے وہی بھتیمان ہے نرک کیا ہے یقش نے پوچھا اندریوں کی دازتا ہی نرک ہے یو دیشٹیڈ کہہ جاگتی ہوئے بھی سویا ہوا کہان ہے یقش نے پوچھا جو آتما کو نہیں جانتا وہ جاگتی ہوئے بھی سویا ہے یو دیشٹیڈ کہہ ساری دکھوں کا ناش کون کر سکتا ہے یقش نے پھر پوچھا یو دیشٹیڈ کہہ یقش نے پوچھا یقش نے پوچھا یقش نے پوچھا یقش نے پوچھا یو دیشٹیڈ کہہ سان ساریک سوکھوں کی شد بھنگورتا کا منوش کا ساتھ کون دیتا ہے یو دیشٹیڈ کہ یو دیشٹیڈ کہہ گوب تروب سے کیا گیا آپراد ہی جیوان بھر یقش نے پوچھا یقش نے پوچھا یقش نے پوچھا یو دیشٹیڈ کہہ سان ساریک سوکھوں کی شد بھنگورتا کا منوش کا ساتھ کون دیتا ہے یو دیشٹیڈ کہہ دھے رہی منوش کا ساتھی ہوتا ہے کون سا شاسر ہے جیس کا ادھین کر کے منوش بودھیمان بنتا ہے یقش نے پوچھا یو دیشٹیڈ اوطر دیا ایسا کوئی بھی شاسر نہیں ہے محان لوگوں کی سنگتی سے ہی منوش بودھیمان بنتا ہے سچھ مچھ پریستی تیوں سے سیکھنے والا اور ہر گھتنا سے آنوبہ حاصل کرنے والا انسان ہی سمجھتار بنتا ہے سنسار میں سب سے بڑے آشری کی بات کیا ہے یقش نے پرشن کیا یو دیشٹیڈ نے اوطر دیا ہر روز آقھوں کے سام نے کتنے ہی پرانیوں کی مریتو ہو جاتی ہے یہ دیکھتی بھی انسان یہی سوشتا ہے کہ میں آمر ہوں یہی سب سے بڑا آشری ہے تو یہ ہے زندگی کے سب سے مہیت تو پونڈ پرشن اور اس کے اطر جی سے ہم سب ہی کو اپنی آپ سے پوچھتے ہوئی جو آپ بھی دیتے رہنا چاہئے اومیت کرتی ہوں کہ ہمی سے ضرور اپنی زندگی میں اطارنی کی کوشش کریں گے کیوں کہ ہم اپیسوٹ کے اب انت میں آچوکے ہیں تو کیا سیکھا what is the just of our learning رکیش جی جو سیکھا وہ سیف اس آدے پونے گھنٹے کی بات تو نہیں ہے over the years جو ستگروں نے I would say conditioning ان کی بکششنے کی ہے ان کی قبل نے کی ہے so I would like to say two things here ایک تو یہ کہ جب بھانا ماننے کی بات ہوتی ہے پر بھو کی بیزا کو سویکار کرنے کی بات ہوتی ہے تو اس کو اقصر نہ کچھ ایوینٹ سے جو لیا جاتا ہے جس میں ساپنکس کہتے ہیں کوئی چلا گیا کچھ لوسیز ہوگئے کچھ ایسا کو بیماری ہوگئے جو ہم نے شروعات نبات ہے جب کی اگر دیکھیں تو جو بھی ہوئے اس کے اچھا میں کسی کی شادی ہے کسی کا موقع ہے یہ بھی تو بھانا ہے کسیکھا میں بی بھی ہوئے یہ بھی تو بھانا ہے بھانا ہے کسی کا بہت اچھا پفٹ بہت اچھا جو بھگئے یہ بھی تو بھانا ہے اپنے کسیمر سے اگر بہت غلت طریقے سے بات کروں اور اچھاک انڈر ہے یا نہیں خیالنا رکھوں اور پھر میں پر بھو کو بلیم کروں کی کام نہیں چلتا تو وہ تو بات بھانے والی نہیں ہے میرا کام ہے دکان پہ جانا زمیداری نبھانا اگر کوئی اکام سے ان کو دیکھنا سیل پر چیز کا خیال رکھنا اس کے بعد کیا ہوگا کوئی آئے گا نہیں آئے گا ایوینٹ شو لیکتنا آئے گا شوفٹ ہو سب اس کے ہات میں ہے کیا بات لیکن اپنے کرام سے بھاک کر اگر میں اس کے اپر کچھ دال دیتا ہوں تو مجھ لکتا ہے اس بات سے آج ستگو میں مجھے پچالیا ہے اور اسی لیے تو وہ ویشہ بھی دیا گیان اور ویڈےگ کی گیان بھی دیا لیکن ساتھ میں ویڈےگ پی ہے اس ویڈےگ کا پر رہو کرتے ہوتنا کرام کرنا ہے so I think eventually we are leading to the lesson, the message کی سب سے پہلے تو ہم نے کنکٹ کیا اپیزورٹ کی شروع میں ذکر کیا ویڈیگ کنکٹ کیا ویڈیگ کنکٹ کیا ویڈیگی کنکٹ کیا ویڈیگی کنکٹ کیا ویڈیگی کنکٹ کیا
Podcast Summary
Key Points:
زندگی کے نشیب و فراز میں خدا پر بھروسہ اور اس کی مرضی کو قبول کرنا۔
روحانی بیداری اور حقیقی خود شناسی کے ذریعے جھوٹی شناختوں سے آزادی۔
تکلیف اور مصیبت کو بیداری کا ذریعہ سمجھتے ہوئے، عمل اور قبولیت کا رویہ۔
گرو کی رہنمائی اور سنگت کی اہمیت روحانی سفر میں۔
زندگی کا مقصد حقیقی خود (آتما) کو پہچاننا اور لگاوٹ سے ماورا ہونا۔
Summary:
یہ گفتگو روحانی موضوعات پر مرکوز ہے، جس میں زندگی کے چیلنجز، تکالیف اور خدا کی مرضی پر بھروسے پر زور دیا گیا ہے۔ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ مصیبت کے وقت خدا کی مرضی کو قبول کرنا مشکل ہوتا ہے، لیکن تکلیف ایک انتباہ کے طور پر کام کرتی ہے جو ہمیں درست سمت میں لے جاتی ہے۔ روحانی ترقی کے لیے گرو سے جڑنا، خود کو ایک ساکشی (گواہ) کے طور پر دیکھنا، اور اپنی حقیقی شناخت (آتما) کو پہچاننا ضروری ہے تاکہ دنیاوی کرداروں اور جھوٹی پہچانوں سے آزاد ہوا جا سکے۔ گفتگو میں ستگرو کی رہنمائی، سنگت کی معاونت، اور مسلسل سیوا، سمَرن اور سَت سنگ کے ذریعے روحانی مشق پر زور دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی، مہابھارت کے یکش-یودھیشٹھر مکالمے کا حوالہ دے کر زندگی کے مقصد، دکھ کے اسباب اور سچے پریم کی وضاحت کی گئی ہے۔ مجموعی طور پر، یہ ایک ایسی زندگی گزارنے کی ترغیب ہے جو خدا کی مرضی میں راضی رہتے ہوئے، حقیقی خود شناسی اور قبولیت کے ساتھ گزری۔
FAQs
زندگی کے طوفانوں میں کشتی کا خدا خود حافظ ہے، اس لیے ہمیں خدا پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔
دکھ زندگی کا ایک لازمی حصہ ہے جو ہمیں بیدار کرتا ہے اور خرابیوں کو درست کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔
ستگرو ہمیں خدا سے جوڑتے ہیں، ہمیں ساکشی بناتے ہیں اور حقیقی خودشناسی کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔
ہر چیز خدا کی مرضی سے ہوتی ہے، اور انسان اپنے کرما کے مطابق اچھے یا برے نتائج بھوگتا ہے۔
مشکلات کے وقت ستگرو کے گیان اور سنگت سے طاقت حاصل کرنی چاہیے اور خدا کی مرضی میں راضی رہنا چاہیے۔
آتم گیان یہ ہے کہ ہم اپنے اصل روپ کو پہچانیں اور سمجھیں کہ ہم صرف دنیاوی کردار نہیں بلکہ کائنات کا ایک حصہ ہیں۔
Chat with AI
Loading...
Pro features
Go deeper with this episode
Unlock creator-grade tools that turn any transcript into show notes and subtitle files.