Ep 24 | Karm se Kripa ki Yatra — Brahma-Vishnu Samvad aur Ma Jagdamba ka Sankalp | Rudra Samhita, Sati Khand (Chapters 62-63)
36m 18s
یہ محاشف پران کی کتھا میں برہما جی کی شو کو سمادھی سے نکالنے کی ناکام کوششوں کا ذکر ہے۔ کامدیو، وسنت اور رتی کی تمام تر کوششوں کے باوجود شو اپنی سمادھی میں اٹل رہے، جس سے برہما جی مایوس ہو گئے۔ اس کے بعد وہ وشنو جی کے پاس گئے، جنھوں نے انھیں سمجھایا کہ شو مایا کے پار ہیں اور ان کو گھر گرسٹی میں لانے کا واحد راستہ شکتی کا پرکٹ ہونا ہے۔ وشنو جی نے برہما جی کو اپنے تمام تر اہنکار، خواہشات اور اعمال کو ترک کرکے تپسیا کرنے اور پرم شکتی کا آہوان کرنے کا حکم دیا۔ برہما جی نے ماں کی شدید تپسیا اور ستوتی کی، جس پر ماں نے پرکٹ ہو کر انھیں وردان دیا کہ وہ دکش کی پتری ستی کے روپ میں جنم لے کر شو سے بیاہ کریں گی اور انھیں گھر گرسٹی میں لائیں گی۔ ماں نے خود تپسیا کرکے شو کو پتی کے روپ میں پانے کا عہد کیا، تاکہ یہ ملاپ شد پریم اور یوگ کا نمونہ بنے۔ یہ کتھا ہمیں سکھاتی ہے کہ ہمیں اپنے اہنکار اور خواہشات کو ترک کرکے، صبر اور تپسیا کے ذریعے ہی اعلیٰ مقاصد حاصل کرنے چاہئیں۔
یہ محاشف پران کا سفر کبھی للا کبھی سبال اور ہر بار ایک نیا سمارپن شفجی کے چرنوں میں Jai Guruji, Suneyar Jhunnewalis Sari Sangat ko میرا پرنام سنگتی پیچھلے پسود میں ہم نے دیکھا کی بھرمہ جی نے سرشتی کے پراوح کو آگے بھڑھانے کے لئے شف کو اپنی سمادی سے اٹھانے کے لئے ہر کوشش کر لئے بسند کوت پنکیا کام دے و رتی کے سات کے لاش پھیجہ مائہ کی پوری شکتی لگا دی پر ہوا کیا؟ محایوگی شف اٹل اڈگ اپنے یوگمی ستھر رہے کام دیف کے سارے پان فیارتگئے مائہ کا پورا که نشفل ہو گیا وحی کام دیب جنوں نے پہلے سپر جیت پائے شف کے دھان کو ایک پل کے لئے بھی نہ ہلاسکے و سند اور رتی کے ساتھ ان کی شکتیہ تو اور بھڑ گئی تھیں لیکن اچھا تو صرف وہی جنم لیتی ہے جہا کوئی اپھاف ہو پر شف ویتے و سمپون ہے مائہ کے ہر پہلوں کو اپنے میں لپیٹے بیٹے نہ کسی انوبحف سے ونچتے ہیں اور نہ ہی کسی پھاف سے پھاپہ بیٹ تبھی تو ہر مندر میں اپنے پریوار کے ساتھ بیٹے ہیں پر بھسن سے لبتے ہیں بھاف نہ اچھا اور مائہ سے پری ستھ چتھ آنند جب کام دیب نے کہا اگر شف کو گرحس بنانا ہے تو اپنے آپ ہی کوئی بائی سوچھی برمہ پوری طرحہ سے بجلت ہو گئے اب کیا کریں سرشٹی کو کیسے بڑھا ہے اب نہ کرتب بیٹھ کیسے پورا کریں نشاب دھو کر جب اپنی سوچھ سے ہار جاتے ہیں وہی سے ہماری آج کی قتھا شروع ہوتے ہیں بشنو راستا کھولتے ہیں مادرشندے دی ہے اور قتھا ایک پار پھر یاد لاتے ہیں کہ رچنا کی ہر نیلا سے پہلے اسے سمبھال نے کی قربہ اولرڈی اپس دی ہے یہی شف پوران کا مول سندیش ہے تو چلی بڑھے اپنی بشواز کی آترا میں اور شروع کرتے ہیں گروجی کے مندرجاب سے اپنے پھن کو سائلن پر کر دیں ایک گہری ساس پھرے من کو ستر کریں گروجی کے سندرس و روکہ تھیان کرتے ہوئوں کا آوہان کریں عوم نمہشبائی شفجی سدا سہائی عوم نمہشبائی گروجی سدا سہائی برم لوگ میں بیٹھے نارجی نے اپنے پیتا بھرمہجی سے پوچھا ہی تات جب کام دیو رتی اپنی سارے پریاز میں ویفل ہو کر لوتائے تو پھر کیا ہوا برم آجی نے گہری ساس لی اور شانسور میں بولی ہی نارت جب کام دیب اصفل ہو کر لوتائے تو میرا من جو پہلے سے ہی لچت اور بھاری تھا اب اپھور بھی اشانت ہو گیا تمہی یاد ہوگا جب کام دیو نے پہلی بار اپنے تیرازمائی تھے اس یگگی میں ہم سپ کام بھاہنا میں اولچ گئے تھے تب شفنیا کر مائیہ کو طورا زور سے حسے ہم سپ کی طرف دیکھا اور بولے تم سبھی یوگ ویتیا کے مہارتی ہو تو یہ کیسے ہو گیا کام دیو جو سمی اور ستان کا بیک نہیں رکھتا اس نے اپنے بان چلائے اور تم سپ موحیت ہو گئے پھر کتھورتا سے بولے اگر ایک ستھے بھتی وقتی ایک سندری کو دیکھنے اور بیاکل ہو جائے اگر اس کا من چنچل ہو جائے اور کام بھاہنا میں دوب جائے تو دکار ہے اس کی بھتیا پر دکار ہے اس کے گیان پر نارت یہ شب د میری ردے میں دیر کی طرحہ چب گئیتے اسی درد کی یاد اور آج کام دے و سند رتی کے حار جانے سے اب میں پوری طرحہ سے بچلت ہو گیا اور ایک گہری سوچ میں پڑ گیا کیا کام دیف کی شکتیک کم تھے نہیں ان کے بان تو دینوں لوگوں کو مہت کر سکتے تو کیا بسند کا پر حار تھوڑا تھا نہیں ساری سرشٹی ان کے سپرش سے کھل اٹھ دی ہے تو کیا ردی کا سندری اپرایات تھا نہیں وہ ساک شات کام شکتی کی مورتی ہے پھر کیا کمی رہ گئی میں نے سوچہ شاید میں اور پھی پرچن مائیہ کی ضرورت ہے شاید اور شکتی لگانی ہوگی پر تب میں نے یہ سبت میں نے کر لیا اور کیا کر سکتا ہوں اب تو میرا من پوری درہ سے بیاکل ہو تھا میں سرشٹی کا رچ نہ کر ہوں جان کا سروت ہوں ویدوں کا مکھ ہو لیکن آج ایک یوگی کے دھیان کو حلا نے میں میں پوری درہا سے اصفل ہو گیا اور تبھی میرے من میں ایک گہراب بود جاگہ جو شکتی مائیہ سے پرے ہے اُنھے مائیہ سے کئی سے جیتا جا سکتا ہے لیکن اگر مائیہ نہ ہو تو مہایوں گی سرشٹی میں کئی سے آئیں گے مہادیف جو نروکار ہے یوگ پر آیا نے اُنھے میں کئی سے گرحست پناہوں میں سرشٹی کے پرواح کو کئی سے بڑھا ہوں میرا اتصہ چھوڑ چھوڑ ہو گیا جب میں اسی گہرے دک اور بسمے میں گھویا ہوا تھا تب میں میں سمجھ میں آگیا کی میں اور کچھ نہیں کر سکتا میری پاسپ کےبال ایک ہی راستہ بچہ تھا میں نے شف کا سمران کیا نشکام بھاف سے شرناگت ہوگا اور وشنو پرکت ہو گئے اُن کا چتور بھت سوروب شاند شنگ پت مگدادہ دھارن کیے ہوئے اُن کے درشن ماتر سے میری مان میں کرونا اور شاند کی کا سنچار ہو گیا پریم صحیتاکوں میں آسولیے اُنھے پرنام کیا اور اپنی پوری بیتاک کہی سنایے ہی بھگوان میں نے اپنی پوری شکتی لگا دی ہر پریاز کیا پر سب بفل ہو گیا شف سمادي میں اطل ہے اور ششتی کا چک کا روک گیا ہے اب آپ ہی میری دوک کا نیوارن کیجی اور ہمیں آگے کا مارک دکھائے میری ویتا دیکھ وشنو کرنا سے ہیت مصکور آئے دی میں شاند شور میں بولے ہی بھرم مہ تمہیں یہ موھ کیوں اطبن ہو گیا کہ تم اپنے پریاز سے مہادیف کو اُنھ کی سمادھی سے اُتھا سکتے ہو تم ویدوں اور گیان کے آدھار پر اُنھ کی لیلا کو سمجھنا چاہتے ہو لیکن وید اور بھتی سے پرے ہے دیکھو بھرم مہ تم ششتی کے رچہ ایتا ہو تمہر آکام ہے پرکریتی کے نیاموں سے جگت کو بنانا تمہرے ہات میں ہے کرم کا چکر پرکریتی کا کھیل مائا کا بستار لیکن شب وی پرکریتی کے آدھی پتی ہے اس کے آدھین نہیں مہا کال ہے اس لے تمہاری کوئی یوجنا اُنھے سمائے میں نہیں بانت سکتے اچھا سے مکت ہے اس لے کام دیف کے بان اُنھے چھو تک نہیں سکتے سمپون ہے سمپن ہے تریبت ہے اُنھے کسی چیز کیا بھیلاشا ہی نہیں وی ہی تو سپ کچھ ہے تم سوچھتے ہو کہ مائا سے اُنھے بانت ہوں
لیکن بھرمہ وہ تو مائہ کے سوامی ہے سندر سروب دکھا کر موہد کر لگے پر وہی تو سندرے کے موز روط ہے کام بھاہвنا جگا کر گریحس بناؤ گے وہ تو بھاہвناو سے مکت نروکار اطل آدی آنند تھے بھرمہ اپنی مائہ کے پر بھاہв سے بہر نکلو تمہارے پریاز اسیلے وفل ہو گئے کیوں کہ تم بہری اپایوں سے اندرمن کیس تھرتا کو چھونا چاہتے پر محشوال بھیتر سے بہر کی اور چلتے ہیں بہر سے بھیتر نہیں انہیں کوئی بہری شکتی نہیں صرف ان کی اپنی اچھا ہی گریحس بن آسکتے ہیں اور وہ اچھا تو جاکتے ہیں جب شکتی سویم پرکت ہوتے ہیں کیوں کہ شف اور شکتی ابھیت ہے جاہ شکتے ہیں وہاں شکتے ہیں دیوی ابھی چھپی ہوئے ہیں کنت جب وی پرکت ہوں گی تب شف سویم اپنی مرزی سے اپنی آنند سے صریشتی کی لیلا میں اتار کر ان کے ساتھ ایک بن کر گریحس چیوان بسائیں گے یہ کہ کر وشنو کچھ پلکلے مون ہو گئے پھر مصکور آتے ہوئے بھولے بھرمہ ابھتھان سے سنو صریشتی کا کارے سمپن کرنے کا کئول ایک ہی اپاہ ہے یہ سنکہ بیٹانارت میں اتصاہ سے بھر گیا میں نے طرن پوچھا بتائیے کیا اپاہ ہے میں کچھ بھی کرنے کے لیتے آروں تب شنو بولیں بھرمہ سب سے پہلے تم اپنے سبھی پریاستیاتتو اپنی سبھی اچھای تیاتتو اپنی سبھی ویچار تیاتتو پھر اپنی سوج اور اپنے من کو پون روب سے شف کو سمپر بت کرو تک پشچات پرم شکتی ماد جدتما کا آباہان کرو وہی تمہیں مارتکھائیں گے نیادی انوصار وہی ہی دکش کی پتری ستی کے روب میں جنلیں گے اور وہی شف کو گریحس جیو ان سویکار کرنے کے لے پریرٹ کریں گے نارت میں یہ سنکر گتگت گتھ ہوتھا پر بشنوں نے ایک بار اور میری طرف کم بھیرتا سے دیکھا بولے اس مہان کارے کو ست کرنے کے لے ہمیں تبسیہ کرنے ہوگے کیوں کی جب سرشتی کے دو پردان شکتیہ رچنا اور پالن ایک ساتھ شف میں لین ہوگی تبھی شکتی پرکت ہوگی ہم دونوں تم اور میں شف کا دھیان کریں گے اور ستی کے آگمن کی لیمارک کو تیار کریں گے یہ کہ کر بشنوں انتر دھیان ہو گئے نارت اب میرا ہدا ایک نئی آشا سے پرکاشت ہو گیا اور میں اس سنکلت میں جڑ گیا میں نے اپنے من کو شت کیا اور پھر اپنے بھتی کو اس پرم شکتی میں ایک آگ گر گیا جو ویتیا اور او او او او او او دونوں کی سوامینی ہے جو شت پار برم سواروبنی ہے مادور کا میں نے انہیتری دیووں کو اطبن کرنے والی مانا ستول سے سوکشم سبھی روبوں میں فیابت مانا اور حدا ایسے ایک ستوٹی شروع کی ہی مان حیج اگتم با آبھی سرشتی کی پر بردی ہے آبھی نورتی ہے آبھی ستی ہے آبھی رچنا ہے آبھی پر لے آبھی پالن ہے آپே விட்டیا ہے اور آپی αவிட்டیا, آپی προκαஷیں اور آپی میا, آپی γیان ہے اور آپی αگیان, آپ لکشمی بن کر வஷنوں کے ساتھ ہیں, سرسوطی بن کر مجھ پرمہ کے ساتھ ہیں, آپ پاروطی بن کر شف کے ساتھ ہیں, آپ تردیو کی جننی ہے اور آپ ہی یوگیوں کے حیدہ میں دھیان سروف بن کر ویراج مان ہے آپ aqan dhema abwakth hai anant hai, یہ سارا جگت آپ کی ہی للا ہے آپ کا ہی کھیل ہے آپ کا ہی نتھے ہیمہ آپ کو کوٹی کوٹی پرام جی سے ہی میری ستی پوری ہوئی, تبھی آکاش میں ایک آلوں کے پرکاش پرکت ہوا بھگ بطی چندی کا پرکت ہونی, اون کی ده پادل جیسی شامل تھی, پر آبھوشن سونے جی سے اجوال چار دب بھو جائیں, ماتے پر تین نتر, کشوں میں موتی اور منایوں کی مالا, کمل کے سمان کومل چرن, سورے کے تید سے بھی آدھیک اجوال یہ روب ساک شاکت شکتی کا تھا, دیوی نے میری ترف پرین سے دیکھا اور بھولی یہ بھرمہ میں تمہاری ستوٹی اور سمارپن سے اتی پرسنہوں تمہارے ردے میں اب لوک کلیان کا شد بھاو ہے تم مپنا منورت پتاہ میں نے سنکوچ سے دونو ہاتھ چور کر کہا, یہ دیوی آپ جان اور اگگگان دونو ہے آپ سب کچھ جانتے ہیں مہایوں کی اپنی نروکل سمادھی میں لین ہے اُن کے اس اناس سک بھاوگ کی کارن سریشتی کا شب پروہ رکیا ہے میرا ہر پریاز میری ساری پوتی وفل ہو گئی آپ ہی سمسیہ کا سمادھان ہے میری پر آرتنا ہے آپ دکش پرچہ پتی کی پوتری کے روپ میں جنم لی آپ شف سے ویواح کریں اور اُنھے گریہس سروپ میں لا کر اس رشتی کو گتی دے میرا یہ انروٹ سنکر دیوی نے ایک شن کے لئے مون دھارن گیا اس مون کے بعد دیوی بولی حیبھا مہ میں تمہاری یہ پر آرتنا سوی کار کرتی ہوں میں اوش شہی دکش پرچہ پتی کی پوتری کے روپ میں جنم لوں گے لیکن دیوی رکی اُن کی آکھوں میں ایک دبوی سنک کلپ چمکہ لیکن یہ ملاہ مائیت یا موحسن نہیں ہوگا میں سویم تپسیہ کروں گیا میں پون روپس اس وطندر پر میں شوہر ہوں اور میں ہی سرشتی کے کلیان کے لیے کارے کروں گیا اپنی یوک شکتی سے میں اُن سوامی شن کر کو پتی کے روپ میں باروں گے تاکی یہ ملاہ شد پریم اور یوک کا سروچ ادھارن بنے دیوی نے مجھے یہ بیردان دیا کی جب تک وہ سرشتی میں رہیں گی ویششف کے ساتھ ہی نیواز کریں گی یہ کہ کر دیوی انتر تھیان ہو گئیں اور نارد دیوی کے یہ وجن سن کر میں ایششہ رہت ہو کر پر ام آنن سے بھار گیا اب مجھے یکین ہو جلتا کہ سرشتی کا پرواہ ضرور شروع ہوگا ہماری کسی یوجنا سے نہیں شکتی کی قربہ سے شکتی اپنی شرطوں پر اپنی تپسیا سے اپنے سنگ کلپ سے یہ مہان کارکہ کریں گی مانی منشی وروں کا نمان کر کے وشنو اور میں اپنی تپسیا کے سنگ کلپ کے لین نکل پڑے سنگ چی قتھا کو یہی برام دے تے ہوئے اب ارد کی اور بڑھتے ہیں آخرکار مانن کے بناش ربن ادھورا ہے ہم ستی کھن کے رہسیوں کو سمت سکیں اس پر آرطنا کے ساتھ سب سے پہلے شف شکتی کی ستوٹی کر پور گاورم کرنا وطارم سمسار سارم بھج گیند رہارم
சדہا و سندھم ردیار وندے بھا بم بھاانی صحیتم نمامی ہریوں تت سد قتاو کی گہرائیوں میں اطرنے سے پہلے ایک مول بات جاننا ضروری ہے سنگت یہ سمجھ لیجے یہ قتا صرف آلوککلوکہ نہیں ہے یہ ہماری اپنے انتر مان کی قتا ہے جو وہاں چل رہا ہے وہی ہماری من بھتھیں پھی چل رہا ہے برمہ ہماری رچنات مگ بھتھیں وہ شکتی جو ہر نے ویچار کو جنم دی دی ہے کرییٹر بھتھیں پلینر بھی سب کچھ نینترت کرنا چاہتے ہیں اسیلے اُن سے اُتپن ہوتے ہیں کام دیف رچنا کے لئے اچھا کا ہونہ ضروری ہے کام دیف ہمارے اندر کی وہ طرنگ ہیں جو کہتی ہے مجھے یہ چاہی ویشنو ہمارے اندر کے سنطلن ہیں وہ سوجھا وہ سمبھال جو ہمیں پل پل پل ٹھیک تشا دی رہی ہے بودھی کی تیز رفتار اور اندریوں کی لالسا کو نینترت کر رہی ہے شکتی وہ دیفی اتھت سمبھاہنا وہ ہمارے کشمتا ہے چل نی کی رکنے کی دیکھنے کی بڑنے کی حدائی کی وہ دھرکن جس کے بنائی دے شب ہے اور شف ویتو انتر من ہے ہمارا پرم سوروب ستچت آنند جہا چنتن ہی سمبھت ہو جائے وہ نشچل شانتی جس میں من بھتی اور دے اپنے آپ میں سمبھا جاتی ترال آنل کا گنبندھ رادھ رہ شبہ سنگتشی ایک پلکلے رکھر کہنا چاہوں گی یہ قتھا ہماری پستک ام مدن سیکرز محاشف پران سے پرے رت ہے آپ چاہیں تو محاشف پران داٹھ کم پر جا کر بہلے تیس چاپٹھاز بلکھل فری پر سکتے ہیں پرنا اور سننا ساتھ چلے تو بھاف اور گیرہ راہ ہو جاتا ہے اب قتھا میں لوتتے ہیں جیک روچی آج کی قتھا سنتے ہوئے ایک پرشنہ سو بھافیک ہے سرشتی تو چلہی رہی تھے بھرمہ وشنوں سب تھے شف اور شکتی نے سویم محاپ رلے کا مندھن کر کے سرشتی کو بنایا تھا سنسار تو بقائدہ چل رہا ہے تو بھرمہ جیک کیوں بار بار کہ رہے ہیں کی شف کے بناء سرشتی کا پر باہ رکا ہو آئے شفجی کو گرہز بنانے کے لی اتنے پر ایکن کیوں کر رہے ہیں سب سے پہلے تو آپ کے چندن کو پر آم آپ کا یہ پرشنہ ستی کھن کا مل اتیش ہے فندامنٹھل کسٹن ہے جب سب کچھ برابر سے چل رہے تو شف شکتی کو سرشتی میں کیوں لانا ہے بلکل ویسے ہی جیو ان تو چلہی رہا ہے اس میں دیبیتا کو کیوں تارنا ہے کیوں کی سندہ چی سرشتی کا ہونہ اور اس کا ویکست ہونہ پھل نہ پھل نہ دو آلگ آلگ باتے ہیں شف کا سماضی میں ہونہ پر تیک ہے اس چیتنا کا جو انتر مکھے چھپی ہوئی ہے یعنی STATE OF WITH DRON CONCUSNESS سرشتی ستھر ہے STABLE ہے چل رہی ہے پر ویکاس نہیں ہو رہا ایو لوسش نہیں ہو رہا دائنمسم نہیں ہے جیوان میں رس نہیں ہے پرنا سمویت نہ سمبند ویتو شکتی کا قشتر ہے اور شکتی ویتو شکتی بنا پرکتھی نہیں ہوتی جب تک شف سماضی میں ہے تک تک شف شکتی کی ایک آگرد قربہ سرشتی سے دور ہے بھرم آجی کو یہ پتا تھا کہ بنا شکتی بھاگی داری بنے سرشتی صرف چلتی رہی گی پر جاغی گی نہیں اسی لیے وہ شف کو گریحست میں لانا چاہتے پر سنگتی بھرم آجی سرشتی کے پر باہ کو اتدشہ بتات رہے لیکن ان کی منشامے ایک اور بھاف چھپاہوہ ہے جب کام دیف کا پرہاہ ہوا تھا اور بھرم آہ اپنی ہی پتری سندیا پر موحیت ہو چلیتے تب شف جی آئے سپ پر حسے قتھوش شبت گاہی اور مائیہ کو توردیا بھرم آجی کے حدائے میں ویہ سوچ مقاب آج تک ہے اہیں گگار کا گا چاہتے ہیں کہ کسی ترہ شف بھی مائیہ سے پر بھابت ہو جائیں جس سے یہ سابت ہو جائیں کہ دیکھو شف بھی موحیت ہو سکتے ہیں دیان سے دیکھیں سنگتی آج وہ چلاک اہیں گار اپمان بنکر بھمہ جی کو کشت دی رہا ہے بھمہ وید گیان کے سرود ہے ان کے پاس سارہ گیان ہے پر شف نے کہ دیا دکھا رہے سے گیان بر تب بھرم آجی نے وصند کو اطبن گیا رتی کو بھی ساتھ پھیج دیا سوچھ دے ہیں کہ جب کام دے وصند اور رتی مل کر پریاز کریں گے تو شف کے سمادھی توٹھ ہی جائے گی اپنے اہیں گار کو ست کرنے کے لئے کوشش پیک کوشش سوچھے کیا اجیب لیلہ چل رہی ہے شف شکتی کی قربہ سے جن میں بھرمہ اُنی شف کو نیچہ دکھانے کی کوشش کر رہے پران ایک پر پھر یاد لارے ہیں کہ اہیں گار ہم سے کتھ نے اجیب کرتب کر آ دے دیا ہے جو تیستھان کی قتھا میں ویشنو اور بھرمہ میں یوت کر آ دیا نارت کو وانر روب دے دیا اور اب یہ ہو رہا ہے ایک بار پھر اہیں گار نے کرموں کو تیستھ رفتار تو دی پر پر پر پر پر پر چت کر دیا کبھی یہ کبھی وہ ہر کوشش کر لی اور سبھی ویفل ہو گئیں تب بھرمہ رکھا ہے شرناگت ہو کر شف کو پکارہ تو ویشنو پرکت ہو گئیں دیکھئے کتھنا سندر سندیش ہے قتھا سندھا رہی ہے کہ شف کی قربہتک پہنچھ لیے پہلے ویگ کو جاغنا پڑتا ہے اور یہی سے قتھا ایک داشنے گیا نے پھلو سفکل مورڈ لی دیا اور شروع ہوتی ہے بھرمہ جی کی کرم سے قربہ کی آترا بھرمہ ویشنو سمباد نے بھرمہ اپنی ویتھا سوناتے ہیں اور ویشنو کہتے ہیں تم اپنے سبھی پریاز اچھاوں اور سوچ کو تیاجتو تبسیا کر سنگتی سوچی جیوان میں کشت کہا ہے بہر سنسار میں ہے یا ہماری میں سوسیت نے وہی رشتا وہی جاہ بہی سیٹشن جو کبھی کتنی ہی سندر کیونہ تھے اب تھوڑی پر اشان کر رہی ہے دیکھا اپنے کہ کشت ہماری اپنی سوچ میں ہے اور ہم اپنی سوچ سے چپت جاتے ہیں میں سہی ہوں, I am right پھر جتنا زادہ اپنی رائکنس کو پکڑے رہتے ہیں اتنا ہی وہ ہمیں تکلیف دیتے ہیں تبھی ویشنو کہتے ہیں سوچ کا تیاج کروں اچھا کا تیاج کروں کیوں کی اچھا سوچ سے ہی تو جنم لیتے ہیں وہی اچھا پھر ہماری کرموں میں بدال جاتی ہے اسی لے کہتے ہیں سبھی پریاس کا بھی تیاج کروں گوٹم بود نے اسے بڑی
சundaertha se kaha Vichar shabdhu me badaal jaa tha Shabd karmo me karma adat me adat charitra me aur charitra niyati bhan jaa tha Buthu ho ya Vishnu Sandesh ek hai Yaddi haam aapni ssoj Shiv ko samar pitkhar de tu niyati yaane destini me sadashiv swayam utar ate Par dhandae je sengaji Kahi kaldi se bhi samarpan aur ala se me kahi haam kun fiyuz nao jai Isele, ise prasang ko spaashdata se smajna Bho kye rahe hai Vishnu ye nahi kye rahe ki apni karam matkaru Bho kye rahe hai Karta phaav chhoru Me kar ne wala hu Ye hangkar chhoru Brahma ne ssoja Me ne vasandh banaaya Me reyujna hai Me kar raha hu Yeh yeh ouri zindgi me huta hai Me re samaj Me karye aur bana raha hu Mujhe yaa tha hai Me me me Yeh yeh hai Karta phaav ki maaya Duar shib ki maaya Aur yeh maaya Yeh to itcha se vi ziyada khatar naakhe Tabhi Vishnu ji Brahma ji se kye hai Karam karu Par karta matpanu Sabtya kar devi ka aavahan karu Sengaji Brahma aur Vishnu ka yeh sambad Hmari apne adhunik jeevan ke ne Eki ati uttam trishti koon hai Life ka ek jeevit frame work hai First step Koshishu aur karmo ki baar me behne se Bhele Tho rar rukjana Pawsbatan Tabhi puran me Sandhya ki katha Sengaji saambad jeepele aayi Second step Apne mansha me Vishnu ki saambal ko jagana Stiti ko Vivek desunment ke saat dekhna Third step Usi Vivek se apnei suj Apnei itchaam Apnei prias ko parakna Fourth step Samarpan Ina Sundarsandesh hai yaam Bhagwan ko ham aapna prapanch samar pitkarte hai Aur voo hame apnei kriba pradhan karte hai Usi kriba se aadah hai final step Tabasya Apnei karm ko dhirkartavya baanana Aur bheer dati rahna Yaha hai se shruh hodha hai katha ka ek naiamoon Brahma ji jab sabtyaakkar Shudh ridae se maa ki stuti karthi hai Maa se apna bardhan mangthi hai Tum maa kethi hai Me suyam tabasya karoongi Yaha hai wo brahma ji ko yaa dilar hai Tum nahi kar rahi ho Me kar rahi ho Tum nahi vola rahi Me aar rahi ho Tum haara plan nahi hai Meera dhan kittarav apna sankalpah hai Gunjte hoe kethi hai Me swatantra hoo Swati ke pravah ke leko iss sadhan nahi Swaam sadh hai hoo Param shakti urja ka strottu Karan bhi meh hoo aur kartha bhi meh hoo Sangat ji, our life is so beautiful for us Jab haam se hojte hai Mesh perichul jani par hoo Aakchili, shakti hame apni jani par lejah rahi Hams hojte hai me bhagwan ko toon raha hoo Lekin bhagwan hame bhola rahi Sat sang puraan adhyan kirtan manan dan darmsan sar bhok mooksh Sadashivhi sadhan hai aur vahe saath hai bhi Sangat ji, yadhi aaj ki hoe devi ki stuti Aur ye katha hamaare chintan me puri talha se khol jai Yane haam sef samjahi nahi Ise apne jeevan me bhi utar nahi To haam abhi ke abhi jeevan ke bhandhan se mukhtho jai ge Par ahengkar, itne jealdi hame kaha chhoonne wala hai Ise liye milinghe agle sumwar dhaks ki tapasya se Aur samjhenge, voh rahe se ki niyati ne maa ke janam ke liye Dhaks ke ghar ko hi ki chana Aur abh, Guruji ka shukra na karte hoe Aaj ka episod yeh hi samap karte hai Mi shivji is greased light jabad, begin where you are And Mahashiv Puran will meet you right there Shukra na Guruji, thank you Sangat ji, jai Guruji
Podcast Summary
Key Points:
برہما جی شو کو ان کی سمادھی سے نکال کر گھر گرسٹی میں لانا چاہتے تھے لیکن کامدیو، وسنت اور رتی کی تمام کوششیں ناکام ہو گئیں۔
برہما جی کو احساس ہوا کہ شو کو بھی مایا سے متاثر کرنا ان کے اپنے تکبر اور محدود علم کی وجہ سے ممکن نہیں۔
وشنو جی نے برہما جی کو سمجھایا کہ شو مایا کے مالک ہیں، مایا کے تابع نہیں، اور ان کو گھر گرسٹی میں لانے کا واحد راستہ شکتی کا پرکٹ ہونا ہے۔
وشنو جی نے برہما جی کو اپنے تمام تر اہنکار، خواہشات اور اعمال کو ترک کرکے تپسیا کرنے اور پرم شکتی (ماں) کا آہوان کرنے کا حکم دیا۔
برہما جی نے ماں کی سخت تپسیا اور ستوتی کی، جس پر ماں نے پرکٹ ہو کر انھیں وردان دیا کہ وہ دکش کی پتری ستی کے روپ میں جنم لے کر شو سے بیاہ کریں گی اور انھیں گھر گرسٹی میں لائیں گی۔
ماں نے خود تپسیا کرکے شو کو پتی کے روپ میں پانے کا عہد کیا، تاکہ یہ ملاپ شد پریم اور یوگ کا نمونہ بنے۔
Summary:
یہ محاشف پران کی کتھا میں برہما جی کی شو کو سمادھی سے نکالنے کی ناکام کوششوں کا ذکر ہے۔ کامدیو، وسنت اور رتی کی تمام تر کوششوں کے باوجود شو اپنی سمادھی میں اٹل رہے، جس سے برہما جی مایوس ہو گئے۔ اس کے بعد وہ وشنو جی کے پاس گئے، جنھوں نے انھیں سمجھایا کہ شو مایا کے پار ہیں اور ان کو گھر گرسٹی میں لانے کا واحد راستہ شکتی کا پرکٹ ہونا ہے۔ وشنو جی نے برہما جی کو اپنے تمام تر اہنکار، خواہشات اور اعمال کو ترک کرکے تپسیا کرنے اور پرم شکتی کا آہوان کرنے کا حکم دیا۔ برہما جی نے ماں کی شدید تپسیا اور ستوتی کی، جس پر ماں نے پرکٹ ہو کر انھیں وردان دیا کہ وہ دکش کی پتری ستی کے روپ میں جنم لے کر شو سے بیاہ کریں گی اور انھیں گھر گرسٹی میں لائیں گی۔ ماں نے خود تپسیا کرکے شو کو پتی کے روپ میں پانے کا عہد کیا، تاکہ یہ ملاپ شد پریم اور یوگ کا نمونہ بنے۔ یہ کتھا ہمیں سکھاتی ہے کہ ہمیں اپنے اہنکار اور خواہشات کو ترک کرکے، صبر اور تپسیا کے ذریعے ہی اعلیٰ مقاصد حاصل کرنے چاہئیں۔
FAQs
بھرمہ جی کا خیال تھا کہ شف کے سمادھی میں رہنے سے سرشٹی کا پراوہ رک گیا ہے، اور اسے آگے بڑھانے کے لیے شف کو گریہست بنانا ضروری ہے۔ وہ یہ بھی چاہتے تھے کہ شف مائیہ سے پرے ہو کر ان کی طرح گریہست دھرم اپنائیں۔
کیونکہ شف پوری طرح سمپون اور نروکار ہیں، وہ کسی بھی بہری شکتی سے متاثر نہیں ہوتے۔ کام دیو کے بان اور وسنت کی شکتیاں شف کے دھیان کو ہلا نہیں سکیں۔
وشنو نے کہا کہ بھرمہ اپنے تمام پرایاس، اچھا اور ویچار کو تیاگ کر، شف کو سمپر بت کریں اور پرم شکتی کا آواہان کریں۔ شکتی ہی شف کو گریہست جیون اپنانے کے لیے پریرت کریں گی۔
دیوی نے کہا کہ وہ دکش پرچہ پتی کی پوتری ستی کے روپ میں جنم لیں گی اور اپنی تپسیا سے شف کو پتی کے روپ میں اپنائیں گی۔ یہ ملاہ شد پریم اور یوک کا اُدھارن بنے گا۔
بھرمہ کے دل میں یہ سوچ تھی کہ اگر شف بھی مائیہ سے پر بھابت ہو جائیں تو ثابت ہو جائے گا کہ شف بھی موحیت ہو سکتے ہیں، لیکن یہ ان کا اہیں گار تھا جو انہیں کشت دے رہا تھا۔
وشنو کہتے ہیں کہ جب ہم 'میں کر رہا ہوں' کے کارتا بھاو کو چھوڑ دیتے ہیں، تو ہماری سوچ اور اچھا ختم ہو جاتے ہیں، اور پھر شف خود ہماری نییاتی میں اتر آتے ہیں۔
Chat with AI
Loading...
Pro features
Go deeper with this episode
Unlock creator-grade tools that turn any transcript into show notes and subtitle files.