Go back

Chapter: 2 Mera Dil Bhi Kitna Pagal Hai

10m 28s

Chapter: 2 Mera Dil Bhi Kitna Pagal Hai

The transcription includes a conversation between Suresh Kumar Thakur and a listener discussing a podcast. The dialogue touches on themes of love and relationships. Additionally, characters Sanjana, Suraj, and Ravi engage in a conversation about Banharas, with Sanjana expressing contentment and tranquility in the place. Sanjana mentions a lack of interest in studies since arriving there. The exchange reveals a friendly atmosphere and hints at developing friendships.

Transcription

1076 Words, 4879 Characters

I am your host & friend Suresh Kumar Thakur & you are listening to a lot of Rana Ishq podcast Hi Dia, you are listening, right? Yes, I am listening If you don't mind, I will stay here till the chapters are up When did I say this? Are you sure now? Yes, I am sure Okay, you know Dia When we feel like we are done with someone's life Okay, now we feel like we are done with someone's life We feel like we are the most in love We feel like we are in love with someone's life We feel like we are in love with someone's life We feel like we are done with someone's life We feel like we are done with someone's life We feel like we are done with someone's life My dad was going to give me this board of girls this year So this was also a reason why I wanted to send a script We will study well together When I had kept the script in the script I felt something different In the script of the script there was a different act محبت کی شادر بچھا ہے اس بنارے شہر نے جیسے کیچ لیا تھا مجھے اپنیور. آسک بس لوگوں سے اس ہونا تھا بنارس کے بارے میں. لیکن اچھ پہلی بار یہاں اپنے قدم رکھر. اس بات کا بھی ہی ہی ساز کیا کہ کیوں اس شہر سے محبت کر بیٹھتا ہے یہاں آنی والا ہریک شکس. میں اور ربی یعنی میری بوہ کلڑ کا. ہم دونوں ہی دنبر لابریری میں رہکر پڑھای کرتے اور سورج جلتے ہی نکل پڑھتے تھا کھاٹ کی اور گنگہ آرتی دیکھنے. گنگہ آرتی شروع ہوتے ہی بینچ پر کھڑے پوجاری سبی کو بیٹھ جانی کی ہی دائے دیتے تھے تاکی سب کو آرتی دکھائی دیسے گے. گنگہ آرتی کو بیا کر پانا تھوڑا مشکلے میرے لے. پوجاریوں کا ایک ساتھ ایک ہی لامی گھومنا اور ساتھ مجلتی ہوی اللہ کو اپنے ہاتھ پر سمالنا کسی فیلم کا سب سے بہترین سے نمالوں ہوتا ہے اور مجھے لکتا ہے کہ اتنے کھوب سورت درشے کے لیے مگنگہ بھی اپنے سارے کام چھوڑ کر کنارے بیٹھس کا انتزار جرور کرتے ہوگی ہر دن کی طرح آج بھی میں اور روی شام ہوتے ہی کھاٹ پر گنگہ آرتی کے لئے پہنچے روی ہمیشہ آرتی کے وقت میری دائی اور کھڑا ہوتا تھا سوچہ تھا گا بھی پوچھوں گا ہوں سے ہمیشہ میری دائی اور کھڑا ہونے کی وجہ مگر آج میری بائی اور کوئی اور بھی تھا یا یوں گا ہوں تھے نیلا سوٹ پہنے آکھوںے کاجل لگا ہے ہمیشہ آرتی کے لئے پر گنگہ آرتی کے لئے ہمیشہ آرتی کے لئے پر گنگہ آرتی کے لئے ہمیشہ آرتی کے لئے پر گنگہ آرتی کے لئے آرتی کے لئے پر گنگہ آرتی کے لئے ہمیشہ آرتی کے لئے پر گنگہ آرتی کے لئے ہمیشہ آرتی کے لئے پر گنگہ آرتی کے لئے کیا نام ہوگا فکا؟ کیا ہماری کبھی ملاقات باپس ہو بھی پائیگی؟ ایسے نجانک کتنی سوالوں کا فوارہ چل رہتا میری اندر اگلی سوبا اٹھتے ہی مجھے سورج جھلے گا بے سبری سندہ ذارتا آج وقت بھی نجانک کیوں اتنا دھرے بیٹ رہتا لگرری میں بیٹھا میں کچھ وقت پڑتا اور پھر گھڑی کی اور دیکھتا مجھے یہ بے چین دیکھ روی نے بھی مجھ سے پوچھے لیا میری ایس بے چینی کا قارل میں نے اسے ابھی کلیں نہ باتانا بہتر سمجھا گھڑی کی اور دیکھتے دیکھتے سورج جھلے گا سمین از دیکھا چلا تھا آج گنگہ آرتی سے پہلے ای میں نے روی کو قاعد پر چلیں کو کہا اس بے چاری کو کچھ سمجھ نہیں آ رہتا کہ میں ات سوبا سے اتنا بے چھین آکھیں کسپات کو لکاروں اس نے جادہ نا سوستے ہوئے آرتی سے پہلے ہی گھڑٹ پر چلیں گی ہامی بری بنارس میں لگبک چو راسی کے قریب الگلگ گھڑٹ ہیں ان میں سے ایک ہے اصی گھڑٹ کہتے ہیں بنارس شہر میں ہوا آدھورا ایشک اصی گھڑٹ پر آگری ملتا ہے تو میں بھی چلایا تھا اپنے آدھور ایشک کی تلاس میں اپنے بنارس ایشک کو دھڑھ نہیں آرتی کا سمیہ ہوں چلا تھا مگر آج میری بائیوں رب تک وہ نہیں آئی تھی جس کا مجھیں تزار تھا سورت جلا اور سبھی پوجاری اپنے اپنے ہاتھوں میں جلتی ہی اللہ کو لیے آرتی شروع کر رہے تھے میں نے آخری باہر اس بھیڑ میں چاروں طرف اپنے نگا گھوما کر دیکھا مگر میری نجری جہتگ گئی وہ کہیں نہیں دیکھیں میں واپس سے آرتی پر دھیھان لگا ہے آرتی گھانے لگا کس در بعد آرتی ختم ہوئی اور آرتی لیکر میں واپس جانے کے لی پیچھے مڑا ہی تھا کہ مجھے وہ واپس سے دیکھی اس وقت جو میری چہرے پر مسکان تھی گنگا مئیہ گزم ویاسی مسکان مجھے خود نہیں پتا آخری بارک کا بائیتی میری چہرے پر میں کس در تکتا اسے بھی نہ پلکے چھپکا ہی دیکھتا رہا آرہا ہی آپ کو یادہ ہم کل بھی ملیتے ہاں یاد تو ہے مگر تمہیں پلکہ بھی دیکھا نہیں میں تو یہ رو جا رہا ہی وہ آرتی میں ہاں وہ ایک چلی اس پر میریٹ 12 بوٹ سے نا تو اس وقت سے میں دلی سے ہاں بنارہ سایاں اپنی بوہ کی گھر اچھا ویسے میں تمہرہ نام جان سکتا ہوں Hi, I am Sanjana Hi Sanjana Myself Suraj And this is my cousin, Ravi Hi Sanjana Hi Ravi You are from Banharas right here right? Yes, I am from here You can talk to us I have some work and I will talk to you later Let's go, Ravi Is this Ravi a little shy? A little shy Do you live near this place? No, not so close But a little far from me But I don't miss Gangarti So tell me How do you feel about Banharas? I feel very happy and peaceful here How long have you been in Banharas? It's been a week now So you have been around Banharas till now? Actually, since I have come here I don't like studies So I don't have time to travel around Banharas I don't have time to travel around Our Banharas are very beautiful When we talk, we both reach far away The night was very long If I come here, I will go now Okay, so we will meet at Gangarti's time tomorrow But when will my friend come? So you will also become my friend in Banharas? You really are crazy Yes, a little

Podcast Summary

Key Points:

  1. Conversation between Suresh Kumar Thakur and a listener about a podcast.
  2. Discussion about feelings of love and relationships.
  3. Characters named Sanjana, Suraj, and Ravi talking about Banharas.
  4. Sanjana expresses happiness and peace in Banharas.

Summary:

The transcription includes a conversation between Suresh Kumar Thakur and a listener discussing a podcast. The dialogue touches on themes of love and relationships. Additionally, characters Sanjana, Suraj, and Ravi engage in a conversation about Banharas, with Sanjana expressing contentment and tranquility in the place.

Sanjana mentions a lack of interest in studies since arriving there. The exchange reveals a friendly atmosphere and hints at developing friendships.

FAQs

گنگہ آرتی ہے ایک معنوی رسم جس میں دیپک جلایا جاتا ہے۔

بنارس شہر میں محسوس بہت خوش اور پرامن ہوتا ہے۔

میں ایک ہفتے سے بنارس میں ہوں۔

جی ہاں، میں گنگہ آرتی کو پسند کرتا ہوں۔

میں نے اب تک بنارس کے ارد گرد ہی گھوما ہے۔

بنارس میں آنے سے میں کتنا خوش اور پرامن محسوس کرتا ہوں۔

Chat with AI

Loading...

Pro features

Go deeper with this episode

Unlock creator-grade tools that turn any transcript into show notes and subtitle files.