بریانی کا سفر فارسی ثقافت سے شروع ہوا، جہاں اسے "بریان" یعنی تلا ہوا کہا جاتا تھا۔ مغل دور میں یہ ہندوستان پہنچی اور شاہی درباروں میں ہندوستانی مسالوں اور دم پخت کی تکنیک کے ساتھ ایک نئی شناخت بنائی۔ بریانی صرف شاہی طبقے تک محدود نہ رہی بلکہ فوجیوں کے لیے بھی ایک عملی اور غذائیت سے بھرپور کھانا بن گئی۔ وقت گزرنے کے ساتھ، ہندوستان کے مختلف خطوں جیسے حیدرآباد، لکھنؤ، کلکتہ اور سندھ نے اپنے مقامی ذائقوں اور اجزاء کے ساتھ بریانی کی منفرد اقسام تیار کیں۔ آج، بریانی نے ریلوے اسٹیشنوں سے لے کر عالمی سطح پر اپنی مقبولیت پھیلائی ہے اور جدید دور میں اس کے نئے روپ جیسے ویج بریانی بھی سامنے آئے ہیں۔ یہ پکوان نہ صرف ذائقے بلکہ جذبات اور ثقافتی شناخت کا اہم حصہ بن چکا ہے۔
آپ سے ایک سوال ہے اگر میں کہوکی ہماری بلووٹ بیریانی عصر میں ہندسطان کے دیش ہے ہی نہیں کہتے تو یہ بھی ہیں کہ یہ بیریانی مگل دربار سے آیا تھا یہ ان کا گمفٹ فوت تھا اب مگلوں کے گہنی میں اشوہ عرام اچھا کھانا کبھی سونی اور ہیرو سے جڑا میور سنگھہسن اور کبھی درباروں میں پر اوصی جانے والی بیریانی عرام اور شان دونوں ساتھ چل دے تھے آج بھی ہمارے لیے عرام ضروری ہیں بس اس کا روب بطل گیا اب نہ سونے کا تکھتے نہ ریش میں قتے میرا عرام آتا ہے میری فریدو ایروں مش ارغانوں میک چیر اور نک بیلو سے اس کی بریدے بل مش مجھتھنڈا رکھتے ہیں پوشہ سپورت مجھے کنت اور رکھڑی مستیڈی رکھتے ہیں تو چلیے اسی عرام اور کمفٹ فوت کی پرامپراہ کو آگے بڑھاتے ہیں آج کی کہانی سنتے ہیں پریانی کی دیحاز کی انجیب, بلکھل جو کھانا آج شادیوں کے جان ہے ہر سلیبریشن کا سوب پستار ہے اس کا جن ہوا تھا پرشیا میں سوچی سرہ ایک گرمہ گرم حانڈی ہو لی اور اس میں سنکل رہی ہے مسالوں کے خوشبوں دم میں پکا گوشت سافرن والی چاول آج ہمی سے بریانی گیتے ہیں لیکن پرشیاں لوگی سے کہتے تھے بریان بریان جس کا مطلب ہے فرائد بھیفورک ککیں وہاں کے باورچی چاول کو پہلے تھوڑا فرائی کر دے اور پھر گوشت کے ساتھ دم لگاتے تھے اور جب یہ پرشن سٹائل ہندوستان آیا تو یہاں کے خان سامہ حیران ہوگے کیوں کہ ہمارے پاس پہلے سے پولاف تھا کچھ جڑی تھے لیکن پرشن ٹیکنیک نے ہندوستانی مسالوں کے ساتھ مل کر ایک نیا جادورا چا حیران بھیفورک کچھ جیتے ہیں ابول فظل کے لکی ہوئی اینی اگبری جو اگبار کے دربار کا انسائگلو پیڑی تھا اس میں لکھا ہے کہ مگل کچنس میں رائز اور میٹ کے نائیں ایک سپیریمین سوٹے تھے مدلب امجن گیجے ایک طرف پرشن بریان کا فرائی سٹائل دوسری طرف ہندوستانی سپائیسس اور رزل ایک رویل انوشن بریانی اور یہ صرف دربار تک سیمت نہیں تھا سولجرس کے لیے بھی بریانی ایک بون تھے ایک حانڈی میں ملتا تھا کمپیٹ میل جاوال بھی گوشت بھی اور ٹیست بھی دم لگاو اور پوری فوج کھیلا دو اسے لی بریانی ایک ساتھ لگجری بھی اور پرکٹکر بھی تھے اور دھیرے دھیرے یہ شاہی دش بن گئی ہندوسطان کی جان لیکن نصل سیکرٹ تو یہ ہے بھی نہ پرشن شروعات کے بریانی آج ہے چاہتھ کبھی نہ ہوتے پرشیہ سے شروع ہوئی بریانی کے کہانی جب حندوسطان آئی تو اس نے اپنے اصلی رنگ مگل درباروں میں دکھیا جہا پرشیہ نے بریانی کو ایک شیب دیا تھا وہیں مگلس نے اسے ایک رویلنداز بکشہ اگبر کے کچنس کی بات کریں تو یہ صرف ایک رسوی نہیں تھے بلکی ایک رسوچ لاب تھے وہاں شفς νے نا ایک سپیریمینس کرتے تھے کبھی چاوال اور گوشت کی νے لیارنگ کبھی مسالوں کیا لیکنی کمپینیشنز جہاگی رو شاہ جہا کے دور میں بریانی اور بھی وار بھی یہی سے آیا فیمس دم پوچھ دستائل حندی کو سیل کر کے دھیمی آج پر پکانا اس سے نہ صرف ٹیست انٹنس ہوتا تھا بلکی خوشبو بھی حندی کھل نے تک بند رہی تھے ایک اور خاص بات تھی مگل کچنس کی ان کا فیور کے ساتھ رو مینس کہے وڑا سافر مگلاب جل یہ سپسرف ٹیست کے لئے نہیں ایک روائل ایک سپیرینس کے لئے ہی ہی ہی ہی ہی ہی بریانی صرف کھانا نہیں تھی ایک نشانی تھی مگل شان کی لیکن مگل کچنس کا اصر صرف داربار تک سیمیت نہیں رہا سولجس کے لئے بریانی ایک پر ایک ٹیکٹل کھانا بلگے ایک حندی میں پورا مین یہ ایک ایسا پونٹ تھا جس نے بریانی کو صرف رلقجری نہیں بلکی یوتی لیٹی بھی برایا تھا اور یہی سے بریانی نے اپنہ آگلہ صفر شروع کیا جب یہ شاہی حانی ہندستان کے اعلقلہ کونے تک پہچی ہر جگہ بریانی نے اپنا نیا رنگلیا حیدرہ بادی لکنوی ملا باری کول کاتا ہر ایک نے بریانی کو اپنے طریقے سے اپنایا لیکن یہ کہانی ہم اگل حسوں میں کھلیں گے ہر شہر کی اپنی بریانی مغلس نے بریانی کو ہندستان تک لیا لیکن اسلی محجکتہ بھیا جب یہ اعلقلک شہروں میں پسکھئی سب سے پہلے بات کریں حیدرہ بات کی نظاموں کا شہر اور ان کی حیدرہ باتی بریانی ویسے ہی مشہورہ یہاں دمسٹائل کو پفیکشن تک لی جائے گیا ہر گرینو فرائیس اعلق اور مٹنی اچکن ایتنا صفت کی بس چھونے سیٹوڑ جائے اس میں آپ کو تیز مسالے بھی ملتے ہیں اور وہ اسلین نوابی تچ بھی پھر آتے ہیں لکنوں کی گالیوں میں یہاں بریانی کا فریور ہیدرہ بات سے بلگو لگ ہیں لکنوںی یہ آبیتی بریانی زیادہ سٹل ہے مسالے حلکے فریور سفیستکیٹے اور ایک لیگر کی افھلی رکھی گئی سے کھاتا ہی لکتا ہے جسے ایک شائر کی شائری زبان پر پیگھل رہیوں ساؤت میں تھوڑ اور نیچہ چلیں گے تو ملے گی ملا باری بریانی کرلہ سے یہاں بریانی میں آتا ہے کوستل ماجک نارگل کری لیبز اور تھوڑا سپائسکک یہ بریانی تیسٹ میں ایک دم رفرشنگ لکتے ہیں جسے سمندر کے تنڈی ہے اور پھر کول کاتا بریٹش راج کے دور میں جب واجدہ لیشےخ کو اگزائل کر کے قلکتتا بھیجا گیا تو انہوں نے لکنوںی بریانی کا اپنا ورشن بنویا لیکن شوٹج اف میٹ کی وجہ سے یہاں آلو بھی بریانی میں آ گیا اور دیکھو بریانی کا اخصرینے چھر بن گیا تو ایک چیز کلیر ہے بریانی ایک ہی دیش نہیں ایک سفر ہے پھر ریجن نے اپنا پیار اور اپنی ایڈنٹٹی دال دیس میں اور اسی وجہ سے اج بھی جب بھی کوئی بھیجھ بریانی کے دیبے چھرو گرٹا ہے تو وہ ختم ہی نہیں ہوتی ایک زمانہ تھا جب بریانی صرف شہن شاہوں اور نوابوں کی داواتوں میں بنتی تھے لیکن دھی ریدھی ہے ریلوے کنٹینس تک اور چھوٹی چھوٹی دھا پونتک اور وہی زشروح ہوا اصلی پیار ہم آدمی اور بریانی کا رشتا سوچھو حیدر بات کی قراروڑٹ گلیا یا لکھنا ہوگے چاکھ ایک طرف بڑے ہوتالس کی دمدار بریانی اور دوسری طرف چھوٹی سی ہانڈی میں دھوانی کلتی بریانی کا پیٹھ دونوں کا اپنا آلگ مزاہ ریلوے جورنیز میں بھی بریانی کے نوستالجیہ دیتی ہے ٹرین کے ویڈوں کے بہار چینجیں گیوز اور باکس میں گرمہ گرم بریانی پوپ مومینٹی کچھ ہو روڑٹ ہے اج تو ہر شہر اپنا بیست کلیم کرتا حیدر باتی سب سے بڑیا ہے نہیں بہی لکھنا بھی اس لیا ایک کل کاتا آلو کے بھی نہ بریانی ہوتی ہے کیا؟ ایسی چھرچا ہے ہر فوڑی کے گروب پہ مل جاتی ہے اور پوب کلچر نے اسے اور آی کونک پر آدیا ہے اپسر فک دش نہیں ایک پوب سٹار بن چکی ہے بریانی وورز بھی چلتی رہتی ہون لین جان لوگ اپنے شہر کی بریانی کلی لڑنے تک کوتایا روڑٹ ہے ایک لین میں بولیں تو بریانی کا سفر تاج کے مهلو سے لیکر سٹریٹستال سکا ہے اور وہی سے یہ اصلي لجن بنائے کیوں کہ جب تک عام لوگوں کے دل میں جگہ نہ بنیں تک تک عصلي پوپیلیرٹی آتی ہی نہیں اب جب بریانی عام لوگوں تک آہی گئی تو سوالی اٹتا ہے کیا ہے اس دش کا اصلي ماجک صرف چاول اور گوش تو ہر جگہ ملتا ہے پر بریانی بن جہ تو دل جیت لیتی ہے اس کا جواب چھوپا ہے اس کے رازوں میں سب سے پہل راز مسالے زافران کرنگ اور خوشبو کیے بڑا کائیک حلکہ سچھوںک علائچی اور لون کی گر میں یہ سب بل کر وہ نشا بناتے ہیں جو صرف بریانی میں ملتا ہے کہتے ہیں کہ اس کے سوالی میں ملتا ہے کہتے ہیں کہ اس لی بریانی وہ ہے جو خوشبو سے پہلے آنکھوں اور پھر دل کو جیت لے پھر آتا ہے ایک دم پکھت ایک سیل ہانڈی دیمی آج اور اندر ایک دنیا ہر چاول کردانا گوش تور مسالوں کی خوشبو سو کرپنا کرکٹر بنانتا ہے اور جب ہانڈی کھلتی ہے تو لکتا جا سے خوشبو کا ایک دفان نکل کر سب کو اپنا دیوانہ بنانا ہے اور رائس ہا باسمتی رائس اس کے لنبہ دانی اور فریگرنس بھینا بریانی کا ایماجن کرنا مشکل ہے اس لیے تو موجل کچن سے لے کر آج کے 5 سٹر حدیل سک باسمتی ہی بریانی کا کراون بنارہ ہے دوبای کے 5 سٹر بوپیس سلے کر لندن کے انڈیون رسٹروں سک آپ کو بریانی کا نام گولڈن لٹرز میں لکھا ملے گا New York Fooot Trucks میں بھی بریانی سرور ہوتی ہے اور گلف کنٹریس تو لیٹرلی بریانی Capitol بھنچل بن چکے ہیں اور سپسے انٹرسٹنگ بات جیسے جیسے جیسے جیکلو بل ہوئی نائی نائی فیوشن ویوشن سوی نکلے پنیر بریانی سویا بریانی ویچ بریانی تو چلو چاہلو چاہلو چاکلٹ بریانی پاستا بریانی اور سوشی بریانی تو بنا دی گئی اب یہ اعلق بات ہے کہ کچھ لوگی سنکہ نا مہ سرپکڈ لے اینڈیامے سویگی اور زومیٹوگ ریپポٹس کے مطابق ہر سلیبریشن میں ایک پیریانی ہونہ مینڈیٹری جیسے لکتا ہے اور جو سپسے خوبصورت بات ہے بریانی صرف ہے کہہنا نہیں ہے ایموشن بن گئی ہے دوستوں کے ساتھ رات بارہ بجے کا پلان ہو یا گھر پیشاہدی کے داوت یا پھر ہوستل کی ہنگر پنگس بریانی ہر بود ہر سٹنگ کو پورفک بنادیتے ہیں بریانی کی ایک انیہ کہانی یہ بھی ہے کہ مدھ ہے اشیہ کے کہانہ بادوش لوگ زیادہ تر چاوال مانس اور دیری اتپادو پر ہی نربرتے ہیں
فیاتری, سلکروٹ سے گزرے تو اس لزیز بھوجن کو اپنے ساتھ بھارتی محادویب میں لیا ہے وہی بریانی رسٹو آناما کے افیمہ ساوٹلٹ کے مالیک وشفرات شنوائے کے مطابق اُتتر بھارت میں بریانی مگلوں کے دوارہ زیادہ پرکھیا تھوی جب کی دکشن بھارت کے کالیقت میں بریانی عرب ویاپاریوں دوارہ لائی گئی تھوی بریانی کا مگلتیحاص بریانی کا مگلتیحاص سجوڑا ایک کسی یہ ہے کہ بازشہ شہا جاہا کی پریے پتنی ممتاز محل ایک دن مگل سینہ کے چاہاہای میں پہاچی تو انہیں زیادہ تر مگل سانی کمزو رکھای دیرہے تھے ایسے میں ممتاز محل نے شاہی باورچی کو آدیش دیا کہ سانی کو کو ایک ایسا آہر دیا جا جا جو پوشٹکھو ممتاز محل نے چاہاول اور مانس کے سمجھرن سے بنائے ایک سوادشت ویانجن تیار کرنے کو کہا جس سے سانی کو کو بھر پور پوشر ملسکیں اس کے بعد مگل رسونیوں نے کسر میٹ کی چاہاول اور سکندھت مسالوں کو ملا کر ایک لزیز ویانجن تیار کیا جسے بریانی کے نام سے چانا جاتا ہے حالا کی کچھ بھو جنی تیحاص کر یہ بھی ترک دیتے ہیں کہ مگل باتشہ بابار کے بھارت آگمن سے پور بھی بریانی ایک بیانجن کے روک میں لوگ پری ہو چکیتے برکھیات مگل کرتی این ایک بری کے لیکھا قبل فضل کے مطابق بریانی شب بھارت میں پہلے صحیح پرشلیتا کیوں کہ اسے پولاو اور بریانی میں کوئی بیشش انتر نہیں نظر آتا ہے بریانی کا اوض سے بھی ایک خاص کنیکشن ہے نواب آسف دوللہ سجوڑی ہوئی اوض کے تیسرے نواب سو جو دول کے بعد نواب بنے آسف دوللہ کو لقنوں کا مکھیا واس تو شلپی کہا جاتا ہے ایک کر کیسر بارا علاقہ نواب آسف دوللہ کی ہی تین ہے سال سترسو چوراسی میں ایک بھائن کر رکال پڑا ایسے میں نواب آسف دوللہ نے بھر مارت کارے کے تہت کام کے بدلے بھو جن ناما کے کارے کرم کی شروعات کی درسل نواب آسف دوللہ بڑا ایمام بڑا بنوانا چاہتے تھے اس نرمان کارے کے دوران بڑے پیمانے پر شرمی کو کو لیا گیا ایس شرمی کو کو بھو جن کرانے کے لئے آوات کے شاحی رسویوں نے بڑے برطنوں میں چاول مانس سبزیا تتا سکندھیں دھیمی آج پر پکھیا یہ وینجن شرمی کو بہت پسندیا ایک دنی ایسے وینجن جب دھیمی آج پر پکھیا جا رہا تو اس کی سکندھیں نواب آسف دوللہ کا بھی مان موہلیا و انہوں نے اسے اپنی شاحی رسوی میں بھی بھنا نے کا آ دیشتیا تو اسے بریانی پورے آواتی نہیں سمس توطری بھارت میں پر ساریت ہو گئی اب آت کرتے ہیں سندھیں بریانی کی پاکستان کا سندھ پراند سندھیں کا گھر مانا جاتا ہے سندھیں بریانی اپنی مسالے دار سواد کے لیے فیمس ہے سندھیں بریانی کو مٹنیہ چکن داھی حلدی دھنیہ لالمیرش پاوتر تا تھا گرم مسالوں کو میرینیٹ کر تیار کیا جاتا ہے سندھیں بریانی میں آلو بخارے کبھی استعمال کیا جاتا ہے جو اس کے سواد کو تیخب ناتی ہے سندھیں بریانی میں مانس کو باری قتے پیاز اور تمارٹر کے ساتھ تبتک پکایا جاتا ہے جب تک یہ نرام اور رستار نہ ہو جا ہے اس کے بعد باسمتی چاول کو تیس پتطالوں گی لائچی اور ستارے انسجیسے سابوت مسالوں کے گلدستے کے ساتھ اوبہلہ جاتا ہے جس میں اس خوش بواتی ہیں آخر میں پر تیق پرت پر تلے ہوئے پیاز تا دہ پو دینہ اور دھنیا کے پتے دالے جاتے ہیں اور پھر اسے سیل کر کے دھینیاج پر تک پکایا جاتا ہے جب تکی سبھی سواد ایک ساتھ کر مل جائیں پرمپر آگت بریانی کو میٹی کے برطن میں کوئلے پر پکایا جاتا تھا حانا کی بضلتے سمعی کا ساتھ اسے پکانی کی تکنیگ بھی بضلتی آئی ہے تو یہ تھا بریانی کا سفر پرشیہ کے میٹی سے اٹھا مگلدستر خانو پر چم کا انڈیا کے ہر شہر میں اپنا رنگ دکھیا اور اب دنیا بھر کا دلجیت رہا ہے اور یہ سفر ابھی بھی چل رہا ہے کیا بریانی کے لیے ایک ہی رو لے حانسی تیستے دنیا گئی گئی I hope you like this episode and if you liked it don't forget to follow indian veelon whichever platform you are listening to بہارت کو رہت چیسا جاننایا تو اپیسوڑ لیسٹ اکسپڑ کیجے وہہت جانکاری ملے گی this episode was presented to you by Frito Explore ki je Frito or Apna Singhazan got choose ki je کیوکی بھارت میں Comfort ہم ایشہ سیکنگ رہا ہے چاہی وہ کھانے کے بعد ہو یا رہن سہنگی Frito دیتا ہے آپ کو لگشری comfort بلکل کسی راچ شاہی تو ار طریق ہے Discription میں link ہے Check ki je اور ابھی Apna Singhazan مگایا تو میں ملتا ہوں آپ سے رہا بھی سوٹ میں تبتاک, take good gear for health this is rakesh signing off from Indian veild
Podcast Summary
Key Points:
بریانی کی ابتدا فارسی ثقافت سے ہوئی، جہاں اسے "بریان" کہا جاتا تھا۔
مغل دور میں بریانی نے شاہی رنگ اختیار کیا اور ہندوستانی مسالوں سے ہم آہنگ ہوئی۔
بریانی نے ہندوستان کے مختلف خطوں میں مقامی ذائقوں کے مطابق نئی شکلیں اختیار کیں۔
یہ پکوان عام لوگوں تک پہنچا اور ریلوے، ہوٹلوں اور گھریلو کھانوں کا حصہ بنا۔
آج بریانی ایک عالمی ڈش بن چکی ہے اور جدید تغیرات کے ساتھ مقبول ہے۔
Summary:
بریانی کا سفر فارسی ثقافت سے شروع ہوا، جہاں اسے "بریان" یعنی تلا ہوا کہا جاتا تھا۔ مغل دور میں یہ ہندوستان پہنچی اور شاہی درباروں میں ہندوستانی مسالوں اور دم پخت کی تکنیک کے ساتھ ایک نئی شناخت بنائی۔ بریانی صرف شاہی طبقے تک محدود نہ رہی بلکہ فوجیوں کے لیے بھی ایک عملی اور غذائیت سے بھرپور کھانا بن گئی۔ وقت گزرنے کے ساتھ، ہندوستان کے مختلف خطوں جیسے حیدرآباد، لکھنؤ، کلکتہ اور سندھ نے اپنے مقامی ذائقوں اور اجزاء کے ساتھ بریانی کی منفرد اقسام تیار کیں۔ آج، بریانی نے ریلوے اسٹیشنوں سے لے کر عالمی سطح پر اپنی مقبولیت پھیلائی ہے اور جدید دور میں اس کے نئے روپ جیسے ویج بریانی بھی سامنے آئے ہیں۔ یہ پکوان نہ صرف ذائقے بلکہ جذبات اور ثقافتی شناخت کا اہم حصہ بن چکا ہے۔
FAQs
بریانی کی ابتدا فارس (ایران) سے ہوئی، جہاں اسے 'بریان' کہا جاتا تھا، جس کا مطلب ہے 'بھونا ہوا'۔ یہ تکنیک بعد میں ہندوستان آئی اور مغل دربار میں اس نے ایک شاہی روپ اختیار کیا۔
مغل دربار میں بریانی صرف کھانا نہیں بلکہ شاہی شان کی علامت تھی۔ اسے اعلیٰ معیار کے مسالوں، زعفران اور دھیمی آنچ پر دم دے کر تیار کیا جاتا تھا، جو ذائقے اور خوشبو کو بہتر بناتا تھا۔
ہندوستان میں حیدرآبادی، لکھنوی، ملیالی اور کولکاتی بریانی جیسے مختلف انداز مشہور ہیں۔ ہر خطے نے اپنے ذائقے اور مسالوں کے ساتھ بریانی کو ایک منفرد شکل دی ہے۔
دم پخت ایک ایسی تکنیک ہے جس میں ہانڈی کو بند کر کے دھیمی آنچ پر پکایا جاتا ہے۔ اس سے نہ صرف ذائقہ گہرا ہوتا ہے بلکہ مسالوں کی خوشبو بھی محفوظ رہتی ہے، جو بریانی کو لذیذ بناتی ہے۔
سندھی بریانی اپنے تیز مسالوں اور منفرد ذائقے کے لیے مشہور ہے۔ اس میں گوشت کو دہی اور مصالحے میں مرینٹ کر کے پکایا جاتا ہے، جبکہ آلو بخارے کا استعمال اس کے ذائقے کو نکھارتا ہے۔
بریانی ابتدا میں صرف درباروں تک محدود تھی، لیکن بعد میں یہ فوجیوں اور ریلوے اسٹالز تک پہنچی۔ آج یہ ہر طبقے میں مقبول ہے اور ہر تقریب کا لازمی حصہ بن چکی ہے۔
Chat with AI
Loading...
Pro features
Go deeper with this episode
Unlock creator-grade tools that turn any transcript into show notes and subtitle files.