Go back

18+ [Indian Adult Story] Savita Bhavi Chote Ladke Se Chudwai

7m 14s

18+ [Indian Adult Story] Savita Bhavi Chote Ladke Se Chudwai

انکتا اٹھائیس سالہ خاتون ہیں جو ستنا میں رہتی ہیں اور ان کی شادی کو کچھ عرصہ ہوا ہے۔ ان کے شوہر کو بچے نہیں چاہیے اور وہ زیادہ تر کام میں مصروف رہتے ہیں، جس کی وجہ سے انکتا تنہا رہتی ہیں۔ ان کے گھر میں ساس، دیور اور نند بھی رہتے ہیں۔ ایک دن جب گھر میں صرف انکتا اور اس کا دیور تھے، وہ نمک کا ڈبہ نکالتے ہوئے گر گئی اور اس کی کمر میں چوٹ لگی۔ دیور نے اسے اٹھایا اور کمرے میں لے جا کر مالش کرنے لگا۔ مالش کے دوران ان کے درمیان کشش بڑھی اور وہ مباشرت میں مصروف ہوگئے۔ انکتا نے اس تجربے کو بہت اچھا بتایا اور کہا کہ وہ اس کے ساتھ مکمل طور پر شامل تھی۔ آخر میں انکتا نے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ سننے والے ان کی کہانی سے متاثر ہوں اور انہیں مزید کہانیاں لکھنے کی ترغیب دیں، کیونکہ یہ ان کے دل کی خواہش ہے اور انہیں یقین ہے کہ سننے والے بھی اسے پسند کریں گے۔

Transcription

1010 Words, 4299 Characters

Urdu
میرا نام انکتا ہے اور میں ستنا کی رہے ہیں میری عمل اٹھائی سال ہے اور میں شادشدہ ہوں اب تک میری بچے نہیں ہے کیوں کی میری بطی کو بچے کہنے کا مانی نہیں ہے اور وہ زیادہ ترسا میں باری رہتے ہیں دیکھنے میں گوری ہوں اور میری ہائیٹ ہے پاچھ فٹھ چار انچ میرا فکر 32 34 36 اسے آپ لوگوں کو اندازہ لگ سکتا ہے کہ کیوں کیوں دوستوں یہ میری بہدی کہانی ہے تو امید کرتے ہیں کہ آپ لوگوں کو بہت بسان دائگی اب میں اپنے کہانی میں آتیوں میری کرمی میری بابوچی ملپسسور اممجی ساس اور میری دیوہ چیرے ہتے ہیں ان کے علاوہ میری پتی اور میں دو رہتے ہیں میری دیوہ ابھی بہت بہت بہت چاہتے ہیں اور کالج میں پڑھائ کر رہا ہے میری پتی ایک پریپٹ فٹھ میں مانجر ہے اور زیادہ ترسا میں ان کا باری بیتے ہیں جب میں شاہدی ہو کر یہاں آئیتے تب سے میری بڑے ارمانتے میں بہت بہت بہت رہتی تھے لیکن میری پتی کو اس بات سے زیادہ بھی فرٹنی پتہ تھے کیوں کہ وہ ہمیشہ کام کام اور کام ہی کرتے تھے اور اس کام کے چکھ کر میں کام دیف چوب چاپ رہتے تھے مجھے تو کبھی کبھی لکتا ہے کہ انہوں نے شاہدی مجھ سے بس گھر کی نوگرانی بناہ کی رکھنے گیے کی ہے اور جب من کیے ہے تب بسٹر میں دن کی بات ہے دو پہر کا سمیتہ اور بہبوچھے اور عمام کہی کسی قتھامی گئے ہوئے تھے ان لوگوں کو کیتنگہ تھے ان سب چیزوں کا بڑا شاک تھا ہر میں پس میں اور میری دے ور مانوں ہی تھے پہلے میں آپ لوگوں کو مانوں کے باتادوں کی اس کی ہم رہے بھی سال دیکھنی میک آفی ہانسر میں اور اس کی ہم رہے گیے اس کی ہم رہے ہیں ایک کنی میک آفی ہانسر میں اور اس کی شاہری رکھ بناورٹ بھی بہت کا سب کی ہے وہ کھر میں ہی قصرت کرتا ہے میں دن کی با کھانہ بنارے ہی اور مانوں نہ ہا دے ہوئے گیا تھا کھانی میں نمک دالنا تھا تو اس کا دبہ اوپہ رکھا ہوا تھا مجھے کھو نہیں پتا کہ کیسے کسی نے اتنی اوپہ رکھا ہوں گا جب میں سٹول کے اوپہ چڑ کر نمک کا دبہ نکال رہی تھے اور میں نیچر دھرام سے گیری اور میرے موسے چیکنگل گئی امہ آئے کینتہ دورہ ہے مر گئیری کوئی مدت کروں میری مانوں کا چل دی آ رہے ہو مانوں کھا ہوں چل دیا ہوں میں نے اس کو آوہاں سبھی لکائیں مانوں بھی چل دی چل دی میں چیٹی بھیہنہ بھول گیا شاہیت اور ٹیبہ لبیٹ کر کچھن میں آ گیا مانوں نے مجھے اٹھا دے ہوئے پوچھا کیا ہوئا بھا بھی تو میں نے کہا آج دیری بھا بھی مر گئی مانوں او او چھاہ چھاہ دی سے کمرے میں لے کا چھر مجھے بہت دہورایا مانوں اس نے مجھے دھرن ٹھایا اور مجھے کمرے میں لے گیا جیسی ہی اس نے مجھے بیٹ پر لٹایا تو ٹھایا میری کنگر میں فز گئی جیس پہ جیسے ٹھایا گھیا گیا میں نے اسے ٹھایا گیا اور کہا یہ لگا لے اور مجھے حسی آ گئی مانوں نے ٹھایا لبیٹ کر کہا بھا بھی اب حسکیور ہے میں نے کہا کچھ نہیں پھر اس نے کہا بھا بھی میں چینج کر کیا آتا ہوں میں نے کہا رکھ مد جا بھی سب سے پہلے کام کر کچھن میں جا گیس بند کر اور پھر میری پاس آ اس نے ٹھیک فیسہ ہی گیا فیٹ چا بھا آیا تو میں نے اسے کہا کہ دیکھ ٹھیکھے اوپر آئے رکھا ہوا ہے وہ زرہ میری کمر میں لگا کے مالیش کر دے اس نے کہا ٹھیکھے بھا بھی کر دیتا ہوں لیکن اس کے لئے آپ کو قفری او دارنے پڑیں گے میں نے کہا رکھ اس سے ممینے گاون پہنا ہوا تھا تو میں نے اسے کہا کہ ری دیکھ کرا ہے کرنا مالیش وہ شرن سے لال ہو رہا تھا میں نے اپنے نائیٹی ہوتا ہی اور براپانٹی میں اولٹی ہو کر لیگ گئی وہ اور بھی لال ہو گیا تو میں نے اسے کہا مالیش کر ابھی در دھرہ ہے تو کر دے مالیش درڈ گیا تو پہتا نہیں آگے کیا ہوں سکتا ہے اس نے میری کمر میں دے لگا کر مالیش کرنا چالو کیا تو میں نے شرین میں ایک ادھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھ مجھے اس کے ایسا کرنا بہتا چا لگ رہا تھا اور وہ بھی شاہد مجھے دیکھ کر بے حد کر مہ رہا تھا اسے لیے اس نے اپنی تول دیکھا لی اب وہ اچھے سے دونوں پہروں کو فیلہ کر میری بیچھے بیٹھ گیا اور مالیش کرنے لگا اس کے بعد اس نے کہا پہ بھی ابھی پہنٹی تھو ری نیچھے کرنے پڑے کی نہیں تو پہنٹی میں دیل لگے گا اسے میں نے صافید کر لر کی پہنٹی بھی نہیں ہوتے اور صافید رن کی پرا میں نے کہا رک میں پورا ہیوتا دیتی ہوں میں بہتا جادگہ ہوتے تھے پھر میں پٹھ ہو کر لیٹھ گئی اور وہ میری ہوت میں اپنے ہوت رکھر کسکہ نہیں لگا اور میں بھی اس کا پورا سات دی رہیتی کی سنگ میں مدھ ہو شہوتے ہوتے میں اتناک ہو گئی کہ میں پہتا ہی نہیں چلا کہ اب اقتکیتنا بیٹھ چکا ہے اور میں بڑا مزایا دوسطو تو آپ کو یہ کہاں کی اسے لگی یہ پہتا ہی نہ میں آپ کے فیٹ پیک کا انتظارہے گا فیٹ پیک دینگہ لیکن میں shortsaq hai, mersi baat aayi ki, mersi ek kahane aap ke kye silagi ki, ki, "Ei kahane aap, mersi kao inspair ket hai. Aap ke saad aur bhi ziada aur bhi ziada kary bhi banaay ka". Kahane aap ke saad sila aas hi jaadi rahe, yeh ito mersi dil ki kwaish hai. aur mersi malhoom hai ki, aap ke bi dili kwaish aap ko chikou chke kaam nahi hai, hmm, to, aas hi, mersi kaania saantir hai, aachidne dino tak, mehaaap ke liye, aur bhi nae kaania liye ke vapas naaachau, tapta ke liye, dos to, doaum hai yadrak na.

Podcast Summary

Key Points:

  1. انکتا اٹھائیس سالہ شادی شدہ خاتون ہیں جن کے شوہر کو بچے نہیں چاہیے۔
  2. وہ اپنے شوہر، ساس، دیور اور نند کے ساتھ رہتی ہیں۔
  3. شوہر زیادہ تر کام میں مصروف رہتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ تنہا محسوس کرتی ہیں۔
  4. ایک دن گھر میں صرف وہ اور اس کا دیور تھے، جب وہ گر گئی اور دیور نے اس کی کمر کی مالش کی۔
  5. مالش کے دوران ان کے درمیان جنسی کشش پیدا ہوئی اور وہ مباشرت میں مصروف ہوگئے۔
  6. انکتا چاہتی ہیں کہ یہ کہانی سننے والے ان کی خواہشات کو سمجھیں اور انہیں مزید کہانیاں لکھنے کی ترغیب دیں۔

Summary:

انکتا اٹھائیس سالہ خاتون ہیں جو ستنا میں رہتی ہیں اور ان کی شادی کو کچھ عرصہ ہوا ہے۔ ان کے شوہر کو بچے نہیں چاہیے اور وہ زیادہ تر کام میں مصروف رہتے ہیں، جس کی وجہ سے انکتا تنہا رہتی ہیں۔ ان کے گھر میں ساس، دیور اور نند بھی رہتے ہیں۔ ایک دن جب گھر میں صرف انکتا اور اس کا دیور تھے، وہ نمک کا ڈبہ نکالتے ہوئے گر گئی اور اس کی کمر میں چوٹ لگی۔ دیور نے اسے اٹھایا اور کمرے میں لے جا کر مالش کرنے لگا۔ مالش کے دوران ان کے درمیان کشش بڑھی اور وہ مباشرت میں مصروف ہوگئے۔ انکتا نے اس تجربے کو بہت اچھا بتایا اور کہا کہ وہ اس کے ساتھ مکمل طور پر شامل تھی۔ آخر میں انکتا نے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ سننے والے ان کی کہانی سے متاثر ہوں اور انہیں مزید کہانیاں لکھنے کی ترغیب دیں، کیونکہ یہ ان کے دل کی خواہش ہے اور انہیں یقین ہے کہ سننے والے بھی اسے پسند کریں گے۔

FAQs

انکتا کا نام ہے اور وہ ستنا میں رہتی ہیں۔ ان کی عمر اٹھائیس سال ہے اور وہ شادی شدہ ہیں۔

انکتا کے شوہر ایک پرائیویٹ فرم میں منیجر ہیں اور زیادہ تر کام میں مصروف رہتے ہیں۔

انکتا کے گھر میں ان کے شوہر، دیور، ساس، سسر اور نند رہتے ہیں۔ دیور کالج میں پڑھتا ہے۔

انکتا کو شادی کے بعد اپنے شوہر کی طرف سے توجہ نہیں ملتی تھی، کیونکہ وہ ہمیشہ کام میں مصروف رہتے تھے اور انہیں گھر کی نوکرانی سمجھا جاتا تھا۔

جب انکتا نمک کا ڈبہ لینے کے لیے اسٹول پر چڑھی تو وہ گر گئی اور ان کی کمر میں چوٹ لگی۔

انکتا کے دیور نے انہیں اٹھایا، کمرے میں لے گئے اور ان کی کمر پر تیل لگا کر مالش کی۔

Chat with AI

Loading...

Pro features

Go deeper with this episode

Unlock creator-grade tools that turn any transcript into show notes and subtitle files.