
قرآن کریم میں مچلی کا ذکر متعدد مقامات پر کیا گیا ہے، خاص طور پر حضرت یونس علیہ السلام کے واقعے میں۔ یونس علیہ السلام کو اللہ نے نینوہ کی قوم کی ہدایت کے لیے بھیجا، لیکن وہ لوگ بت پرستی پر قائم رہے اور ان کی دعوت کو مسترد کر دیا۔ مایوس ہو کر یونس علیہ السلام نے شہر چھوڑ دیا، مگر ان کے جانے کے بعد قوم نے عذاب کی علامات دیکھ کر توبہ کی اور اللہ نے رحمت فرمائی۔ دوسری طرف یونس علیہ السلام کشتی میں سوار ہوئے، لیکن سمندری طوفان آیا اور قرعہ اندازی کے بعد ان کا نام نکلا، جس پر انہیں سمندر میں پھینکا گیا۔ اللہ کے حکم سے ایک بڑی مچلی نے انہیں نگل لیا، اور مچلی کے پیٹ میں انہوں نے اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے دعا کی: "لا إله إلا أنت سبحانك إني كنت من الظالمین"۔ اللہ نے یہ دعا قبول کی، مچلی نے انہیں ساحل پر اگل دیا، اور وہ صحت یاب ہو کر اپنی قوم کی طرف لوٹ گئے، جہاں انہوں نے دیکھا کہ سب نے توبہ کر لی تھی اور اللہ نے انہیں معاف کر دیا تھا۔ یہ واقعہ صبر، توبہ اور اللہ کی رحمت کی اہمیت سکھاتا ہے۔