Go back

#1 Fish: Animals Mentioned in the Quran

4m 53s

#1 Fish: Animals Mentioned in the Quran

قرآن کریم میں مچلی کا ذکر متعدد مقامات پر کیا گیا ہے، خاص طور پر حضرت یونس علیہ السلام کے واقعے میں۔ یونس علیہ السلام کو اللہ نے نینوہ کی قوم کی ہدایت کے لیے بھیجا، لیکن وہ لوگ بت پرستی پر قائم رہے اور ان کی دعوت کو مسترد کر دیا۔ مایوس ہو کر یونس علیہ السلام نے شہر چھوڑ دیا، مگر ان کے جانے کے بعد قوم نے عذاب کی علامات دیکھ کر توبہ کی اور اللہ نے رحمت فرمائی۔ دوسری طرف یونس علیہ السلام کشتی میں سوار ہوئے، لیکن سمندری طوفان آیا اور قرعہ اندازی کے بعد ان کا نام نکلا، جس پر انہیں سمندر میں پھینکا گیا۔ اللہ کے حکم سے ایک بڑی مچلی نے انہیں نگل لیا، اور مچلی کے پیٹ میں انہوں نے اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے دعا کی: "لا إله إلا أنت سبحانك إني كنت من الظالمین"۔ اللہ نے یہ دعا قبول کی، مچلی نے انہیں ساحل پر اگل دیا، اور وہ صحت یاب ہو کر اپنی قوم کی طرف لوٹ گئے، جہاں انہوں نے دیکھا کہ سب نے توبہ کر لی تھی اور اللہ نے انہیں معاف کر دیا تھا۔ یہ واقعہ صبر، توبہ اور اللہ کی رحمت کی اہمیت سکھاتا ہے۔

Transcription

687 Words, 2926 Characters

Urdu
بسمل لہ رحمان رہیم ایسلام عليكم و رحمت اللہ و براکیاتی ہوں قرآن قریم میں کئی جانو روکہ ذکر ہے آج ہم بات کریں گے مچلی کے بارے میں لفس مچلی قرآن میں پاچھ مرتبہ پاچھ آیات میں آیا ہے اور دو آیات میں مچلی کا لفس نہیں آیا مگر اس کے گوش کو لحمان طریعین کہا جس کا مطلب ہے تازہ گوشتیا تندر میٹ اربی میں مچلی کو سمج کہتے ہیں اور قرآن میں حوت کا لفس استعمال ہوا ہے آج کے ساب سے حوت ویل کو کہا جاتا ہے بڑی مچلی کو قرآن ایک ماروف کسم آپ کو سناتی ہیں حزرت یونس علہی ہیسلام اور مچلی کا یونس علہی اس سلام کو اللہ تعالی نے شہر نینوہ کے ایک لags از آدہ لوگوں کی ہی دائیت کے لیر رسول بنا کر بھیجا یہ قام بھول چکی تھی کہ اللہ ایک ہے اور وہ بھت پرستی کرتی تھی یعنی ایسٹاچیوس کی ایبادت کرتی تھی یونس علہی اس سلام کا بھی تمام عمبیا کی طرح ایکی پہگام تھا کہ اللہ ایک ہے اس کا کوئی شریق نہیں مگر ان کے ساتھ بھی وہی بطسلوکی کی گئی جو ان سے پہلے کے انبیا کے ساتھ ہوئی لوگوں نے انے بھرہ بھلا کہا اور ان کی بات کو بلکل رجیقت کر دیا مگر وہ اپنی کوشش کرتے رہے یہاں تک کے انہوں نے کہا کہ کہ اگر تم لوگوں نے بوت پرستی نہ چھوڑی تو پیچلی کاموں کی طرح اللہ کا ازاب نہ زل ہوگا وہ اپنی کام سے بہت مائیوس ہوئے اور انے چھوڑ کر چلے گئے ان کے جاتے ہی ازاب کی علامات نظر آنے لگی ہر طرف گیرے کالے پادل چھانے لگے تو لوگ در گئے اور کہا کہ یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ یو سو والے یہ سلام نے کبھی جھوڑ نہیں بولا اور یہ نہ ہو کہ یہ واقعی اللہ کا ازاب ہو ہم اجاہی کہ ہم اللہ سے توبہ کریں اور یہ واہت کام ہے جس نے اللہ سے رو رو کر توبہ کی اور اللہ نے توبہ کو بول کر لی اور ان پر آیا ہوا ازاب واپس لیے۔ دوسری طرف یونسالی اسلام کو تو نہیں پتا تھا کہ پیچے کیا ہوا وہ تو شہر چھوڑ کرے کشتی میں سوار ہو گے ایک رات سمنڈری توفان نے گھیلیا اور کشتی دوبنے لگی تو فیسلہ یہ ہوا کہ ایک آدمی کو سمنڈر میں پھیکنا ہوگا تاکھے کشتی کا وزن حلکہ ہو جائے ایک روائیت کہتیے کہ یہ اس وقت کا اسول تھا کہ جبی ایسی مشکل پیشائے گی اور کشتی دوبنے لگے گی تو قرآن دازی کر کے یا پرچھیا دال کر جس شخص کا نام آئے گا پرچھی میں اسے سمنڈر میں پھیک دیا جائے گا۔ پہلی دفا یونسالی اسلام کا نام آیا مگر جو کشتی میں سوار باقی لوگ تھے وہ جانتے تھے کہ یونسالی اسلام ایک نیک شخص ہے تو نہوں نے فیسلہ کیا کہ ایک دفا پھر سے قرآن دازی کرتے ہیں پر دوسری دفا بھی یونسالی اسلام کا نام نکل آیا اور جب تیسری دفا ان کا نام نکل آیا تو یونسالی اسلام سمج گئے کہ یہی اللہ کی رزا ہے اور اسلی بھی کیوں کہ وہ اللہ کی جازت کے بغیر اپنے لوگوں کو چھڑ کر آ گئی تھے اور اللہی کے حکم سے یونسالی اسلام کو ایک بڑی مچلی یا ویل نے نکل لیا جس طرام کہتے نیوالہ نکل لیا یعنی بغیر چبائے گلے سے اُتار لیا تو بس اسی طرحہ مچلی نے بھی یونسالی اسلام کو نکل لیا اور یونسالی اسلام مچلی کے پیٹ میں کھوب اندھر میں رہے اور یہی پر انہوں نے وہ دوہ کی جو ان کے نام سے منصوب ہے لا ایلہ ہے اللہ انت سبحانك ہے انی کنتم میں نوالیمین ارجمہ تیرسیوہ کوئی بادت کے لائیک نہیں یقینن میں زالیموں میں سے ہوں اللہ تعالیہ نے ان کی دواز حنلی اور مچلی نے انہیں میدان میں اگل دیا وہ وہاں سے ہتیاب ہونے تک رہے اور واپی سپنے شہر گئے جہاں انہیں پتہ چلا کہ ان کے کام نے توتوبہ کرلی تھی اور اللہ نے انہیں ماف کر دیا تھا تو یہ تھا زکر مچلی کے ایک کسے کا پر آنے کریم میں سے میران ملک جزاقم اللہ

Podcast Summary

Key Points:

  1. قرآن کریم میں مچلی کا ذکر کئی آیات میں آیا ہے، جیسے لفظ "حوت" پانچ مرتبہ اور دو آیات میں "لحمًا طریًا" (تازہ گوشت) کے طور پر۔
  2. حضرت یونس علیہ السلام کو اللہ نے نینوہ کے لوگوں کی ہدایت کے لیے رسول بنا کر بھیجا، لیکن انہوں نے بت پرستی نہ چھوڑی اور ان کی دعوت کو رد کر دیا۔
  3. یونس علیہ السلام مایوس ہو کر شہر چھوڑ گئے، لیکن ان کے جانے کے بعد لوگوں نے عذاب کی علامات دیکھ کر توبہ کی اور اللہ نے عذاب ٹال دیا۔
  4. یونس علیہ السلام کشتی میں سوار ہوئے، طوفان آیا اور قرعہ اندازی کے بعد ان کا نام نکلا، انہیں سمندر میں پھینکا گیا۔
  5. اللہ کے حکم سے ایک بڑی مچلی (ویل) نے انہیں نگل لیا، اور انہوں نے مچلی کے پیٹ میں دعا کی: "لا إله إلا أنت سبحانك إني كنت من الظالمین"۔
  6. اللہ نے ان کی دعا قبول کی، مچلی نے انہیں ساحل پر اگل دیا، اور وہ اپنی قوم کی طرف لوٹ گئے جہاں سب نے توبہ کر لی تھی۔

Summary:

قرآن کریم میں مچلی کا ذکر متعدد مقامات پر کیا گیا ہے، خاص طور پر حضرت یونس علیہ السلام کے واقعے میں۔ یونس علیہ السلام کو اللہ نے نینوہ کی قوم کی ہدایت کے لیے بھیجا، لیکن وہ لوگ بت پرستی پر قائم رہے اور ان کی دعوت کو مسترد کر دیا۔ مایوس ہو کر یونس علیہ السلام نے شہر چھوڑ دیا، مگر ان کے جانے کے بعد قوم نے عذاب کی علامات دیکھ کر توبہ کی اور اللہ نے رحمت فرمائی۔ دوسری طرف یونس علیہ السلام کشتی میں سوار ہوئے، لیکن سمندری طوفان آیا اور قرعہ اندازی کے بعد ان کا نام نکلا، جس پر انہیں سمندر میں پھینکا گیا۔ اللہ کے حکم سے ایک بڑی مچلی نے انہیں نگل لیا، اور مچلی کے پیٹ میں انہوں نے اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے دعا کی: "لا إله إلا أنت سبحانك إني كنت من الظالمین"۔ اللہ نے یہ دعا قبول کی، مچلی نے انہیں ساحل پر اگل دیا، اور وہ صحت یاب ہو کر اپنی قوم کی طرف لوٹ گئے، جہاں انہوں نے دیکھا کہ سب نے توبہ کر لی تھی اور اللہ نے انہیں معاف کر دیا تھا۔ یہ واقعہ صبر، توبہ اور اللہ کی رحمت کی اہمیت سکھاتا ہے۔

FAQs

قرآن کریم میں مچھلی کا لفظ پانچ مرتبہ پانچ آیات میں آیا ہے، اور دو آیات میں مچھلی کا لفظ نہیں آیا مگر اس کے گوشت کو 'لحمًا طریًا' کہا گیا ہے۔

قرآن میں مچھلی کے لیے 'حوت' کا لفظ استعمال ہوا ہے، جسے آج کل بڑی مچھلی یا ویل کہا جاتا ہے۔

حضرت یونس علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے شہر نینوہ کے لوگوں کی ہدایت کے لیے رسول بنا کر بھیجا تھا، جو بت پرستی کرتے تھے۔

حضرت یونس علیہ السلام کی قوم نے ان کی بات کو بالکل رد کر دیا اور انہیں برا بھلا کہا، جس پر وہ بہت مایوس ہو گئے۔

حضرت یونس علیہ السلام کے جانے کے بعد عذاب کی علامات ظاہر ہونے لگیں، تو لوگوں نے توبہ کی اور اللہ نے ان کی توبہ قبول کر کے عذاب واپس لے لیا۔

کشتی میں سوار ہونے کے بعد طوفان آیا اور قرعہ اندازی ہوئی جس میں تین بار یونس علیہ السلام کا نام نکلا، تو انہیں سمندر میں پھینک دیا گیا اور اللہ کے حکم سے ایک بڑی مچھلی نے انہیں نگل لیا۔

Chat with AI

Loading...

Pro features

Go deeper with this episode

Unlock creator-grade tools that turn any transcript into show notes and subtitle files.